یتیم خانہ

ممتا جیسی ریاست میں وزیراعظم باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ خدشہ ہے بیس کروڑ عوام بیک جنبش قلم یتیم ہونے جا رہے ہیں۔ مگر یتیموں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ان کیلئے عارضی طور پر نئے "روحانی باپ” کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ اگر منتخب شدہ باپ نا اہل قرار پایا تو یتیم عوام مہینہ ڈیڑھ کیلئے کسی اور باپ پر راضی کئے جائینگے۔ اس حلالے کے بعد ریاست کی ممتا اسی خاندان میں بیاہ دی جائیگی۔ اور یوں عوام یتیم نہیں رہیں گے۔ سب کچھ آئین اور شرع کےمطابق ہوگا۔ یتیموں کو ان خوشگوار لمحات میں شامل کیا جائیگا۔ خاص کر چچا جان کی بارات میں انکے حلقے کے عوام کی شرکت کو ووٹوں کے ذریعے یقینی بنایا جائےگا۔ نکاح طے ہو تو باراتی محض قطار ہی بناتے ہیں۔ یتیم خانوں کے والی وارث بدل بھی جائیں تو اس سے یتیموں کا کیا سروکار۔پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ کئی بار ریاست کی ممتا جب باغی ہوئی تو یتیم عوام کیلئے نیا باپ تلاش کر لیا اور وہ بھی جب عوام کو شفقت پدری کی موجودگی کا احساس دلانا مقصود ہوتا۔
اس ریاست کی ممتا نے اپنے لیے ایسے ایسے دولہے ڈھونڈے کہ آج انکے نام تک یاد نہیں۔ کوئی جونیجو ہوتا تھا، کوئی معراج خالد، کوئی معین قریشی، کوئی شوکت عزیز، کوئی چوہدری شجاعت۔ یہ سب اس یتیم خانے کے "ابو جی” کہلاتے رہے۔ کوئی دو ماہ کیلئے اور کوئی دو سال کیلئے تو کوئی اس سے بھی زیادہ عرصہ کیلئے۔ ریاست کی ممتا نے بار بار پھولوں کی سیج سجائی جس میں کالے چوغوں میں ملبوس نکاح خواہوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ کالے چوغوں والے نکاح خواں ریاست کی ممتا کے شرعی اور غیر شرعی، جائز اور نا جائز ہر طرح کے رابطوں اور تعلقات کا "قانونی” اندارج اپنے رجسٹر میں باقاعدگی سے کرتے رہے۔
آج پھر ریاست کی ممتا کا شوہر نامدار سے دل بھر گیا ہے۔ نکاح خواہوں کو بمع رجسٹر طلب کر لیا گیا ہے۔خلع دعویٰ ہے کیونکہ شوہر اس علیحدگی پر راضی نہیں نکاح خواں نے اب مفتی کا روپ دھار لیا ہے۔ اور جلد ہی فتویٰ بھی جاری ہو سکتا ہے۔ الزام ہے کہ شوہر ناہنجارنے پچیس سال پہلے یتیموں کا مال کھایا۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت بھی خود ریاست کی ممتا اسی شوہر نا ہنجار کے نکاح میں تھی اور یتیموں کا مال کھانے اور اسے کھلانے میں پیش پیش تھی۔ پچیس سال پرانے اس جرم پر ایک ایسے وقت میں خلع مانگا جا رہا ہے جب کچھ عرصے میں ہی یتیموں کو اہم فیصلے کرنے کا موقعہ ملنے والا تھا۔ ایوان بالاکے یتیم نمائندوں اور اسکے بعد ایوان زیریں کیلئے انتخابات کا وقت بھی دور نہیں۔ مگر اس وقت کا انتظار کرنا ریاست کی ممتا کیلئے مشکل ہو رہا تھا۔ اسی لیے حساب چکتا کیا جارہا ہے اور اس باپ کا سامان باہر پھنکوانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ یتیم عوام کا کیا ہے انکے سامنے وہ رجسٹر رکھ دیے جائینگے جن میں صرف اور صرف انکے موجودہ ناہنجارباپ کے کھاتے ہونگے۔ جنہیں دیکھ کر یتیم عوام انکے ممنون ہونگے۔ آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو جائیگی اور پھر نیا باپ تو نیا ہی ہوتا ہے ناں اور نیا شوہر نیا شوہر۔ اس یتیم خانے کی یہ کہانی بہت پرانی ہے۔ ہمارے ریونیو ریکارڈ میں یہ ایک گھر ہے جس کا مالک بلحاظ عہدہ شوہر نامدار اور بچوں کا والد گرامی ہی ہو سکتا ہے۔ مگر ایک گٹھ جوڑ نے اس گھر پر عملی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وزیراعظم کا عہدہ اور ادارہ بہت پہلے قتل ہو اتھا۔ اسکے بعد سے آج تک یہ گھر عملی طور پر کسی شوہر یا باپ کا نہیں رہا۔ ہر شوہر اور باپ اپنے ہی گھر میں گھر داماد کی مانند رہا۔ یتیم عوام تو بیچارے تحفظ اور روٹی کے انتظار میں عدم تحفظ اور بھوک کا شکار ہی رکھے گئے۔ انہیں حالات میں گھر داماد بننے والوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو غنیمت سمجھا اور اپنا حصہ لے کر سائڈ پر ہو لیے۔ اور آج ایک ایسے ہی گھر داماد کے پچیس سال پرانے کھاتے کھول لیے گئے ہیں۔
وجہ صرف یہ ہے کہ اب اس گھر داماد نے گھر کا مالک بننا شروع کر دیا تھا۔ اسے یہ گھمنڈ ہو گیا تھا کہ وہ صرف اور صرف یتیم عوام کو جواہدہ ہے ریاست کی ممتا کو نہیں۔ خود کو گھر کا مالک سمجھنے والا یتیموں کا باپ یہ بھول گیا تھا کہ اسکے پرانے کھاتوں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ محض ایک اتفاق ہوا کہ محلے میں پچیس سال کی بنائی گئی جائیداد کی خبر پھیل گئی اور حساب برابر کرنے کا موقعہ نکل آیا۔ یتیموں کے بنیادی حقوق کے نام پر تفتیش شروع کیگئی اور اس دوران یتیموں کے اندر اپنے ہی خراب کیے ہوئے نظام کے خلاف ایک نئی تحریک بھی شروع کروا دی گئی۔ بالکل ایسے ہی جیسے پچیس سال پہلے موجودہ "گھر داماد” کو استعمال کر کے اس وقت گھر پر قبضہ برقرار رکھا گیا تھا۔ اب ایک نئے گھر داماد کا سہرا سجایا جا رہا ہے۔ بہرحال اب کی گئی تفتیش میں پہلے سے موجود خفیہ شواہد کی تصدیق کرانے اور انہیں منظر عام پر بطور دستاویزی ثبوت لانے کا بھر پور موقعہ بھی نکل آیا ہے۔ گھر داماد کا قصور بدعنوانی نہیں بلکہ یتیم عوام سے وفاداری کا اعلان تھا۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں کہ جب گھر میں اقتصادی شاہراہ اور سعودی اتحاد کی صورت بڑا مال آ رہا تھا۔ اصل جھگڑا اس مال میں حصے کا تھا اور اس حصے کے تعین کا اختیار "گھر داماد” نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ گھر داماد کی کمزوری یہ تھی کہ یتیم گھر کے باسیوں کو عدم تحفظ کے جس ماحول میں کئی عشروں سے رکھا گیا تھا ۔ معاملہ کسی آئین یا قانون کی بالادستی کا نہیں بلکہ طاقت کے اس کھیل کا تھا جس میں موجودہ "گھر داماد ” خود بھی تاش کا پتہ بنے رہے۔ اور اب کھلاڑی بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک تحریک سڑکوں پر تھی اور ایک یتیموں کے جلسے کے سامنے ماحول ایسا بنا دیا گیا کہ فیصلہ آنے پر کوئی اعتراض ہی نہ کرے۔
فیصلہ محفوظ بھی ہے اور محفوظ ہاتھوں میں بھی۔ تاریخ میں ثابت ہو اہے کہ عدالتی فیصلے افراد کیخلاف محفوظ ہو بھی جائیں تو عدالتی کارروائی اور سیاسی اور معاشرتی ردعمل ازخود ہی بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔ جس کو محض سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فیصلہ یہ نہیں ہو گا کہ نواز شریف نااہل ہوتے ہیں یا نہیں۔ فیصلہ درحقیقت یہ ہے کہ ہمارے عوام ووٹ ڈالنے کے باوجود ایسا بااختیار وزیراعظم نہیں بنا سکتے جو گھر کو چلانے کیلئے تمام فیصلوں میں با اختیار ہو۔ جوابدہی اختیار کے ساتھ ہوتی ہے اور جب عملی طور پر اہم فیصلوں کا اختیار ہی وزیراعظم کے پاس نہ ہو اور اسکے ماتحت ادارے اپنے حلف کی روگردانی کرتے ہوئے سازشوں میں ملوث ہوں تو پھر نام نہاد فیصلوں سے نہ تو آئین کی بالادستی ہوتی ہے نہ ہی احتساب۔ فیصلہ یہ ہے کہ سب سے پہلے بولنے اور لکھنے والے سوچیں، سمجھیں اور پھر سچ بولیں تاکہ عوام کو معلوم ہو جائے کہ انکے ووٹ کی طاقت اور اس کا تقدس کسی ڈنڈے یا قلم سے بہت زیادہ ہے۔ ریاست کی ممتا شریعت اور قانون کی حدود میں رہے تو بہتر ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button