کونسی جمہوریت کیسا آئین

کونسی جمہوریت اور کیسا آئین؟ کس جمہوریت کو خطرہ ہے اور کون سے آئین کی بالادستی ثابت ہو رہی ہے؟ کونسی آزاد عدلیہ کس کے احتساب سے کہاں کی عمدہ مثال قائم کر رہی ہے؟ جس ملک میں آرمی چیف کی برطرفی پر حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے اور احتساب کے نام پر نو سال تک حکومت پر فوج کا قبضہ ہو اور اس فوجی حکمران کے لیے انصاف کے ”ترازو دار“ آئینی جواز گھڑنے میں پیش پیش ہوں اس ملک میں ایک وزیر اعظم اور اسکے خاندان کا احتساب ایک ڈرامہ نہیں تو کیا ہے۔ دس دس لاکھ کی تنخواہ اور ماہانہ مراعات لینا اور پھر اس تنخواہ کو استعمال کرنے کے لیے زندہ رہنا بھی اب ضروری ہو گیا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر مٹھی بھر کوڑے کو اِدھر ادھر اچھال دینے سے صفائی نہیں ہو جاتی۔اپنی تنخواہوں اور مراعات کو حلال ظاہر کر دینا آج سے پہلے اتنا آسان کبھی بھی نہیں تھا۔ جس کو جمہوریت کہا جاتا ہے در اصل آمریتی قوتوں کا یرغمال وہ نظام ہے جس میں ووٹوں سے منتخب حکومت اور وزیر اعظم کے خلاف سازش، پراپیگنڈا اور نفرت انگیز مہم کو قومی فریضہ سمجھ کر آج بھی چلایا جا رہا ہے۔ کسی بھی سیاسی حکومت کو بھی وہ اختیار ہی نہ ملا جس کے استعمال پر عوام نے انکی جواب طلبی کرنا تھی۔ با اقتدار اور بے اختیار سیاسی حکومتوں کو خفیہ اداروں اور خفیہ فنڈنگ کے ذریعے توڑنے اور جوڑنے کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جن کاروائیوں کو سیاسی سرگرمیاں سمجھ کر ”سیاسی سیل“ کے ذمے لگایا گیا تھاکیا آج وہ کاروائیاں ”سیاسی سیل“ بند ہونے کے باوجود پورے ادارے کی پالیسی نہیں بن چکی؟ جس وزیراعظم کے احتساب پر بڑے فخر سے آئین کی بالادستی کے دعوے کیے جارہے ہیں وہ وزیر اعظم تو بیچارہ آج تک یہ نہیں طے کر پایا کہ ایک آرمی چیف کو صوفے پر بٹھا نا ہے یا ٹیبل کے پار ایک کرسی پر۔ اس نام نہاد جمہوریت میں ایک ٹویٹ کے ذریعے وزیراعظم کے ایک فیصلے کو سر عام ”مسترد“ کرکے منتخب حکومت کے منہ پر جو تھپڑ رسید کرتا ہے اور پھروہ تھپڑ ”واپس لینے“ کا اعلان کرتا ہے، یہ جمہوریت تو اس کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ سابق فوجی حکمران جنرل مشرف آئین سے سنگین غداری کے مقدمے سے بھگوڑا ہو کر لندن میں بیٹھ کر بیان دیتا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان میں طاقت ور کا بھی احتساب ہو سکتا ہے اس سے بڑا مذاق کیا ہو گا۔ یہ وہی بھگوڑا ملزم ہے جو ایک انٹرویو میں بڑی ڈھٹائی سے اعتراف کرتا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے بطور آرمی چیف اسے پاکستان سے بھاگنے میں مدد کی تھی۔ تو یہ ہے ”طاقت ور“ کا احتساب۔ جنرل مشرف سے کوئی پوچھے کہ اگر ایک وزیراعظم اتنا ”طاقت ور“ ہوتا تو کیا آج اسکے اور اسکے ساتھیوں کے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ترکی کے عوام نے باغی فوجیوں کے ساتھ کیا تھا؟
آج پانامہ کیس وہی کچھ ہو رہا ہے جو آج سے پہلے سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ٹرائل میں بھی جائے وقوعہ پر گولیوں کے خول فیڈرل سکیورٹی فورس کے اسلحے سے میچ تو کر گئے تھے۔ آج بھی وعدہ معاف گواہان کے بیانات اور اس وقت کی ”کینگرو عدالتوں“ کے ریکارڈ کی جلدیں بنائی جائیں تو وہ بھی دس بارہ جلدیں بن جائیں گی۔ وہ کینگروں عدالتیں بھی فوجی حکومت کی یرغمال تھیں۔ براہ راست ٹیلی فون پر ہدایات لی جاتی تھی۔ آج کل کے جدید دورمیں محض اشارے ہی کافی ہوتے ہیں۔ عام عوام سے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر اب اعلی عدلیہ کے معزز اراکین احتجاجی فل کورٹ اجلاس تو بلانے سے رہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج جناب جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کے اغوا اور اس کی بازیابی کی کہانی لاپتہ افراد کے المیے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں لگتی۔ جس طرح غریب خاندانوں کے لخت جگر بازیاب ہو کر چپ سادھ لیتے ہیں اسی طرح ایک منصف کو بھی اپنے فرزند کی بازیابی پر خاموش رہنا پڑتا ہے۔ یوں دوسروں کے لیے نشانیاں ہو جاتی ہیں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی طاقت ور وزیراعظم کے احتساب کی اور ان تنخواہوں اور مراعات کی جن میں سوئس مقدمات کے ملزم اور اس وقت کے ریاست کے سربراہ جناب صدر آصف علی زرداری نے بار بار اضافہ کیا تھا۔ اب اتنی مراعات کے ساتھ لاپتہ افراد کے معاملے پر ایسی جے آئی ٹی نہیں بن سکتی تو پھر کچھ کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ ایسا کرنا تو ضروری ہے نہ تاکہ ایک ہنگامہ ہو، مکالمے ہوں ٹی وی اور اخبارات میں شور برپا ہو جس سے یہ ثابت ہو سے کہ پاکستان میں ”طاقت ور“ کا بھی احتساب ہو سکتا ہے اس کے لیے ایک پاکستانی وزیر اعظم سے زیادہ آسان ہدف اور کون ہو سکتا ہے۔ وہ وزیر اعظم جو پہلے ہی ”غیر سیاسی“ اور غیر جمہوری قوتوں کا ایک ہدف ہے۔ وہ قوتیں جو عمران خان صاحب سے ملاقاتیں کر کے اور معنی خیز ٹویٹوں کے ذریعے یہ اشارے دیتی رہی اس کہ ان کی منشا کیا ہے۔ایسی رپورٹوں کو تاریخ میں اسی طرح یاد کیا جائے گا جس طرح بھٹو کی پھانسی، طیارہ سازش کیس یا جاوید ہاشمی کو فوجی عدالت سے سزا کو آج یاد کیا جاتا ہے۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کی مشرف کی بغاوت کے حق میں فیصلہ دینے والے چیف جسٹس ارشاد حسن خان تو اپنے فیصلے پر اتنے نازاں تھے کہ اپنے امریکی دورے میں وہ اس فیصلے کی کاپیاں تقسیم کرتے پائے گئے۔ اس طرح انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے تک پانچ سویلین حکومتوں کو کرپشن الزامات میں برطرفی کے باوجود بھی ”طاقت وروں“ کے احتساب کی وہ مثال بعد میں قائم نہ ہو سکی جس کا حوالہ ایک فوجی آمر آج باہر بیٹھا دے رہا ہے۔ الزامات اور ثبوت تو اس وقت بھی شاید اتنے کمزور نہیں تھے اور عدالتی فیصلوں نے مجموعی طور پر ان کی تصدیق بھی کی تھی۔ وجہ صاف ہے کہ جب تک احتساب کا حق عوام پاکستان کو نہیں دیا جائے گا۔ یہ احتساب یکطرفہ اور متعصبانہ ہی کہلائے گا۔ قانون کا رعب لاپتہ افراد کے مقدمات میں بھی دکھانا ہوگا۔ بدقسمتی سے اس ملک کو تحفظ اور انصاف دینے والے موسیقی اور شعر و شاعری میں دلچسپی لینا شروع ہو گئے ہیں۔ اے پی ایس کے بچوں کے قتل عام میں غفلت کے ذمے داروں کے احتساب کے وقت ہمارے آئین اور قانون کی بالادستی کو چپ لگ جاتی ہے۔ موسیقی سے دشمنوں کو طعنے مارے جاتے ہیں کہ ”بڑا دشمن بناپھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے“ اسی طرح انصاف کے ترازو کو طعنہ بنا کر ایک اور دھن ترتیب دی جاتی ہے اور نظم کو اعلٰی ترین عدلیہ کی دیوار پر آویزاں کر دیا جاتا ہے۔ انگریزی میں ”جسٹس فار آل“ اور اردو میں ”انصاف سب کیلئے“۔ موسیقیت اور شاعری کے اس جنون میں ایک وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو خلیل جبران کی نظم ۔ "Pity the Nation”
کی پیروڈی کرتے ہوئے گھر بھیج دیا جاتا ہے اور اسی قلم سے دوسرے وزیر اعظم نواز شریف کی ایک ناول کے کردار ”گاڈ فادر“ سے تشبیہ دے کر فارغ کرنے کے لیے اختلافی رائے دی جاتی ہے۔ ماضی میں وزیر اعظموں کو تو فوجی آمر بھی ہتھکڑیاں لگاتے رہے اور انکے گماشتے بھی۔ یہ دونوں کردار ریٹائرمنٹ کے بعد بڑے سکون سے اپنی پنشن اور مراعات کے ساتھ پاکستان میں رہتے ہیں کیونکہ ہمارے سابق ججوں اور سابق جرنیلوں کی نہ تو کبھی جان کو خطرہ ہوا ہے اور نہ ہی انہیں ( ما سوائے مشرف کے )جلا وطن ہوناپڑتا ہے۔کون کہتا ہے کہ احتساب طاقت ور کا ہو سکتا ہے۔ کون کہتا ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کسی وزیر اعظم کے احتساب سے ثابت ہو جائیگی۔ ہمت ہے تو کسی فوجی آمر کا احتساب کریں۔ کرپشن کے ثبوت تو بہت مل جاتے ہیں مگر کچھ فیصلے عوام کی عدالت پر بھی چھوڑ دینے چاہیے۔ محض سیاستدانوں کے خلاف پچیس سال پرانی مبینہ کرپشن کے فیصلے عوامی عدالت میں ہی کیے جانے چاہیں۔ آج کسی ناول کا اردو ترجمہ تو بک گیا مگر شاہ فیصل مسجد میں دفن ایک فوجی آمر کی ویران قبر بھی ایک نشان عبرت کی مانند موجود ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے