عورت؛ عشق اور لطیف

اعجاز منگی

اس نے پوچھا’’شاہ لطیف کون تھا؟‘‘
میں نے کہا ’’دنیا کا پہلا فیمینسٹ شاعر‘‘
اس نے پوچھا ’’کس طرح۔۔۔!؟‘‘
میں نے کہا ’’اس طرح کہ :
وہ جانتا تھا کہ عورت کیا چاہتی ہے؟
اس سوال کا جواب ارسطوبھی نہ دے پایا
اس لیے علامہ اقبال نے کہا تھا:
’’ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا
پھر بھی یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں‘‘
دنیا کے سارے دانشور اور شاعر کہتے رہے کہ
’’عورت ایک مسئلہ ہے‘‘
اس حقیقت کا ادراک صرف لطیف کو تھا کہ
’’عورت مسئلہ نہیں
عورت محبت ہے!‘‘
مگر وہ محبت نہیں
جو مرد کرتا ہے!
مرد کے لیے محبت جسم ہے
عورت کے لیے محبت جذبہ ہے
مرد کی محبت جسم کا جال ہے
عورت کی محبت روح کی آزادی ہے
مرد کی محبت مقابلہ ہے
عورت کی محبت عاجزی ہے
مرد کی محبت ایک پل ہے
عورت کی محبت پوری زندگی ہے
مرد کی محبت ایک افسانہ ہے
عورت کی محبت ایک حقیقت ہے!
سارے شعراء شیکسپےئر سے لیکر شیلے تک
اور ہومر سے لیکر ہم تم تک
سب یہ سمجھتے رہے کہ عورت معشوق ہے
صرف شاہ کو معلوم تھا کہ عورت عاشق ہے
اس لیے شاہ لطیف نے لکھا:
’’عورت عشق کی استاد ہے‘‘
سب سوچتے رہے کہ
’’آخر عورت کیا چاہتی ہے؟
تخت؛ بخت اور جسم سخت!؟‘‘
شاہ عبدالطیف کو علم تھا کہ
’’عورت کو محبت چاہیے
نرم و نازک گرم و گداز
جسم سے ماورا
جنس سے آزاد‘‘
مرد جسم میں کے جنگل میں
بھٹکتا ہوا ایک بھوکا درندہ ہے
عورت روح کے چمن میں
اڑتی ہوئی تتلی ہے
جو پیار کی پیاسی ہے
مرد کے لیے محبت بھوک
اور عورت کے لیے پیار
ایک پیاس ہے!
صرف لطیف جانتا تھا
عورت کے ہونٹ ساحل ہیں
اور اس کا وجود ایک سمندر ہے
آنکھوں سے بہتے ہوئے
اشکوں جیسا سمندر
جو نمکین بھی ہے
اور
حسین بھی ہے!!
جس میں تلاطم ہے
جس میں غم ہے
جس میں رنج نہیں
صرف اور صرف الم ہے!!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے