اب عمران خان کی باری

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
تقریبا ایک ماہ کے بعد حنیف عباسی کی عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ غیرملکی فنڈنگ معاملے پر تحریک انصاف کے وکیل انور منصور پیش نہ ہوئے تو چیف جسٹس کو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے بتایاکہ انور منصور چھٹیوں پر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا، تو کیا پھر ہم یہ مقدمہ تین چار ہفتوں کیلئے ملتوی کردیں؟۔ تحریک انصاف کو دوسرے وکیل کا بندوبست کرنا چاہیے تھا، ہم نے اس مقدمے کو چلانا ہے۔ نعیم بخاری بولے کہ وہ صرف عمران خان کی نمائندگی کرتے ہیں، تحریک انصاف کی جانب سے انور منصور جواب دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ہم عمران خان کو ہی بلا لیتے ہیں وہ پارٹی اوراپنی ذات دونوں کیلئے جواب دہ ہیں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، انور منصور دونوں درخواستوں پر تحریری جواب دے کر بھی نہیں گئے۔ نعیم بخاری نے کہاکہ اگر عدالت کہے تو وہ ان کی جانب سے تحریری جواب جمع کراسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ صرف تحریری جواب تو نہیں دلائل بھی دینا ہوتے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ وکلاء کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر عدالت کی معاونت کرنی ہے جبکہ غیرملکی فنڈز پر نیب یا ٹیکس قوانین کے لاگو ہونے پر بھی قانونی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ کچھ سوالات کے ابھی تک جواب نہیں ملے۔چیف جسٹس نے کہاکہ بددیانتی کے ایشو پر بھی عدالت کو قانونی معاونت فراہم کی جائے۔ انور منصور کا پیش نہ ہونا انتہائی افسوس ناک ہے، ہمیں مناسب معاونت فراہم کی جائے۔
اس کے بعد عدالت کی ہدایت پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ غیرملکی فنڈز کا معاملہ تحریک انصاف کا ہی ایک کارکن کمیشن کے سامنے لے کر آیا، اور یہی کیس اب حنیف عباسی سپریم کورٹ لے کر آئے ہیں، تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سماعت کے اختیار کو چیلنج کیا تھا لیکن کمیشن نے مقدمہ سننے کا اختیار ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا صوابدیدی اختیار ہے کہ اس کیس کو انکوائری کیلئے الیکشن کمیشن کے پاس بھیجیں، اس بارے میں دونوں فریقوں سے رائے لے چکے ہیں لیکن قانون کو بھی دیکھناہے۔وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ کو اس کا اختیارہے مگر ہم یہ استدعا کریں گے کہ الیکشن کمیشن کو اس کیس کیلئے عام کمیشن نہ بنایاجائے کیونکہ آئینی ادارہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ ہمارے ذہن میں ہے کہ ہم نے اس معاملے پر کیا کرناہے۔ وکیل نے کہاکہ ہمیں سپریم کورٹ کے اختیار کے قانون پر کوئی اعتراض نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر کوئی جماعت بنائی ہی غیرملکی فنڈز سے گئی ہو تو اس کے خلاف شکایت کہاں ہوگی؟ الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیاکہ وزارت داخلہ ایسی پارٹی کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ وکیل نے کہاکہ اگر درخواست گزار اپنا کیس ثابت کردے تو الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے فنڈز ضبط کرلے گا، تحریک انصاف کے خلاف غیرملکی فنڈز کی درخواست دوہزار چودہ میں آئی تھی مگر اعتراضات کی وجہ سے آج تک فیصلہ نہیں کیاجاسکا، اب کمیشن نے فیصلہ کرلیاہے کسی کو بھی اعتراض ہوگا تو عدالت سے رجوع کرلے۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ قانون میں اثاثوں کے گوشواروں پر اعتراض یا ان کا جائزہ لینے کیلئے الیکشن کمیشن کو وقت کی حدود کا پابند ہی نہیں کیا گیا تو وہ جب چاہے کیس کھول سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ کیا کسی شکایت پر یا بغیر شکایت کے معلومات ملنے پر بھی الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کی بے قاعدگی کاجائزہ لے سکتاہے؟۔ وکیل بولے کہ الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں نے بھی کمیشن کو مزید بااختیار کیاہے۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ سیاسی جماعتیں جلسوں پر کروڑوں خرچ کرتی ہیں مگر الیکشن کمیشن کارروائی نہیں کرتا۔ وکیل نے کہاکہ سیاست دان ہی حکمرانی کرتے ہیں اور انہوں نے ہی الیکشن کمیشن تشکیل دینا ہوتا ہے اور وہی قوانین بھی بناتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عطیات کی تفصیل جمع کرانے کارواج ہی نہیں ہے، وکیل نے کہاکہ جہاں ملک بھی دیگر بہت سی چیزیں اب کھولی جارہی ہیں تو عدالت اس معاملے پر بھی فیصلہ دے دے ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت یہ نہیں مانے گی کہ اس نے غیر ملکی فنڈز لیے۔ وکیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے غیرملکی فنڈز کی درخواست کے ساتھ دستاویزات اور رسیدیں بھی لگائی گئی ہیں، کمیشن انکوائری کرناچاہتا ہے مگر ہمیں نہیں کرنے دیاجاتا۔ اگر کوئی جماعت غیرملکی فنڈز سے الیکشن لڑے گی تو انتخابات کیسے شفاف ہوں گے۔ وکیل نے کہاکہ پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی گزرچکا ہے لیکن اب آخرکار الیکشن کمیشن نے اپنے اختیار کا استعمال کرکے کارروائی شروع کی ہے تو دوسال سے رکاوٹ کھڑی کی جارہی ہے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ اگر بیس میں سے ایک شخص کو صفائی کیلئے کلینر لے کر جائیں گے تو پھر مسئلہ تو ہوگا، الیکشن کمیشن ایسا طریقہ اپنائے کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو سکے، الیکشن کمیشن کئی سال تک سویا رہا۔ وکیل نے کہاکہ اگر امیدوار کیلئے دیانتداری کی شرط ہوسکتی ہے تو پارٹی کیلئے بھی ہونا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جانب سے ٹیکس قوانین کی وضاحت کیلئے پیش کیے گئے ٹیکس قوانین کے ماہر اکاﺅنٹنٹ نے کہاکہ پاکستان میں آج تک ٹیکس کے کل تین قوانین لاگو رہ چکے ہیں، پہلا انیس سو بائیس کا اور دوسرا انیس سو اسی کا قانون ہے، تیسرا آرڈی ننس دوہزار ایک میں لایا گیا جو آج بھی نافذالعمل ہے۔ ٹیکس قوانین کے تحت شہریوں کو دو درجوں میں تقسیم کیاگیاہے ، ایک رہائشی اور دوسرے غیر رہائشی پاکستانی۔ ایک سو تراسی دن سے کم پاکستان میں رہنے والے شخص کو غیر رہائشی مانا جائے گا،اور اس پر قانون کے مطابق غیرملکی اثاثے ظاہرکرنے کی پابندی یا ان پر ٹیکس ادا کرنے کا اطلاق نہیں ہوگا۔چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی شخص کو اپنے اثاثوں کے بارے میں ٹیکس حکام کو مطمئن کرنا ضروری ہے، قانون کے مطابق پانچ سال بعد کسی سے پرانے اثاثوں کا دریافت نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص ڈرگ کی کمائی سے اثاثے بناتا ہے اور پندرہ برس بعد معلومات ملتی ہیں تو کیا ہوگا؟۔ اکاﺅنٹنٹ نے کہاکہ یہ قانون کی کتاب تو یہی کہتی ہے کہ کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ پانچ سال کا وقت مقرر ہے۔ البتہ حال ہی میں ایک ترمیم کے یہ تبدیلی کی گئی ہے کہ جس شخص نے زندگی میں کبھی ٹیکس گوشوارے نہ جمع کرایاہو اس سے گزشتہ دس برس تک کے اثاثوں کا پوچھا جاسکتاہے۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ قوانین ہی ایسے ہیں کہ ٹیکس نہ دینے والاتو بچ سکتاہے مگر ٹیکس دینے والے کو جرمانہ ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ماضی میں ایک وکیل ایسے بھی تھے کہ صرف اس وقت ٹیکس دیتے جب نوٹس آجاتا، اور اس کا فائدہ یہ تھاکہ جتنی رقم نوٹس میں لکھی ہوتی ادا کرلیتے تھے۔
چیف جسٹس نے عمران خان کے تمام انکم اور ویلتھ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کیلئے کہاتو وکیل نعیم بخاری بولے کہ عمران خان اس وقت کسی عوامی عہدے پر نہیں تھے، جسٹس عمرعطا نے کہاکہ عبدالعزیز میمن کیس میں سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے جس کے بعد عوامی عہدے دار نہ ہونے پر بھی ٹیکس گوشواروں کا پوچھا جاسکتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اصول سب پر لاگو ہوگا، کرکٹ سے کمائی گئی رقم کو بھی ثابت کرنا ہوگا اور لندن فلیٹ خریداری کی دستاویزات بھی دکھاناہوں گی۔ عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button