عدالت اور فیصلہ

احساس/ اے وحید مراد
اٹھائیس جولائی کی حبس زدہ صبح مجھے ملک کی سب سے بڑی عدالت پہنچنے کی جلدی تھی۔ آٹھ بجے گھر سے باہر نکلتے ہی درختوں کے ساکت پتے اس طوفان کے آثار بتا رہے تھے جو گزشتہ رات سپریم کورٹ سے جاری کاز لسٹ  کے بطن میں پل رہاتھا۔ کیس تین ججوں نے سنا تھا مگر جب فیصلہ پانچ ججوں کی جانب سے سنانے کا اعلان کیا گیا تو یہ فیصلے سے پہلے فیصلہ تھا۔ پانچ ججوں نے دن ساڑھے گیارہ بجے یہ فیصلہ سنانا تھا مگر جس پراسرار طریقے سے اس کے جاری ہونے کا نوٹس خفیہ ہاتھوں نے ’چند لوگوں‘ تک پہنچایا تھا اس نے فیصلے میں لکھے کا احوال بتا دیا تھا۔ رات بھر شہر میں امن و امان کی صورتحال جس طرح پولیس کے ہاتھوں سے لے کر رینجرز کے حوالے کی گئی تھی اور پھر ’واٹس ایپ‘ پر جیسے چار ججوں کے ’فیصلے‘ نے تہلکہ مچایا تھا تو ہر ایرا غیرا جانتا تھا کہ فیصلہ کیا ہے ۔
دفتر کے ڈرائیور نے سپریم کورٹ پہنچنے کیلئے میریٹ ہوٹل کے راستے کو چنا تو سپرمارکیٹ سے آگے ٹریفک جام تھی۔ ایک ایک گاڑی کو تلاشی کے عمل سے گزارا جا رہا تھا۔ میریٹ کے ناکے کو پار کیا، پھر شاہراہ دستور کے ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں نے ہم سب کو کارڈ دکھانے کیلئے کہا۔ کچھ آگے بڑھے تو پارلیمنٹ کے سامنے لگے نئے ناکے نے ڈی چوک کی شکل تبدیل کی ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ کے باہر بھیڑ تھی اور بے حد تھی۔ سیکورٹی کے عمل سے آسانی سے گزرنا اس لیے ممکن ہوا کہ یہی پولیس اہلکار ہمیں اسی جگہ روز ملتے تھے۔ عدالتی احاطے میں صحافیوں کا میلہ لگا ہوا تھا۔ ٹی وی چینلز کی گاڑیوں کے چھتوں پر لگے انٹیناز آسمان کی طرف منہ کھولے برقی لہروں کے ذریعے تصاویر اور صوتی اثرات اسکرینوں تک پہنچا رہے تھے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور وکیل کیمروں کے سامنے آتے جاتے رہے۔ عدالت کی راہداریوں میں اتنے پولیس اہلکار تعینات تھے اور ڈنڈوں، ہیلمٹ اور سیف گارڈز سے ایسے لیس تھے کہ جیسے ابھی جنگ چھڑنی لگی ہو۔ ساڑھے نو بجے تک بلامبالغہ ہزاروں لوگ عدالت کے احاطے میں پہنچ چکےتھے اور ان کو کمرہ عدالت میں جانے سے روکنے کیلئے ہرممکن کوشش کی جارہی تھی مگر کالے کوٹ میں ملبوس کسی بھی شخص کو اندر جانے سے روکنے کا مطلب ’قنون کی حکمرانی‘ کے خلاف ہو سکتا تھا اس لیے پولیس والے ایف ایٹ کچہری سے اٹھ کر آنے والے ہر وکیل کو نظرانداز کر رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چیف جسٹس نے گیارہ بجے سے پہلے ہی اپنی عدالت برخواست کی اور چیمبر میں چلے گئے۔
گیارہ بجے سے ساڑھے گیارہ کا وقت عدالت میں موجود سیاست دانوں سے گپیں لگانے میں گزرا۔ کچھا کھچ بھرے عدالت کے کمرے میں ساتھ میں کھڑے پشاور سے منتخب سابق رکن قومی اسمبلی نورعالم خان سے ادھرادھر کی ہانکتے رہے اور اس میں کچھ رپورٹرز دوستوں اور حال ہی میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے کچھ سیاست دانوں نے حصہ لیا۔ ساتھ والی نشست پر مشہور زمانہ نذر گوندل بیٹھے ہوئے تھے۔
سپریم کورٹ کی سیکورٹی کیلئے تعینات ایس پی احمد اقبال نے ججوں کے مائیک پر آ کر عدالت میں موجود افراد سے اپیل کی کہ وکیلوں کے لیے لگے روسٹرم سے چار قدم پیچھے ہٹ جائیں اور خاموشی اختیار کرلیں۔ اسی دوران خفیہ والے سادہ کپڑوں میں پچاس کی تعداد میں ججوں والے دروازے سے نمودار ہوئے اور حاضرین اور ججوں کی کرسیوں کے درمیان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے۔ کچھ دیر بعد ایس پی سیکورٹی نے حاضرین سے دوبارہ پیچھے ہٹنے اور خاموش رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ بصورت دیگر اہلکاروں کے ذریعے کمرہ عدالت خالی کرایا جاسکتا ہے۔
اس دوران عدالت کے داخلی دروازوں کے اوپر بنی گیلری میں ججوں کے گھروں کی خواتین براجمان ہو چکی تھیں۔ کچھ ججوں کے بیٹے بھی عدالتی گیلری میں بیٹھے تھے جن میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا بیٹا بھی شامل تھا، ججوں کے اہل خانہ کے چہروں پر چھائی مسرت سے بھی ہم نے ’فیصلہ‘ پڑھ لیا تھا۔
ساڑھے گیارہ بجے کا وقت بتایا گیا تھا مگر جب کمرہ عدالت میں ججوں کی آمد میں تاخیر ہوتی گئی تو سینکڑوں لوگوں نے چہ مگوئیاں شروع کر دیں۔ کچھ دوستوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جو فیصلہ رات سے واٹس ایپ پر، چار۔ ایک، سے چل رہا تھا وہ اب پانچ زیرو ہو گیا ہے اس لیے تاخیر ہو رہی ہے۔
بارہ بج گئے اور پھر ہر نظر عدالت کے گھڑیال پر حرکت کرتی سوئیوں کو ملتے دیکھنے کیلئے اٹھ گئی۔ دو منٹ مزید گزرے اور پھر ہل چل مچ گئی۔ بارہ بج کر تین منٹ پر پانچوں جج عدالت کے عقبی دروازے سے داخل ہوئے۔ ججوں کی کرسیاں اٹھانے والے فرشتے (سفید کپڑوں میں ملبوس نوکر) اس وقت تک پوری طرح تیار بھی نہ تھے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کرسی پر بیٹھتے ہی تاخیر پر معذرت کی مگر ’باعث تاخیر‘ کا ذکر ان الفاظ میں کیاکہ ’ناگزیر حالات‘ کی وجہ سے ایسا ہوا
ہرکارے نے پکارا، آئینی درخواست نمبر انتیس، مقدمہ عمران خان بنام نوازشریف و دیگر۔ اس کے بعد بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان الفاظ میں بات کا آغاز کیا۔ ’بیس اپریل کو ہم میں سے دو نے اپنی حتمی رائے ظاہر کی تھی،ہم میں سے تین نے اپنا فیصلہ موخر کیا تھا اور پھر مزید کچھ سماعت کی گئی، اور پھر اکیس جولائی کو ان تین ججوں نے بھی اپنا فیصلہ محفوظ کیا۔ آج ان تین ججوں کے فیصلے کو پہلے سنایاجائے گا اور جسٹس اعجازافضل سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنا فیصلہ سنائیں ، جس کے بعد عدالتی کا حتمی حکم جو کہ پانچ ججوں کا ہے پڑھا جائے گا۔ ( اسی بات سے وزیراعظم کی نااہلی سمجھ میں آگئی تھی مگر فیصلہ سننا ضروری تھا)۔
جسٹس آصف کھوسہ خاموش ہوئے تو پندرہ سے بیس سیکنڈز بعد جسٹس اعجازافضل کی آواز ان کے مائیک سے عدالت کے ساﺅنڈ اسکرین پر گونجنا شروع ہوئی۔ پہلے مرحلے میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا پیراگراف پڑھا گیا۔اس پیراگراف کے چھ چھوٹے حصے تھے۔ اس کے بعد دوسرے پیراگراف کی باری آئی تو عدالت میں مکمل سکوت طاری تھا۔ شاید وہ لوگ فیصلے کی پہلی سطر میں ہی وزیراعظم کی نااہلی کی بات سننا چاہتے تھے۔ ایسے لوگوں کو زیادہ دیر انتظار نہ کرناپڑا جب اگلے پیراگراف کو پڑھتے ہوئے جیسے ہی ’ڈس کوالیفائیڈ‘ کے لفظ پر پہنچے عدالت میں ڈس کوالیفائیڈ، ڈس کوالیفائیڈ کا شور مچ گیا۔ ساﺅنڈ سسٹم پر سائلنس پلیز، سائلنس پلیز کی التجا گونجی، یہ جسٹس آصف کھوسہ کی آواز تھی اور ساتھ ہی وہ کسی چیز سے اپنے ڈیسک کو بھی بجا رہے تھے۔ بریکنگ نیوز کے دوڑتے ہمارے مددگار رپورٹرز باہر کو بھاگے۔ بہت سے سیاست دان اور وکلاءبھی عدالت چھوڑ گئے۔ عدالت میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔جسٹس اعجازافضل نے تین ججوں کا فیصلہ مکمل کیا۔ اس کے بعد جسٹس آصف کھوسہ نے بطور بنچ کے سربراہ پانچ ججوں کا حتمی عدالتی حکم نامہ پڑھا۔عدالتی حکم نامے کے آخر میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کی کاوشوں کی تعریف کی گئی اور ان کو نوکری کا تحفظ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
عدالتی فیصلے تو اب تحریری صورت میں سب کے سامنے ہے۔ حیرت انگیز بات صرف یہی تھی کہ وزیراعظم کو متحدہ عرب امارات میں ان کے بیٹے کی ایف زیڈ ای کمپنی کی ملازمت کی اس تنخواہ کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل کیا گیا جو انہوں نے وصول ہی نہیں کی، اور یہی بات فیصلہ سنتے ہوئے عدالت میں ہی سب نے سمجھ لی تھی۔ یہ پانامہ کیس کا اختتام تھا۔
فیصلہ سنانے میں ججوں کو تفریبا سترہ منٹ لگے اور پھر سب کا شکریہ ادا کرکے چلے گئے۔ ہم نے باہر دوڑ لگائی اور پھر عدالت کے احاطے میں ہی گو نواز گو کے نعرے لگاتے کالے کوٹوں والے قانون کے رکھوالے دیکھے۔
ٹی وی چینلز کے کیمروں کے سامنے جولائی کے حبس میں پسینے سے شرابور تحریک انصاف کے رہنماﺅں اور وکیلوں کے دھکم پیل میں شریک ہوئے۔ ٹی وی پر فیصلے کے نکات ناظرین تک پہنچائے۔بھانت بھانت کی بولیاں بولتے افراد کو سنا۔ ملک کی سیاسی اور عدالت پر نظر رکھنے والے ہر سوچنے والے دماغ کی رائے تھی کہ فیصلہ کہیں اور ہوچکا تھا۔
فیصلے پر غور کرنے والوں نے کہا کہ وہی ہوا جو طے تھا۔ شریف خاندان او ر اس کی نسل کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے غائب کرنے کیلئے ملک کی سب سے بڑی عدالت کو کھل کر استعمال کر لیا گیا ہے۔بہت سے لوگ اس فیصلے کو چودھری نثار کی گزشتہ شام کی پریس کانفرنس میں ہی پڑھ چکے تھے۔عدالت سے باہر نکلتے ہوئے عابد شیر علی کو گھیرے میں لیے تحریک انصاف کے کچھ لوگوں اور وکیلوں نے گو نو گو کے نعروں کے ساتھ رخصت کیا۔
دن کے ایک بجے سپریم کورٹ کے ’پریرہال‘ یعنی ایک مسجد نما کمرے کے احاطے میں جمعے کی نماز وضو کی پروا کیے بغیر پڑھی۔ اسی جگہ فیصلہ سنانے والے پانچوں ججوں نے بھی اللہ کو سجدے کیے۔ دن ڈیڑھ بجے عدالت سے شاہراہ دستور پر نکل کر دفتر کیلئے روانہ ہونے لگا تو ججوں کی گاڑیاں انتہائی حفاظتی اقدامات کے ساتھ عدالت سے گھروں کو روانہ ہو رہی تھیں۔
ابھی کسی نے پرویزمشرف کے اقتدار پر قبضے کے دور کے اخبار کا صفحہ اول واٹس ایپ کیا ہے۔ سرخی ہے، نوازشریف کو چودہ برس قید، دوکروڑ جرمانہ۔ اور اکیس برس کیلئے نااہل۔
عدالت میں فیصلہ سنتے ہوئے مجھے ایسا ہی لگا تھا کہ ہم انیس سو ننانوے میں واپس چلے گئے ہیں، اس وقت فوجی ٹرک قومی ٹی وی کی عمارت اور وزیراعظم کے دفترمیں اچانک داخل ہوئے تھے۔ اس بار دھرنے سے آغاز کرکے ڈان لیکس سے دباﺅ بڑھایا گیا، اور پھر ناکامی پر سفارشوں سے جج بننے والے سابق وکیلوں کے ہتھوڑے کا سہارا لے کر ایک منتخب وزیراعظم کو اس کی ’اوقات‘ بتائی گئی۔

متعلقہ مضامین