کشتی ڈبونے والے وکیل

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
ساڑھے نو بجے تینوں جج عدالت کے کمرے میں داخل ہوئے تو شور مچاتی آوازیں خاموشی میں ڈھل گئیں مگر حبس برقرار رہا۔ ہرکارے نے پکارا کہ آئینی درخواست نمبر انتیس، عمران خان بنام نوازشریف و دیگر۔ وکیل سلمان اکرم راجا ڈائس پر آئے اور کہاکہ ٹرسٹ ڈیڈ پر گزشتہ روز اٹھائے گئے سوالات کا اس وقت جواب تفصیل سے نہیں دے سکا تھا، عدالت نے کہاتھاکہ اس کی کوئی معصومانہ وضاحت موجود ہوگی، تو آج وہی معصومانہ وضاحت کر رہا ہوں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ عدالت نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فرانزک آڈٹ رپورٹ پر اس کو بادی النظر میں جعلی دستاویز کہا تھا۔ وکیل سلمان اکرم نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وہ ٹرسٹ ڈیڈ درست طور پر لف کی گئی ہے جو سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں وکیل اکرم شیخ کے اسٹاف کی معمولی غلطی سے دوبار ایک ہی صفحہ لف کردیاگیاتھا اس لیے دستخط مکمل طور پر فوٹو کاپی نظر آئے۔ ٹرسٹ ڈیڈ کومبر کی تھی مگر غلطی سے جلد بندی میں دوسرے صفحے پر نیلسن اور نیسکول کا شیڈول شامل ہوگیا۔ تاہم جے آئی ٹی کو یہ دونوں دستاویزات الگ الگ دی گئیں اور اس پر رپورٹ میں نتائج بھی اخذ کیے گئے، اس لیے عدالت میں کوئی جعل سازی نہیں ہوئی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال پوچھنے کیلئے لب کھولے تو وکیل نے کہاکہ اب چھٹی والے دن نوٹری پبلک سے دستاوزیزات کی تصدیق کا بتاتا ہوں، گزشتہ روز عدالت میں یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد میرے پاس سوشل میڈیا اور ای میلز کے ذریعے حوالوں کا انبار لگ گیاکہ لندن میں اتوار کے دن بھی نوٹری پبلک سے تصدیق ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مختلف نوٹری پبلک کی یہ دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرتا ہوں، جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھاکہ کیا ان دستاویزات میں اس سولیسٹر کے کاغذ بھی ہیں جس سے حسین نواز نے تصدیق کرائی تھی۔ وکیل نے کہاکہ حسین نواز اس سولیسٹر کابرسوں سے موکل ہے اور وہ تو گھرپر آکر بھی تصدیق کرسکتاہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جے آئی ٹی کے سامنے حسین نواز نے کہاکہ اتوار کے دن لندن میں دستاویزات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ وکیل نے کہاکہ حسین نواز سے عمومی سوال کیاگیا، اگر اس دستاویز پر مخصوص سوال کیاجاتا تو وہ بتا دیتے۔
اس کے بعد ورجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل کی خط کی باری آئی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ اٹارنی جنرل کایہ خط گزشتہ روز ملاہے جبکہ جے آئی ٹی کے سولہ جون کے خط کے جواب میں لکھا گیاتھا، 23جون کو اگر یہ آیا ہے تو اس کے بعد کہاں رہا؟۔جے آئی ٹی تک کیوں نہ پہنچا۔ جسٹس عظمت نے وکیل کو مخاطب کرکے کہاکہ امید ہے ہوم ورک کرکے آئے ہوں گے۔ وکیل بولے کہ مائی لارڈ، آپ نے مجھ سے زیادہ ہوم ورک کیا ہوگا۔خط وکتابت کی تاریخ دکھانے کیلئے عدالت نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے وکلاء کو رپورٹ کی دسویں جلد کے وہ صفحات دکھائے جن پر خطوط موجود تھے۔ وکیل نے کہاکہ چونکہ بعد میں متعلقہ تمام تفصیلات حاصل ہوگئی تھیں اور سارے لنک آپس میں مل گئے تھے اس لیے اب اس کی اہمیت نہیں رہی۔ ان دستاویزات کو ایک باقاعدہ شہادتی ٹرائل ہو تب ہی دیکھاجائے گا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نیب کو ریفرنس بھیجا جائے۔وکیل نے کہاکہ میرا موقف یہ ہے کہ لائی گئی دستاویزات اور مواد اتنا نہیں کہ اس پر معاملہ ٹرائل کیلئے بھیجا جاسکے، مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ یہ مواد قانون کی نظر میں قابل قبول ہے یا نہیں، ٹرائل کورٹ دیکھ سکتی ہے، معاملہ صرف فونٹ کا رہ گیاہے۔وکیل نے کہاکہ پہلے مرحلے میں یہ عدالت اس ریکارڈ کا ضروری جائزہ لے لے۔
جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ گزشتہ روز ساتھی جج نے شیخ حمد کا پوچھاتھا کیا وہ گواہی کیلئے تیار ہیں۔وکیل نے کہاکہ شیخ حمد سے کبھی ویڈیو لنک رابطے پر گواہی کیلئے نہیں پوچھا گیا۔ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہاکہ اگر بیٹا کاروبار یا اثاثوں پر عدالت کو مطمئن نہ کرسکے تو باپ پر قانون کے مطابق کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ اگر عوامی عہدہ رکھنے والے کے اثاثے آمدن کے مطابق نہ ہوں تو کیا اثرات ہوں گے؟۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ وزیراعظم نے اسمبلی میں واضح کہاتھا کہ و ہ سب ریکارڈ فراہم کریں گے، وزیراعظم نے ’ہمارے‘ کہاتھا جس میں وہ خود شامل ہوتے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ وزیراعظم قانون کی عدالت میں بیان نہیں دے رہے تھے بلکہ عمومی سی بات کی تھی۔ جسٹس اعجازنے کہاکہ ایک سال سے ریکارڈ کا انتظار کررہے ہیں، وزیراعظم کی تقریر کے مطابق چیزیں سامنے نہیں آئیں۔ اس مرحلے پر سلمان اکرم نے دلائل مکمل کیے تو جسٹس اعجازافضل نے کیپٹن صفدر کے بارے میں سوال کرلیاکہ مریم کو کمپنیوں کامالک کہاگیا لیکن صفدر کے کاغذات نامزدگی کے گوشواروں میں اس کا ذکر نہیں، اس کے اثرات کیا ہوںگے؟۔ وکیل نے کہاکہ مریم نواز کے آف شور کمپنیوں کی دستاویز اگر تسلیم کربھی لی جائے تو وہ دوہزار بارہ کی ہے جبکہ الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی دوہزار تیرہ میںجمع ہوئے تھے۔ کیا اس وقت بھی مریم اثاثوں کی مالک تھی اس کا تعین نہیں ہوا۔
سلمان اکرم کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسحاق ڈار کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے دلائل کا آغاز کیا تو ان کے سامنے کاغذ کا بڑا سا کارٹن یا ڈبہ ڈائس پر رکھا گیا تھا جس پر اسحاق ڈار کے ٹیکس کاغذات کا ٹیگ لگا ہوا تھا جو سب کی نگاہوں کا مرکز تھا۔ وکیل نے کہاکہ گزشتہ روز کے دلائل میں مشکلات کا شکار تھا کیونکہ عدالت نے کئی ایسے سوال پوچھے تھے جن پر تیاری نہ تھی، دراصل لہروں کے ساتھ تیرنا آسان اور لہروں کے مخالف تیرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے وکیل کی بات کے پس منظر کو نہ سمجھتے ہوئے کہاکہ بہاﺅ کے مخالف تیرنے سے شہرت نہیں ملتی مگر قانون کے مطابق کام ہوتا ہے۔ وکیل نے کہاکہ میں اپنے بارے میں بات کر رہا تھا، عدالت یا ججوں کے بارے میں اشارہ نہیں تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل کے سامنے رکھے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ کیا یہ ہمارے لیے لایا گیا ہے۔ اس پر عدالت میں قہقہے گونجے تو جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ سوچ رہا ہوں کہ یہ ڈبہ سیکورٹی سے کیسے کلیئر ہو گیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ ٹیکس کاڈبہ سارا دن اب ٹی وی پر فلیش ہوتا رہے گا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز کیس کھولنے پر جے آئی ٹی کو مینڈیٹ سے تجاوز کا کہاگیا، اگر آپ کے اس نکتے کو تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے معاملے پر اسحاق ڈار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کیا جاسکتا ہے، اسحاق ڈار اپنے اثاثوں پر جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کرسکے تھے۔ وکیل نے کہا کہ یہ جے آئی ٹی کی مکمل بدنیتی تھی کہ اسحاق ڈار کے ٹیکس ریکارڈ کو رپورٹ کا حصہ نہ بنایا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ مسٹر ڈار کے اثاثے پانچ سال میں آٹھ ملین سے آٹھ سو تیس ملین تک پہنچے۔ اس کی وضاحت صرف شیخ نہیان کے خطوط کی صورت میں آئی ہے کہ اسحاق ڈار نے ان کے مشیر کے طور پر کمائے، کیا اس نوکری کا لیٹر یا تنخواہ کی دستاویز موجود نہیں ہے؟۔ وکیل نے کہا کہ عام نوکری کا اپوائنمنٹ لیٹر ہوتا ہے مگر جب آپ کسی حکمران کے مشیر ہوں تو گلف میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے۔ پھر بولے کہ مثال دیتا ہوں کہ اگر بطور وکیل یہاں دو لاکھ کماتا ہوں تو باہر جاکر اس کے چار گنات نخوا ہ ہوگی۔ جسٹس عظمت سعید نے مذاق کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ بطور وکیل دو لاکھ کماتے ہیں تو پھر معذرت ہے یہ پیشہ چھوڑ دیں۔ وکیل نے کہاکہ اسحاق ڈار پروفیشنل اکاﺅنٹنٹ ہیں ملک سے باہر اکاﺅنٹنٹ اور تجربے کی بہت مانگ ہے، ڈار صاحب یہاں بھی اہم عہدے پر فائز ہیں۔جے آئی ٹی نے ان سے دستاویزات پر سوالات نہ کیے، بیرون ملک رہتے ہوئے بھی اسحاق ڈار نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائے۔ عدالت چاہے تو بین الاقوامی آڈیٹر سے آڈٹ کرا سکتی ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے ازراہ تفنن کہاکہ ہم نے یہ نکتہ لکھ لیا ہے، آپ چاہتے ہیں کہ یہ مقدمہ کبھی ختم نہ ہو۔ وکیل نے کہا کہ مسٹر ڈار کے ٹیکس گوشواروں کی کئی بار سکروٹنی ہو چکی ہے، جسٹس عظمت نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ مسٹر ڈار سکروٹنی کراکے تھک چکے ہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ ’ساگا‘ ختم ہو، اگر یہ کوئی ’ساگا‘ ہے۔ (رزمیہ داستان)۔
( وکیل طارق حسن کے پاس جب کہنے کیلئے نئی بات نہ رہی تو تینوں ججوں نے وقفے وقفے سے ان کو باور کرانا شروع کیا کہ عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کے نمائندے بھی بار بار سر پکڑتے رہے، وزیراعظم اور ان کے بچوں کے وکلاء بھی کرسیوں پر پہلو بدلتے رہے، بہت سے لوگ سرگوشیوں میں کہتے پائے گئے کہ لگتا ہے وکیل صاحب مسٹرڈار کو پھنسا کر ہی جان چھوڑیں گے۔)
جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ پر تحریری جواب کے علاوہ کچھ کہنا چاہیں تو بتادیں، تحریری دلائل ہم پڑھ لیں گے۔ وکیل نے کہاکہ اسحاق ڈار جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہوئے تھے مگر یہاں عدالت میں لگتاہے کہ وہ ملزم ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے جملہ اچھالا کہ کیا اسحاق ڈار ماضی کی طرح پھر شریف خاندان کے بارے میں گواہ بننا چاہتے ہیں۔ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کے سامنے کاروبار کے بارے میں معلومات دینے کی بجائے استحقاق میں پناہ ڈھونڈی، حیرت ہے کہ بیٹے کی کمپنی کے بارے میں بتانے کی بجائے اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے معلومات عام نہ کرنے کا استحقاق ہے۔ وکیل نے کہاکہ صرف اس بات کی وجہ سے مجھے ملزم نہیں بنایا جاسکتا۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ مگر بیٹے نے آپ کو رقم بھیجی سوال تو پوچھا جاسکتاہے۔
ججوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ وکیل نے پرانی باتیں دہرانا شروع کیں تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وکیل صاحب، آپ نے اپنے موکل سے انصا ف کرلیا ہے، اب ہمیں موقع دیں کہ آپ کے دلائل اور جواب سے انصاف کریں۔ وکیل نے پھر بولنا شروع کیا تو جسٹس عظمت سے رہا نہ گیا اور منت سماجت کے انداز میں بولے کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے تمام دلائل اور تحریری جواب کو سامنے رکھ کر ایک ایک نکتے پر غور کریں گے۔ وکیل طارق حسن نے پھر بھی بات جاری رکھی تو جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے دلائل پر اپنے اطمینان کا اظہار اس سے بھی زیادہ کھل کے کریں؟۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ دونوں اطراف کو کہتے ہیں کہ ہم قانون سے باہر نہیں جائیں گے۔ ردعمل جو بھی آئے، قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے، تمام فریقوں کے بنیادی حقوق کو سامنے رکھیں گے، عدالت وہی کرے گی جس کی قانون نے اجازت دی ہے۔ہمیں تمام فریقوں کے حقوق کااحساس ہے۔ وکیل نے پھر اپنے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس عظمت نے کہاکہ آپ وہ بات سمجھیں جو ہم کہہ رہے ہیں اور وہ بھی سمجھ لیں جو ہم نہیں کہہ رہے۔ عدالت میں موجود افراد جج صاحب کے طنز کو سمجھ کر ہنسنے پر مجبور ہوگئے مگر وکیل طارق حسن نے ڈائس نہ چھوڑا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ آپ نے اسحاق ڈار کے بارے میں کہا تھاکہ ٹیکس سکروٹنی کراتے کراتے تھک گئے ہیں، جب تک آپ نہیں تھکتے سنیں گے۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ فریق آپس میں جو بھی کریں ہمیں کچھ نہ کہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے روزانہ سماعت کررہے ہیں۔ہم آپ کا تحریری جواب دیکھ چکے ہیں دوبارہ بھی دیکھ لیں گے۔ آخرکار جسٹس عظمت سعید نے تنگ آکر میزائل داغنے کا فیصلہ کیا اور بولے کہ وکیل صاحب، بہت زیادہ تفصیل کہانی کا بیڑہ غرق کردیتی ہے۔ اس کے بعد وکیل نے ڈائس چھوڑا، وفاق کے وکیل کی باری آئی۔       (جاری ہے )

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے