پاکستان

ڈیڑھ ملین ڈالر کی پرتعیش فوجی گاڑیاں

جولائی 14, 2017 < 1 min

ڈیڑھ ملین ڈالر کی پرتعیش فوجی گاڑیاں

Reading Time: < 1 minute

پاکستان کی بحری فوج نے وزیراعظم کی منظوری کے بغیر ڈیڑھ ملین ڈالر کی بیالیس لگژری گاڑیاں درآمد کیں، آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں اعتراض اٹھایا کہ سنہ دوہزار گیارہ میں نیوی کیلئے چالیس لینڈ کروزر اور دو بی ایم ڈبلیو سیڈان بیرون ملک سے درآمد کی گئیں اور ان کی مالیت پندرہ لاکھ ڈالر تھی، یہ گاڑیاں اس وقت منگوائی گئیں جب لگژری گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد تھی اور وزیراعظم سے بھی منظوری نہیں لی گئی تھی۔ وزارت دفاعی پیداوار کی آڈٹ رپورٹ برائے سال دوہزار تیرہ چودہ کی اسکروٹنی کے دوران یہ بات سامنے آنے پر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا کہ کابینہ نے سنہ دوہزار سات سے پرتعیش گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پابندی کے دوران اس طرح کی گاڑیاں صرف وزیراعظم کی منظوری سے ہی منگوائی جاسکتی تھیں لیکن معلوم ہوا کہ متعلقہ سروسز چیف سے اجازت لی گئی۔ کابینہ نے بچت پالیسی کے تحت پرتعیش گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔ پارلیمان کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے آڈٹ پیرا کے اعتراض پر نیوی حکام سے مﺅقف طلب کیا تو نیوی کی خریداری کے شعبے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ انہوں نے ان گاڑیوں کی درآمد کیلئے کابینہ ڈویژن سے پابندی ہٹانے کیلئے لیٹر حاصل کیا تھا جس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ نے نیوی کی گاڑیوں کی درآمد پر آڈٹ اعتراض ختم کر دیا۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے