قانونی لطیفے

احساس/ اے وحید مراد
یہ کہانی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے عمران خان کی پانامہ پیپرز پر آئینی درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دے کر واپس کرنے سے شروع ہوئی تھی اور پھر اسی درخواست پر کروڑوں لوگوں کے منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے پانچ ججوں کے فیصلے پر ختم ہوئی۔
مگر شاید کہانی اس سے بھی پہلے شروع ہوئی تھی۔ کہانی نوازشریف کے وزیراعظم بننے اور سابق ڈکٹیٹر پرویزمشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے سے شروع ہوئی تھی، پھر الیکشن دھاندلی کی تحریک کے ذریعے دھرنے سے ملک کے نظام کو مفلوج کرنے کا موڑ آیا تھا۔ عدالت نے ایک بھرپور اور طویل سماعت کے بعد الیکشن دھاندلی کے الزام کو مسترد کرکے عام انتخابات کے نتائج کو درست قراردیا تو پھر ڈان لیکس نامی خبر کے غبارے میں ہوا بھر کر اسے ایٹم بم بنانے کی کوشش کی گئی۔ پھر ایک ٹویٹ کی گئی اور بعد ازاں طویل سردجنگ لڑ کر واپس لے لی گئی۔
یہ کہانیاں لکھی جارہی ہیں، یہ تاریخ مرتب ہو رہی ہے۔ اب مورخ شاہوں کا تنخواہ دار نہیں۔ عدالت کا فیصلہ تاریخ میں لکھا جاچکا ہے اور اب اس پر تاریخ لکھی جارہی ہے۔ یہ تاریخ وہ انگلیاں لکھ رہی ہیں جو کمپیوٹر اور موبائل فون کے ’کی پیڈ‘ پر ایسے رقص کر رہی ہیں جیسے کوئی انقلابی دھن تخلیق کر رہی ہوں۔ یہ انگلیاں جن ہاتھوں سے جڑی ہیں وہ آزاد ہیں، اور دیوانوں کی سی مستی میں ہیں۔ یہ سرشار ہیں ان جذبوں سے جن کو زمان ومکاں کی قید میں رہنے والی طاقتیں سرنگوں کرنے سے عاجز ہیں۔ آزادانہ تاریخ لکھتی ان انگلیوں نے قانون سے خالی اور تعصب سے بھرے فیصلے کو سوشل میڈیا پر زبردست اور مدلل سوالات کے ساتھ ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس قابل نہیں کہ قانون کے ایک طالب کے علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے کسی عام شہری کے سوال کے سامنے ٹھہر سکے۔ لیجیے یہ فیصلہ پڑھیے، آپ کیلئے آسان اردو ترجمہ پیش ہے۔
’اس بات سے انکار نہیں کیا گیا کہ مدعاعلیہ نمبر ایک (نوازشریف) بطور چیئرمین بورڈ ایف زیڈ ای کمپنی سے تنخواہ لینے کے اہل تھے، اس لیے یہ بیان کہ انہوں نے تنخواہ وصول نہیں کی اس چیز کی نفی نہیں کہ وصول نہ کی جانے والی تنخواہ بھی’ممکنہ حاصل‘ ہوتی ہے اس لیے اثاثہ ہے۔ جب وصول نہ کی جانے والی تنخواہ بھی بطور اثاثہ ممکنہ حاصل ہے تو اس کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنا مدعا علیہ نمبر ایک (نوازشریف) پرعوامی نمائندگی کے قانون مجریہ انیس سو چھہتر کی شق بارہ (دو) ایف کے تحت ضروری تھا۔ جب مدعا علیہ نمبر ایک (نوازشریف) نے یہ اثاثے ظاہر نہیں کیے تو اثاثوں کے بارے میں ان کا بیان حلفی جھوٹا اور اوپر بیان کیے گئے قانون کی خلاف ورزی ہے، اس لیے وہ عوامی نمائندگی کے قانون کی شق ننانوے (ون) ایف اور آئین پاکستان کے آرٹیکل باسٹھ (ون) ایف کے تحت صادق (آنسٹ) نہیں رہے‘۔
ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے عدالت عظمی کے تین ججوں نے عمل درآمد بنچ میں مقدمہ سننے کے بعد وزیراعظم کی نااہلی کیلئے ایسا’شاہکار‘ فیصلہ لکھا ہے۔ اگر پھر بھی سمجھ نہیں آئی تو آسان الفاظ میں کہے دیتے ہیں کہ نوازشریف اپنے بیٹے کی دبئی میں قائم کیپٹل ایف زیڈ ای کمپنی سے ممکنہ وصول یا حاصل کی جانے والے دس ہزار درہم کی تنخواہ کا ذکر ان کاغذات نامزدگی میں کرنے میں ناکام رہے جو انہوں نے دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 پر الیکشن لڑتے وقت جمع کرائے تھے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ کہتا ہے کہ دیگر تمام معاملات یعنی لندن فلیٹس، قطری خطوط، دبئی فیکٹریاں، کرپشن اورمنی لانڈرنگ ، بظاہر ایک باقاعدہ مقدمہ چلانے کے بعد طے ہوں گے، اور اس کیلئے اتنا مواد ہے کہ احتساب بیورو، نیب کورٹ میں ریفرنس داخل کرے۔ اور اس کی نگرانی کیلئے بھی عدالت عظمی کا ایک جج ضروری ہے۔ یعنی یہ تمام معاملات جو لگ بھگ سال بھر عدالت میں زیرسماعت رہے، جس پر جے آئی ٹی بنی، اس قابل نہیں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت ان پر وزیراعظم کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دے سکے۔
چونکہ یہ صورتحال کسی لطیفے سے کم نہیں تو سوشل میڈیا پر لطیفہ نما فیصلوں کی بھرمار ہے۔ ڈان اخبار کے مشہور مزاح نگار ندیم ایف پراچہ کے ٹوئٹ کے مطابق ایک غیرملکی میگزین نے سرخی جمائی ہے کہ ۔
’پاکستان میں ایک شخص کو تنخواہ نہ لینے پر عہدے سے برطرف کر دیا گیا‘۔
رسوائی کی باتیں تو اب سر بازار ہونے لگی ہیں، کیا کریں۔ جب مائی لارڈ لکھیں گے، تمہارے پاس دس ہزار درہم ممکنہ تنخواہ تھی اور تم نے وصول نہیں کی مگر اس چیز کی کوئی اہمیت نہیں، چونکہ وہ تمہارا اثاثہ تھا اور تم نے اس کے بارے میں بتایا نہیں، اس لیے قانون کہتا ہے کہ تم صادق نہیں، اور جب تم آنسٹ نہیں تو نااہل ہو۔ مگر مائی لارڈ نے یہ بھی لکھا ہے کہ وصول نہ کی جانے والی تنخواہ کو اثاثہ ثابت کیا جانا کوئی اتنا آسان نہ تھا اس کیلئے ہم نے قانون کی بڑی بڑی لغات (ڈکشنریوں) کا سہارا لیا۔
دس برس کی عدالتی رپورٹنگ میں کبھی اتنا آسان اور سادہ فیصلہ پڑھنے کو نہیں ملا جس میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ ڈکشنری سے استفادہ کیا گیا ہو۔ (ہر پڑھنے والے سے درخواست ہے کہ درجن بھر صفحات پر لکھا ہوا یہ تاریخی فیصلہ ضرورپڑھے، پچیس میں سے آدھے صفحات غیرمتعلقہ ہیں)۔
مقدمے اور اس کے فیصلے میں دلچسپی کا بھرپور سامان وافر مقدار میں موجود ہے، مثال کے طور پر، عدالت میں مقدمہ آئین کے آرٹیکل ایک سوچوراسی تین کے تحت لایا گیا، اس آرٹیکل کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے کہ ’اپنے قانونی حقوق کو چھوڑے بغیر‘۔
قانون کے طالب علم اس نکتے پر بھی حیران ہیں کہ طریقہ کار کے مطابق درخواست گزار عدالت کے سامنے ایک الزام لے کر آتا ہے، مدعا علیہ کے خلاف کیپٹل زی ای کمپنی سے تنخواہ لینے یا نہ لینے کا کوئی الزام درخواست میں کہیں تھا ہی نہیں۔ بلکہ درخواست میں تو کیپٹل زی ای کمپنی کا ہی ذکر نہ تھا۔ قانون کے مطابق مقدمے بازی کا اصول یہ بھی ہے کہ پہلے الزام لگتا ہے پھر اس کی تصدیق کی جاتی ہے جس کیلئے سرکاری /ریاستی تفتیش کار مقرر ہوتے ہیں۔ اگر تفتیش کار عزیزیہ اسٹیل مل کے سرمایہ کی تفتیش کر رہے ہوں اور ان کے ہاتھ کیپٹل زی ای کا ’خزانہ‘ لگ جائے توبھی عدالت اس خزانے کا دہانہ کھولنے سے پہلے اس پر الگ سے مقدمہ درج کرائے گی، اس ’خزانے‘ کی تحقیق و تفتیش اس مقدمے میں درج الزام کے مطابق ہوگی اور مجاز عدالت اس پر فیصلہ صادر کرے گی۔
ایسا نہیں کہ عدالت عظمی کے اعلی ترین عمر رسیدہ بزرگ ججوں نے ان نکتوں پر غور نہیں کیا۔ اکیس جولائی کو جب کیس کا فیصلہ محفوظ کیا جا رہا تھا تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے مدعاعلیہ نمبر ایک یعنی وزیراعظم کو کیپٹل زی ای کاعہدہ کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دینے کی استدعا کی تو جسٹس اعجازافضل نے پوچھا کہ ’کیا جو الزام درخواست گزار عدالت کے سامنے لے کر ہی نہ آیا ہو اور تفتیش کار کی رپورٹ میں سامنے آ جائے اس پر مدعا علیہ کو ’سرپرائز‘ دیا جاسکتا ہے؟۔ اکیس جولائی بروز جمعہ کی ہی آخری سماعت کے دوران جسٹس اعجازافضل نے سوال کیا تھا کہ ’اثاثے چھپانے کے الزام میں عوامی نمائندگی کے قانون کی شق بارہ (دو) ایف کے تحت کارروائی کیا الیکشن کمیشن کا اختیارنہیں‘۔؟ کیا آئین کے آرٹیکل تریسٹھ میں یہ نہیں لکھا کہ کسی رکن پارلیمان کی اہلیت کا سوال الیکشن کمیشن دیکھے گا؟۔ سپریم کورٹ میں اس طرح کے مقدمات کیا الیکشن ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی صورت میں نہیں آئے؟۔
معزز عدالت اور اعلی ترین ججوں کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے۔ ان کے اپنے سوال اب تاریخ کے قبرستان میں فیصلے کے سیاہ باب میں لکھے جا چکے ہیں۔ آئیے ہم اس لطیفے سے مزا کشید کرتے ہیں۔
’پانچ ججوں نے نوازشریف کو جھوٹا قراردے کر جاوید ہاشمی کو سچا ثابت کردیا ہے‘۔
جاوید ہاشمی نے جو بھی کہا تھا معزز ججوں نے آج تک نوٹس نہیں لیا۔ یقین کریں، واٹس ایپ کال، آئی ایس آئی والی خبر اور جاوید ہاشمی کی باتوں کو معزز جج صاحبان ’سنجیدہ‘ نہیں لیتے۔ آٹھ لاکھ تنخواہ اور بال بچوں کی جان سب کی طرح عمر رسیدہ ججوں کو بھی عزیز ہے۔

اپنا خیال رکھیے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button