اثاثے کس کے ہیں

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
نو بجے سے کمرہ عدالت میں موجود سینکڑوں وکیل اور صحافی ہنسی مذاق میں مصروف تھے، شور اس وقت تھما جب ساڑھے نو بجے جج عقبی دروازے سے عدالت میں داخل ہوئے۔ ہرکارے نے مقدمے کا نمبر پکارا تو وکیل خواجہ حارث روسٹرم پر آئے۔ آغاز کرتے ہوئے وکیل نے کہاکہ گزشتہ روز تفتیشی ٹیم کے سامنے دیاگیا وزیراعظم کابیان پڑھاتھا جس کا مقصد یہ تھاکہ انہوں نے اپنے تمام اثاثے اور ذرائع آمدن گوشواروں میں ظاہر کیے ہیں، تفتیشی ٹیم نے اس کے علاوہ ان کے سامنے کوئی دستاویز رکھ کر سوال نہیں کیا، پھر نیب قانون کے سیکشن نو اے پانچ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر کسی شخص کے اثاثوں سے کوئی دوسرا فائدہ اٹھائے یا اس کو فائدہ ملے تو اصل مالک پر مقدمے کی صورت میں فائدہ اٹھانے والے کو بھی ملزم قرار نہیں دیا جا سکتا۔جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ اس کیلئے قانون کی متعلقہ شقوں کو دیکھنا اور ان کی تشریح پر بھی نظر ڈالنا ہوگی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ قانون میں اثاثوں کے مالک اور جس کے قبضے میں ہوں اس کا واضح ذکر ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ بھی ہو سکتاہے کہ فائدہ اٹھانے والا اثاثوں کا بے نامی مالک ہو۔ وکیل نے کہاکہ احتساب قانون کے تحت ہی اثاثوں کے معاملے کو دیکھا جائے گا۔ جسٹس عظمت مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم سمجھ گئے آپ کیا کہہ رہے ہیں،مطلب ہے کہ مری میں اگر کسی کا فلیٹ ہے اور کسی دوسرے نے وہاں رہائش رکھ بھی لی تو اگر فلیٹ کے مالک کے خلاف نیب قانون کے تحت کارروائی ہوتی ہے تو وہاں رہائش رکھنے والا ملزم نہیں ہوسکتا۔ وکیل نے کہا کہ مزید مثال دے کر سمجھا سکتا ہوں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ مزید مثالیں دینے کی ضرورت نہیں۔ وکیل نے کہاکہ یہ کیس مختلف نوعیت کاہے کیونکہ اثاثے فریق اول (وزیراعظم) کے نام نہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ کیس اصل میں نوے کی دہائی کے اثاثوں کا ہے کہ جس کے نام ہیں اس کے پاس کن ذرائع سے آئے، باقی چیزیں واضح ہیں صرف جائیداد خریداری کے ذرائع دیکھناہیں، گزشتہ روز آپ نے حدیبیہ پیپرز ملز پر دلائل دیے تھے، وہ تمام باتیں لکھ لی ہیں اب دیگر ایشوز پر قانونی معاونت کریں۔ وکیل نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد تمام پرانے معاملات پر سماعت مکمل ہوچکی ہے، اس لیے خود کو تفتیشی رپورٹ اور اس میں دیے گئے دستاویزات تک محدود رکھوں گا۔ ایسی کوئی دستاویز نہیں کہ وزیراعظم نے اپنی جائیداد کسی اور کے نام رکھی ہو۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ہم سمجھ گئے ہیں کیونکہ نیب قانون میں ایک سقم رہ گیاہے، لیکن اس سے بے نامی دار کی تشریح بدل نہیں جاتی۔وکیل نے کہاکہ رپورٹ میں لندن فلیٹوں کو شریف خاندان کی ملکیت بتایا گیا ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ اگر ہم لندن کے التوفیق کیس کو دیکھیں تو وہاں مریم نواز کانام آیاہے کیونکہ ان کے پاس شیئرز تھے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ التوفیق کیس سنہ دوہزار کا ہے اس وقت بھی فلیٹوں کی ملکیت سامنے آگئی تھی۔ وکیل نے کہاکہ یہاں مقدمہ یہ ہے کہ اس وقت یہ جائیداد کس کی تھی جو شریف خاندان کے بچوں کی رہائش کیلئے رکھی گئی۔ جسٹس عجازالاحسن نے کہاکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ جائیداد کن ذرائع سے خریدی گئی، فنڈز کہاں سے اور کیسے آئے، لندن کیسے پہنچے۔ وزیراعظم نے اس معاملے پر پوزیشن لی اور کہاکہ وہ اس کے بارے میں بتائیں گے مگر اصل سوال کا جواب آج تک نہیں آیا۔ وکیل نے کہاکہ وزیراعظم نے جو کہا اس کی تردید نہیں کرتا، کہہ رہاہوں کہ وزیراعظم کا ان فلیٹوں سے ذاتی تعلق نہیں تھا، یہ معلومات مشترکہ خاندانی ملکیت ہیں، موقف یہ ہے کہ کیا یہ فلیٹ وزیراعظم کے تھے جو ان سے سوال کیا جا رہا ہے؟۔ کیا وزیراعظم اس جائیداد کیلئے بھی جوابدہ ہیں جوان کی نہیں؟۔ چلیں بدترین صورتحال کی مثال میں فرض کرتے ہیں کہ بانوے ترانوے میں یہ فلیٹ وزیراعظم کے تھے کیونکہ اس وقت وزیراعظم کے بچے کم عمر تھے تب کیا ہوگا؟۔ کیا وزیراعظم کے خلاف یہ مقدمہ ہے ؟۔ اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کرسی پر پہلو بدلا اور کہاکہ رپورٹ کی جلد چہارم میں کافی خطرناک مواد موجود ہے، اس میں مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ پر نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ وکیل بولے کہ یہ مریم کے وکیل سے متعلق ہے، وزیراعظم کی ملکیت کا کوئی ریکارڈ نہیں لایا گیا۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کورپوٹ میں شریف خاندان کی ملکیت قرار دیا گیاہے، اگر اس کی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں تو کیااس بات کی کوئی حیثیت نہیں؟ چلیں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بھول جائیں، یہ بتائیں کہ جب حسن و حسین کے پاس ان فلیٹوں کا قبضہ تھا تو وہ شخص کون تھا جس کی یہ ملکیت تھے؟۔وزیراعظم کے وکیل نے کہاکہ جب میں مالک ہی نہیں ہوں اور نہ دستاویزات میرے نام ہیں تو مجھ سے کیسے پوچھا جاسکتاہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ حسین نواز نے مالک ہونے کی بتایا مگر کوئی دستاویزپیش نہ کی، صرف منروا کمپنی کی دستاویزسے مریم کے مالک ہونے کی بات سامنے آئی۔ اگر فلیٹوں کے مالک میاں شریف تھے تو ان کی وفات کے بعد یہ نواز وشہبا ز کو ملنا چاہئیں تھے۔ وکیل نے کہاکہ خاندان میں جائیداد کے بٹوارے کے بعد یہ حسین کی ملکیت میں آئے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ کیا ہم اسی شیطانی دائرے میں گھومتے رہیں گے۔ ( یہ انگریزی کے محاورے ویشیس سرکل کا ترجمہ ہے)۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ تہہ درتہہ معاملہ ہے، جب تمام دستاویزات موجو ہیں تو کیوں ایسے کہاجا رہا ہے۔ وکیل نے کہاکہ وزیراعظم نے کبھی قطری سرمایہ کاری سے کوئی فائدہ نہیں لیا، عدالت کو صرف یہ بتارہاہوں کہ وزیراعظم کا اس معاملے سے تعلق نہیں۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ المیہ یہ ہے کہ ایسی کوئی دستاویزنہیں کہ مالک کون ہے۔ وہ کون ہے جس کے پاس نیلسن نیسکول کی ملکیت ہے، صرف ایک خدمات فراہم کرنے والی کمپنی منرواکی دستاویز موجود ہے مگر یہ نہیں معلوم ہے کہ خدمات کے حصول کیلئے کمپنی سے کس نے معاہدہ کیاتھا۔ذرائع آمدن کا اسی سے پوچھا جاسکتاہے جس کی ملکیت ہوگی۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ بھی پراسراریت کے پردے میں ہے کہ اس کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا، وزیراعظم کو منافع تو بہت زیادہ آتارہا مگر کمپنی کیسے لگائی گئی معلوم نہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل کو مخاطب کیاکہ اس سے آپ کے موکل کو ایک ارب سترہ کروڑ حاصل ہوئے۔ وکیل نے کہاکہ ابھی ہم رپورٹ کے اس حصے کی طرف نہیں آئے، ہل میٹل حسین نواز کی ہے اور وہ وزیراعظم کے زیرکفالت نہیں اس لیے مجھ سے کیسے پوچھا جا سکتا ہے۔جسٹس عظمت نے کہاکہ ہرچیزپر آنکھیں نہیں بند کی جاسکتیں، اس کمپنی کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا۔ وکیل نے پہلے والی بات دہرائی کہ حسین نواز کمپنی بناتے وقت وزیراعظم کے زیرکفالت نہیں تھے۔خواجہ حارث اپنے اختتامی دلائل کی جانب بڑھے تو کہاکہ اس سارے معاملے میں وزیراعظم پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، تفتیشی رپورٹ میں کہیں یہ الزام نہیں لگایا گیاکہ وزیراعظم نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرکے کرپشن کی اور ناجائز اثاثے بنائے۔ جسٹس عجازافضل نے کہاکہ ہم صرف وہی ریکارڈ دیکھ رہے ہیں کہ جو ہمارے سامنے لایا گیا، ہم نے پہلے بھی فیصلے دیے ہیں اور ہمیں فیصلے کا اختیارہے، اس کیس میں صرف یہ دیکھ رہے کہ کیا معاملہ ٹرائل کورٹ میں جائے گا، کیونکہ سپریم کورٹ صرف تسلیم شدہ حقائق پر فیصلے کرتی ہے۔
عدالتی وقفے سے قبل خوشگوار ماحول میں خواجہ حارث نے وزیراعظم کے معاملے سے تعلق نہ ہونے کی بات دہرائی تو جسٹس اعجازافضل نے غالب کا شعر پڑھا کہ
میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آﺅں
گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا
(پہلا مصرعہ جج صاحب نے شاید درست نہیں پڑھا تھا)۔ خوبصورت اردو میں شعر کے بعد عدالت میں مسکراہٹ پھیلی تو جسٹس اعجازافضل نے ہلکے پھلکے انداز میں کیس کے سروں کو جوڑتے ہوئے انگریزی میں کہاکہ وزیراعظم کو خود اپنے تمام کارڈز میز پر رکھ کر دکھادینے چاہئیں تھے۔
اس مرحلے پر خواجہ حارث نے اپنے دلائل کا اختتام کیا او ر ججوں کا شکریہ ادا کیا۔ جواب میں ججوں نے بھی قانونی معاونت پر وکیل کاشکریہ ادا کیا۔
عدالت کو مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم نے بتایا کہ دبئی سے اہم ریکارڈ منگوایا ہے، آج شام تک جمع ہو جائے گا، کل دلائل دوں گا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ ریکارڈ جے آئی ٹی کو کیوں نہ دیا گیا؟ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی ٹیم ساٹھ دن اسی ریکارڈ کیلئے بیٹھی رہی۔ اس وقت یہ ریکارڈ منگوا کر حوالے کر دیتے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ریکارڈ کی فراہمی کے حوالے سے حسین نواز کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے، قطری خط کے معاملے میں بھی ہم نے دیکھا تھا۔ وکیل نے کہاکہ یہ ریکارڈ ہل میٹل کیلئے مشینری کی درآمد کیلئے کسٹم کے محکمے کا ہے، جے آئی ٹی نے مشینری کی درآمد پرسوال اٹھائے ہیں اس لیے اب منگوایا ہے۔ جے آئی ٹی کے ہل میٹل پر اخذ کیے نتائج کو جھٹلانے کیلئے دبئی کسٹم کاریکارڈ عدالت میں لانا ضروری ہے۔ آج شام تک یہ ریکارڈ عدالت کو دے دوں گا ، کل اس پر دلائل دوں گا، اس دوران اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل سن لیے جائیں۔
اسحاق ڈار کے وکیل ڈاکٹرطارق حسن نے اپنے دلائل میں کہاکہ عدالت کو جے آئی ٹی رپورٹ دیکھ کر تفتیش کے معیار کو پرکھنا ہوگا، رپورٹ میں جن دستاویز کو شواہد کانام دیا گیا ان کا بھی جائزہ لیاجائے، یہ بھی دیکھا جائے کہ پیش کیے گئے مواد کا مقدمے سے کتنا تعلق ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اسحاق ڈار سے متعلق ایسا کچھ نہیں کہ یہاں اس کیس کو چلایاجائے، رپورٹ کی بنیادپر اس کیس میں فرق نہیں آئے گا، جب ٹرائل ہوگا تو وہاں اسحاق ڈار اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ اسحاق ڈار کے بارے میں رائے دینے کا تفتیشی ٹیم کو اختیار ہی نہیں تھا۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ ٹیم نے مواد اکھٹا کیاہے جس کی بنیادپر ٹرائل ہی ہوسکتاہے، جب تفتیشی ٹیم کے پاس مواد آ گیا تو اس نے کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا۔ وکیل بولے کہ عدالت مجھے رپورٹ پر سن لے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ سننے کیلئے ہی بیٹھے ہیں مگر یہ فورم نہیں جہاں آپ اپنا دفاع پیش کریں۔ وکیل نے کہاکہ جب یہ عدالت جے آئی ٹی بنائے گی تو پھر فورم بھی یہی ہوگا جہاں مجھے سناجائے گا۔
عدالتی وقفے کے بعد وکیل طارق حسن نے کہاکہ عدالت رپورٹ کاجائزہ لے اور اس کی حیثیت کا تعین کرے۔ جسٹس اعجازافضل نے اس پر جملہ اچھالا کہ اگر اسحاق ڈار مزید بھی کوئی معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں، ویسی ہی معلومات جیسی انہوں نے ماضی میں فراہم کی تھیں ۔ (جج کا اشارہ منی لانڈرنگ کیس میں اسحاق ڈار کے بیان حلفی اور وعدہ گواہ معاف بننے کی جانب تھا)۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کیا اسحاق ڈار پر جے آئی ٹی کو ٹیکس گوشوارے فراہم نہ کرنے کا الزام غلط ہے؟۔جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ مقدمہ عمران خان کی درخواست سے شروع ہوا، اس میں ڈار پر کیا الزام تھا؟۔ وکیل بولے کہ اسحاق ڈار کو فریق بنایاگیا مگر ان پر کوئی مخصوص الزام نہیں لگایا گیا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ درخواست میں آپ کے موکل پر نہایت سنگین الزام تھا۔ وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اسحاق ڈار کے اثاثوں میں اضافے اور ٹیکس چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم کو تمام ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ایف بی آر نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ اسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ نہیں مل ر ہا۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ ایف بی آر تو اسحاق ڈار کی وزارت کے تحت ہی آتا ہے۔ وکیل بولے کہ ننانوے کی فوجی بغاوت کے بعد تمام ریکارڈ نیب کی تحویل میں چلا گیا تھا جب جے آئی ٹی نے مانگا تو ایف بی آر نے نیب سے لے کر حوالے کیا، نیب کا اپنا نمائندہ بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ تھا اگر چاہتے تو براہ راست بھی حاصل کر سکتے تھے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ اسحاق ڈار کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ اگر نیب نے تحویل میں لیا تھا اور جب واپس کیا تو اس کی قانونی رسید بھی موجود ہوگی، اس کے گواہ بھی ہوں گے، ان پر جرح ہوگی۔ پھر مذاق کرتے ہوئے کہاکہ اب کہیں ایسا نہ ہوکہ ایف بی آر والے کوئی پرانی خط وکتابت بناکر لے آئیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ جن دستاویزات کو جے آئی ٹی نہیں دیکھ سکی وہ درخواست کے ساتھ عدالت میں بھی نہیں دی گئیں۔ وکیل نے کہاکہ بہت ضخیم ہیں، مشکل کام تھا اور ان کی تصدیق بھی کرانا تھی، عدالت چاہے تو ایف بی آر اور نیب سے خود بھی منگوا سکتی ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ کی تیاری دیکھ لی ہے، اب آگے بڑھیں۔ وکیل نے کہاکہ اسحاق ڈار کا معاملے سے تعلق نہیں مگر اس میں گھسیٹا گیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ آپ کو تعلق ابھی بتادیتے ہیں، گلف اسٹیل کیلئے سرمائے میں اسحاق ڈار اور ان کے بیٹے کا ذکرہے، ہل میٹل کی سرمایہ کاری میں بھی ان پر تعلق کا الزام ہے۔ حدیبیہ پیپرز کیلئے اکاﺅنٹس کھولنے اور بطور گواہ بیان حلفی دینے کا حصہ بھی ہے، اگر کسی مرحلے پر یہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں جاتاہے تو وہاں دفاع کرنے کا پورا موقع ملے گا۔ وکیل بولے کہ مجھے یہاں دفاع اورصفائی پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ مبینہ طور پر اسحاق ڈار ملزم تھے، مبینہ بیان حلفی دیا اور پھر وعدہ معاف گواہ بن کر معاف بھی کردیے گئے، جب یہ کہتے ہیں کہ وعدہ معاف گواہ بن کر بیان حلفی نہیں دیا تو پھر ان کی گواہ کی حیثیت بھی ختم ہوجاتی ہے اور مقدمے میں شریک ملزم بن جاتے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ یہ ماضی کا بند باب ہے۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ ریفرنس میں اسحاق ڈار گواہ بن چکے تھے اگر بیان حلفی کی حیثیت نہیں تو ان کی ملزم والی پوزیشن بحال ہوجاتی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جے آئی ٹی نے بغیر کسی وجہ کے مسٹر ڈار کے بارے میں نتائج اخذ نہیں کیے۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ حدیبیہ پیپرز معاملہ قانونی سوال ہے اس کو عدالت دیکھے گی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ اگر گواہ کی حیثیت ختم کردی جائے تو اسحاق ڈار مقدمے میں شریک ملزم ہیں۔جسٹس عظمت نے کہاکہ عدالت نے پانامہ فیصلے میں حتمی بات نہیں کی تھی بلکہ جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، اب اس تفتیش کی رپورٹ پر دلائل سن کر حتمی فیصلہ دیں گے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ تفتیشی رپورٹ کہتی ہے کہ اسحاق ڈار کے اثاثے نوے ملین سے آٹھ سو چون ملین ہوگئے۔ وکیل نے کہاکہ یہ صرف مفروضے ہیں، اس بارے میں تفتیش کاروں نے اسحاق ڈار سے سوال ہی نہیں کیا۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ جب اسحاق ڈار اپنے بیان حلفی کو نہیں مانتے تو ان کو دی گئی معافی بھی ختم ہوجاتی ہے، درخواست گزار نے اسحق ڈار کی نااہلی مانگی تھی اس پر پانامہ کیس میں فیصلہ دیا، الزام کی تفتیش کیلئے معاملہ جے آئی ٹی کو بھیجا گیا۔ وکیل نے ایک بار پھر کہا کہ اس کیس سے ڈارکا تعلق نہیں بنتا تو جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ سرمائے کی گردش سے اسحاق ڈار کا تعلق ہے جس کی تفتیش ہوناہے، بہت سے سوال ہیں، بہت سے ایشوز ہیں، ان تمام کے جواب کیلئے ایک شہادتی ٹرائل کی ضرورت ہے، یہ عدالت اس مرحلے پر ان تمام سوالات کو نہیں دیکھ سکتی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ جے آئی ٹی نے جو ریکارڈ ملاحظہ نہیں کیا آپ کو چاہیے تھا کہ یہاں اپنے اعتراض کی درخواست کے ساتھ منسلک کردیتے ۔وکیل نے کہاکہ وقت کم تھا اس لیے نہ کر سکا۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ اسحق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ کئی سال غائب رہا اب اس پر بھی گواہ پیش کرنا ہوں گے کہ کہاں رکھا گیا، ہوسکتا آپ درست کہہ رہے ہوں مگر اس کیلئے قانون میں طریقہ کار موجود ہے کہ ثابت کیاجائے، ہم چاہتے ہیں کہ آئین میں آپ کو شفاف ٹرائل کا جو حق دیا گیا ہے اس سے مسفید ہوں۔
وکیل نے کہاکہ تفتیشی ٹیم نے اپنی حدود سے تجاوز کیا، تفتیش بدنیتی پرمبنی تھی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ یہ تمام اعتراضات خواجہ حارث کی جانب سے آچکے ہیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وکیل نے پانامہ پیپرز فیصلے کاحوالہ دیاتو جسٹس عظمت نے جواب دیاکہ فیصلے میں اسحاق ڈار کے بارے میں استدعا مسترد یا منظور نہیں کی تھی، جے آئی ٹی بنائی تھی تاکہ تفتیش ہوسکے اور حقائق سامنے آسکیں، ہم پر رپورٹ کے نتائج ماننا لازمی نہیں، صرف اکھٹا کیا گیا ریکارڈ دیکھیں گے۔ بنچ کے سربراہ نے کہاکہ اسحاق ڈار کے گوشواروں کا جتنا بھی ریکارڈ فراہم کرناہے دیدیں، آپ کے دلائل مکمل ہیں صرف دستاویزات کو دیکھ لیں گے۔ وکیل نے کہاکہ اگر تفتیشی ٹیم نے دستاویزات اور ریکارڈ کا جائزہ لیاہوتا تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ پاکستان واپس آنے کے بعد اسحق ڈار کی دولت میں کمی آئی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اسحق ڈار نے جے آئی ٹی کے سامنے استحقاق کا سہارا لیا، بہت سی معلومات چھپائیں اور بیرون ملک کاروبار سے انکار کیا، تفتیشی ٹیم کے سوالات پر بتایاکہ ذاتی کاروبار کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکتا۔اس مقدمے میں تحائف کی شکل میں پیسہ منتقل ہونا بہت عام سی بات ہے۔ وکیل نے کہاکہ ایسی بات نہیں ہے اسحاق ڈار نے ایسا نہیں کہا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ کیا آپ تفتیشی ٹیم کے سامنے دیے گئے بیان سے انکار کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم ریکارڈنگ سے تصدیق کراسکتے ہیں۔ وکیل بولے کہ یہ بات نہیں کررہا، کہہ رہاہوں کہ دستاویزات سے سوال نہیں کیے گئے۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ جب آپ کے اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں اور تفصیل بتانے کی بجائے استحقاق جتائیں تو معلومات کیسے حاصل ہوں گی؟۔ وکیل نے کہاکہ تفتیش کاروں کارویہ درست نہیں تھا اس لیے کافی باتیں درست طور پر سامنے نہیں آسکیں۔اس پر جسٹس عظمت نے کہاکہ ہمارا رویہ تو ٹھیک ہے نا۔ وکیل نے کہاکہ عدالت اور ججوں سے کوئی شکایت نہیں ہے۔نیب قوانین کے تحت معاملہ دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جے آئی ٹی کو تفتیش کیلئے ملک میں رائج تمام قوانین کے تحت اختیارات حاصل تھے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ اسحاق ڈار کے مقدمے میں کسی عدالت نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، ان کامقدمہ معاف کیے جانے پر ختم ہوا تھا۔ وکیل نے کہا کہ یہ کیس دوبارہ ٹرائل کی طرف جا رہا ہے جو نہیں ہوسکتا، عدالت کے سامنے خود کو معذور محسوس کر رہا ہوں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ ایسا آپ کی جانب سے دستاویزات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
سماعت کے اختتامی لمحات میں وکیل نے کہاکہ پانامہ پیپرز فیصلے میں سپریم کورٹ نے جن تیرہ سوالات پر تفتیش کرانے کا حکم دیا تھا ان میں سے کوئی ایک بھی اسحاق ڈار سے متعلق نہیں۔ جسٹس اعجازافضل بولے کہ بہت سی چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ وکیل بولے کہ میں پریشان نہیں ہوں۔ جسٹس عظمت نے مذاق کرتے ہوئے کہاکہ جج صاحب نے آپ کو پریشان نہ ہونے کیلئے کہا ہے، آپ کے موکل کا معاملہ الگ ہے۔ اس پر عدالت میں قہقہے گونجے تو جسٹس اعجازافضل کرسی پر آگے ہوکر مائیک میں بولے کہ نعیم بخاری نے کہا تھاکہ کیس وکیل نہیں موکل ہارتا ہے۔ ہرطرف مسکراہٹ پھیلی اور نعیم بخاری اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ شیخ رشید بھی ججوں کے اٹھنے سے پہلے روسٹرم پر آکر بولے، مائی لارڈ، اسحاق ڈار کا دبئی کا اقامہ بھی منگوایا جائے۔ تینوں جج عدالت کے عقبی دروازے سے غائب ہوئے تو داخلی دروازے کی جانب وکیلوں اور صحافیوں کی دھکم پیل شروع ہوئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے