خان کی نااہلی بھی ممکن؟

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
عدالت عظمی میں یکم اگست کو دن ساڑھے گیارہ بجے عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کی سماعت کا آغاز ہوا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ کے سامنے درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ ممنوعہ ذرائع سے فنڈز لیے گئے، تحریک انصاف انکار نہیں کرتی۔ چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ امریکا میں فنڈز اکھٹے کرنے والی تنظیم پی ٹی آئی کی شاخ ہے، اور کیاوہ فنڈز پاکستان بھیجتی ہے؟ اگر فنڈز ممنوعہ ذرائع سے لے کر یہاں بھیجے گئے تو کیا قبول کرنا چاہیے؟۔ وکیل انور منصور نے جواب دیاکہ امریکا میں فنڈز اکھٹے کرنے والی تنظیم تحریک انصاف کی اجازت سے ایسا کرتی ہے لیکن وہ ایجنٹ کے ذریعے عطیات لیتی ہے، جب بھی ہمارے علم میں معاملہ آیا فنڈز واپس کیے۔چیف جسٹس نے پوچھاکہ کیا تمام عطیہ دہندگان کی فہرست موجود ہے؟۔ وکیل بولے کہ کچھ افراد کے کوائف دستیاب نہیں۔تحریک انصاف پاکستان کے پاس انہی عطیات دینے والوں کے نام آتے ہیں جو وہاں سے ایجنٹ فراہم کرتاہے، ایجنٹ نے تحریک انصاف کی ہدایات کے مطابق فنڈز اکھٹے کرنے کا بیان حلفی بھی دیاہے، چونکہ امریکا میں فنڈریزنگ پر کوئی پابندی نہیں اس لیے مخصوص فنڈنگ نہیں لی جاتی۔
درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل کا دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کے امریکا میں فنڈز اکھٹے کرنے والے ایجنٹ اپنے معاہدے سے باہر نہیں جاسکتے تھے، ان کو فنڈز لینے کی اجازت تھی اس لیے اس نے ممنوعہ فنڈز لیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ممنوعہ فنڈز لینے پر کسی کی نااہلی بھی بنتی ہے، کیونکہ قانون کے مطابق تو صرف ایسے فنڈز ضبط اورایسی سیاسی جماعت پر پابندی لگ سکتی ہے۔
وکیل نے کہاکہ عمران خان نے غیرملکی فنڈز نہ لینے کا بیان حلفی دیاہے، اس کے غلط ہونے پر ان کی نااہلی بنتی ہے۔جسٹس عمرعطا نے کہاکہ کیا فارا کے ذریعے فنڈز اکھٹے کرنے والا شخص صرف ایجنٹ نہیں؟۔ کیا ایسے شخص کو پارٹی کا نمائندہ کہا جاسکتاہے؟۔ وکیل نے جواب دیاکہ پی ٹی آئی یوایس اے، ایل ایل سی کو عمران خان نے مقرر کیا تھا، ایل ایل سی کا نمائندہ فارا ، اور عمران خان کے درمیان رابطہ کار مقررکیا گیا، وہ صرف ایجنٹ نہیں بلکہ تحریک انصاف کا نمائندہ تھا، اب اس نے بیان حلفی بھی دیاہے کہ ممنوعہ فنڈز نہیں بھیجے، یہ بیان حلفی دوہزار سترہ کا ہے، گھوسٹ ڈونرز اور بھارتی شہریوں سے بھی عطیات لیے، فنڈز کو دیکھنا عمران خان کی بھی ذمہ داری تھی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا نامزد نمائندہ اپنے فرائض ہدایات کے مطابق ادانہ کرے تو عمران خان کی اہلیت پر سوال اٹھے گا؟۔ اکرم شیخ نے جواب دیاکہ کنٹریکٹ ایکٹ کے تحت ہی یہ معاملہ نہیں آتا بلکہ یہ نمائندے کے فرائض میں تھا۔ وکیل نے اٹھارہ سو سڑسٹھ کے انگلینڈ کے ایک فیصلے کاحوالہ دیا جس کے مطابق حاکم/آقا کو بھی ماتحت کی غلطی کیلئے ذمہ دار قرار دیاگیاہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اس معاملے کو اتنا مشکل کیوں بنا رہے ہیں جس کو عام آدمی سمجھ نہ سکے، ایجنٹ کی غلطی سے پارٹی کے سربراہ کی نااہلی کیسے بنتی ہے؟۔ قانون کے مطابق نااہلی نہیں ہوتی۔ وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ آپ کی آبزرویشن ہیڈ لائن بن جاتی ہے، پہلے مجھے بطور وکیل بات کرلینے دیں، میرے دلائل سے پہلے ہی مائی لارڈ نے نتائج اخذ کرکے ریمارکس دیدیے ہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ مائی لارڈ نے ایسی بات نہیں کی۔
وکیل اکرم شیخ نے اس موقع پر عمران خان کی تعریف شروع کردی، بولے کہ عمران خان عام آدمی نہیں، عدالت میں ان کی کتاب بھی پیش کروں ، انہوں نے بہت لوگوں کو متاثر کیاہے، ان کی کرشماتی شخصیت کی سحر کا شکار ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی ہوئی۔ جسٹس عمر عطا نے وکیل کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہیڈلائن کیلئے دلائل دے رہے ہیں، عدالت میں متعلقہ بات کریں۔ وکیل بولے کہ مجھے نہیں معلوم میڈیا موجودہے، اگر غیرمتعلقہ بات کروں تو روک دیاجائے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم بہت محتاط ہیں، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں گے۔ جسٹس عمر عطا نے وکیل کو کہاکہ واپس اپنے دلائل کی جانب آئیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یادرہے اس وقت آپ جوابی دلائل دے رہے ہیں۔ وکیل بولے کیا میرا وقت کم کرنا چاہتے ہیں؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، بتایا جائے اگر ایجنٹ نے غلطی کی ہے تو کیا صرف ممنوعہ فنڈز ہی ضبط نہیں ہوںگے، کیا یہ وفاقی حکومت کا اختیار نہیں کہ ایسی جماعت کے خلاف کارروائی کرے؟۔ وکیل نے کہاکہ باسٹھ تریسٹھ کے تحت بیوی کے پانچ سو روپے ظاہر نہ کرنے بھی عدالت نے رکن پارلیمان کو نااہل کیا۔ چیف جسٹس نے جواب دیاکہ وہ ارکان عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت نااہل کیے گئے تھے۔ وکیل نے کہاکہ اس کیس میں بھی جب فنڈز لیے اور بیان حلفی دیا کہ نہیں لیے تو قانون کو حرکت میں آناہوگا، یہ سیاسی جماعت کامعاملہ ہے، اگر عدالت کارروائی کیلئے وفاقی حکومت کو بھی حکم دیتی ہے اعتراض نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم کیوں اس کیس میں کارروائی کیلئے حکومت کو ہدایت کریں؟۔ وکیل نے کہا کہ جمہوریت پسند ہوں،سیاسی جماعتوں پر پابندی کے حق میں نہیں۔ میرا مقدمہ ہی یہ ہے کہ عمران خان نے جھوٹا بیان حلفی دیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ قانون میں ممنوعہ ذرائع کی وضاحت موجود نہیں۔ایسی صورت میں اس بنیاد پر نااہلی کیسے ہوسکتی ہے۔ وکیل بولے کہ یہ بالکل سیدھا اور آسان معاملہ ہے، عمران خان نے ہنری کسنجر فاﺅنڈیشن اور بھارتیوں سے بھی فنڈز لیے مگر وہ سماجی کاموں کیلئے تھے، یہاں صرف سیاسی پارٹی کیلئے لیے گئے ممنوعہ فنڈز پر ہی بات کروں گا، کینسر ہسپتال اور نمل کالج کیلئے لیے گئے فنڈز پر کوئی اعتراض نہیں، ہم خود شوکت خانم کو کھالیں دیتے ہیں، مولویوں کو کھالیں دینا بند کردی ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ جب پولیٹیکل پارٹیز آرڈر میں شق ہی موجود نہیں تو صرف سرٹیفیکیٹ پر نااہلی کیسے کریں۔ وکیل نے کہاکہ اس میں قانون کی بات ہی نہیں، جب ایک شخص قیادت وسیادت کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ عمران خان کی جمع کرائی دستاویزات عدالت سے بہت بڑامذاق ہے، اس عدالت نے ایس ای سی پی کے چیئرمین کے خلاف مقدمہ درج کرایا، اچھاکیا۔ اس عدالت کے ساتھ جعل سازی کی جائے گی تو کارروائی ہونا چاہیے، عدالت خود عمران خان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کی تصدیق کرائے۔ایسی دستاویزات جمع کرائی ہیں کہ ایک ہی شخص نے ایک ہی دن مختلف مواقع پر پانچ پانچ سو ڈالرز کے فنڈز دیے، تحریک انصاف نے اس کی تفصیل الگ الگ صفحات پر دی ہے، ایسے لگتاہے کہ جیسے قوالی میں ویلیں دی جاتی ہیں، کہ آپ نے بہت اچھاسرنکالا ہے، یہ لیں پانچ سو ڈالر اور، پانچ سو ڈالر اور۔ کاشف نامی ڈونر نے ایک دن میں کئی بار پیسے دیے۔عمران خان کے گویے نے اچھا سر نکالا تو اسی کاشف نے پانچویں بار بھی ڈالرز دیدیے۔
اکرم شیخ کی جانب سے یہ بات کرنے پر تحریک انصاف کے وکیل انورمنصور اپنی نشست سے اٹھے اور اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ یہ غلط بات ہے، مجھ پر جعلی دستاویزات بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ شیخ صاحب کبھی ایسا کرجاتے ہیں مگر بات تو ٹھیک کررہے ہیں، ان دستاویزات میں ایسی چیزیں ہیں اس کی آپ کو وضاحت کرنا چاہیے۔ وکیل انورمنصور نے کہاکہ اگر میں نے دستاویزات بنانا ہوتیں تو ایسا نہ کرتا ۔ گزشتہ روز میڈیا میں یہ بات مجھ سے منسوب کرکے چلائی جاتی رہی۔ جسٹس فیصل عرب نے درخواست گزار کے وکیل سے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص نے پانچ دوستوں کی طرف سے رقم دے کر خود ہی تمام رسیدیں بنالی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بات تصدیق شدہ تو نہیں ہوسکتاہے کہ اس طرح ہواہو۔ وکیل بولے کہ ممکنات میں تو بہت کچھ ہوسکتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہی کہہ رہے کہ ثابت ہوئے بغیر نااہلی کی طرف کیسے جائیں۔وکیل نے کہاکہ عدالت تصدیق کرائے اورمقدمہ درج کرائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس کیس میں کیسے مقدمہ درج کراسکتے ہیں؟۔ وکیل بولے کہ جب یہ عدالت چاہتی ہے تو مقدمے درج بھی کراتی ہے، یہ کاغذ خود بتارہے ہیںکہ جھوٹے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے بھی ان دستاویزات میں کچھ چیزیں نوٹس کی ہیں۔ وکیل نے کہاکہ کیا یہ عدالت اس سلوک کی مستحق ہے کہ ایسے کاغذ پیش کیے جائیں؟۔ یہ دستاویز جعلی اور عطیہ دہندگان گھوسٹ ہیں۔چودہ جون کو اس کیس کی آخری سماعت ہوئی تھی اوراب گیارہ جولائی سے دوبارہ سماعت کا آغاز ہواہے، اس دوران سات جولائی کو یہ دستاویزات ہمارے دلائل سننے کے بعد تیار کرکے لائے گئیں۔
اس موقع پر اچانک انور منصور واپس جاکر اپنی نشست پر بیٹھ گئے تو اکرم شیخ نے کہاکہ فاضل وکیل دوست بیمار تھے، مدینہ کی کھجوروں کا برادہ ان کو بھیجوں گا، ایمان ہے کہ مدینہ کی کھجوریں دل کی کثافتوں کو دور کرتی ہیں۔ چیف جسٹس وکیل کا جملہ نوٹ کرتے ہوئے مسکرائے اور کہا کہ شیخ صاحب، دل کی بیماریوں کو دور کرتی ہے، کثافت کسی اور چیز کو کہتے ہیں۔
وکیل نے کہاکہ تحریک انصاف نے تسلیم کیا ہے کہ کیلی فورنیا سے گیارہ لاکھ چھیاسی ہزار ڈالرز پاکستان لائے گئے، ان کی دستاویزات سے ہم نے اعدادوشمار اکھٹے کیے تو یہ ساڑھے آٹھ لاکھ ڈالرز بنتے ہیں، اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ میناکاری کی طرز پر فرض کاری ہے، تحریک انصاف نے جو بتایاہے اس کی ہی درست دستاویزات جمع کرادیتے۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ یہ جمع تفریق کرنے کیلئے ہمیں بھی اکاﺅنٹنٹ کی ضرورت ہوگی۔ وکیل بولے کہ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتاکہ کوئی آپ کو رقم دے اور آپ اس کو اس کی معلومات نہ ہوں۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ اس مقدمے میں کرنسی باہرسے پاکستان آنے کا معاملہ ہے ، یہاں سے پیسے باہر نہیں گئے۔ وکیل نے کہاکہ یہ امریکا سے رقم آئی ہے۔ جسٹس فیصل نے کہاکہ کیاحکومتیں امریکا سے پیسے نہیں لیتیں؟۔ وکیل نے کہاکہ امریکی پالیسیوں نے ہمارے ملک کا بیڑا غرق کردیا۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ یہ خارجہ پالیسی اور تعلقات کامعاملہ ہے، عدالت سے متعلق نہیں۔ وکیل نے کہاکہ تحریک انصاف کی فنڈز کی دستاویزات شفاف نہیں، یہ شک و شبہے سے بالاتر بھی نہیں، باربار ایک ہی رقم اور ایک ہی شخص کا نام مختلف جگہوں پر لکھا گیا ہے، ایسے کئی افراد کے ناموں کی نشاندہی کرسکتے ہیں، کیلی فورنیا میں ایک سو پچانوے کارپوریشنز نے ان کو فنڈز دیے، ہم نے تمام دستاویزات امریکا کی سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کیں اوریہ تصدیق شدہ ہیں۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ ان دستاویزات پر مدعا علیہ سے جواب مانگنا چاہیے تھا۔ وکیل بولے کہ گزشتہ سال نومبر سے یہ مقدمہ یہاں ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے بھی دستاویزات نہیں دیتے، تحریک انصاف نے چوتھی بار اس کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاہے۔لاکھوں ڈالرز لیے مگر دینے والوں کی معلومات نہیں، اس میں بڑا حصہ ممنوعہ فنڈز تھے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ممنوعہ فنڈز لینے کی سزا کیاہے؟۔ وکیل بولے کہ ایک سزا فنڈز کی ضبطی ہے۔مگر میرا مقدمہ یہ ہے کہ پارٹی کے سربراہ نے ممنوعہ فنڈز نہ لینے کا بیان حلفی دیاہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ وزارت داخلہ اس پر کارروائی کی قانونی مجازہے مگر عدالت میں اس پر زور نہیں دیا گیا، وکیل بولے کہ عدالت نے کہاتھااس پر بعد میں غورکیاجائے گا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کی پہلی استدعا ہی عمران خان کی نااہلی ہے۔ وکیل نے کہاکہ ملک میں گیارہ سو منتخب نمائندے ہیں، اس طرح عدالت سے نااہلی کے فیصلہ نہیں چاہتے مگر شفافیت یقینی بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے تاکہ ملک کا پارلیمانی نظام آلودہ نہ ہونے پائے۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ کیا کسی رکن پارلیمان کے پاس مکان کاکرایہ ادا کرنے کے گواہ نہ ہوں تو وہ بھی نااہل قرار پائے گا؟۔ وکیل نے کہاکہ جمعہ کے مبارک دن اس عدالت سے ملک کے وزیراعظم اس بناءپر نااہل ہوئے کہ تنخواہ وصول نہیں کی، اس طرح عدالت کے پاس نااہلی کا اختیارہے کیونکہ وہ پانچ ججوں کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اس فیصلے کا حوالہ نہیں دے رہے مگرقانون کے مطابق کسی رکن نے اثاثے ظاہر نہیں کیے تو نااہلی بنتی ہے۔ وکیل نے کہاکہ اگر ایک قانون ساز اپنے نجی معاملات میں شفاف نہ ہو تو کیا وہ قومی معاملات میں قیادت کااہل ہوسکتاہے؟۔ مغرب میں آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ نہیں مگر وہاں بھی عوام توقع کرتے ہیں کہ ان کی قیادت کا معیار اعلی ہو۔وہاں بھی عام آدمی اور لیڈر کیلئے معیار مختلف ہیں۔کیا کسی سیاسی جماعت خواہ وہ کوئی بھی ہو، اسے غیرملکی کمپنیوں سے فنڈز لے کر پاکستان کے معاشرے کو تبدیل کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔غیرملکی فنڈنگ کے پاکستان کی خودمختاری پر اثرات ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس کیلئے قانون میں ازالہ یہی ہے کہ فنڈز ضبط ہوں۔ وکیل بولے کہ یہ صرف پارٹی کیلئے سزا ہے، اگر پارٹی کے سربراہ کوسرٹیفیکیٹ دیدیں کہ وہ منصب حق وصداقت پر فائز ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، یہ عدالت کی مرضی ہے۔
چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل کو ہدایت کی کہ عمران خان کے غیرملکی فنڈزنہ لینے کے بیان حلفی پر جواب دیں کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے کیونکہ درخواست گزار نے فنڈز دستاویزات کے اصل ہونے کو بھی چیلنج کیاہے،قانون کی مقصد کیلئے تشریح ہونی چاہیے، سرٹیفیکیٹ کا مطلب حقائق کی تصدیق ہوتاہے، درخواست گزار نے دکھایا ہے کہ تحریک انصاف کو عطیہ دینے والے نہ صرف غیرملکی کمپنیاں ہیں بلکہ غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔ وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ ضروری نہیں ہرمقدمے میں جے آئی ٹی بنائی جائے، عدالت خود بھی دستاویزات کی تصدیق کراسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ تحریک انصاف اپنی فہرست سے عدالت کو دکھادے اگر درخواست گزار کی دستاویزات درست نہیں، ہم خود اس معاملے میں محتاط رہنا چاہتے ہیں۔ وکیل بولے کہ مقصد سچائی تک پہنچناہے، عدالتی اسٹاف سے امریکی ویب سائٹ پر موجود فہرست ڈاﺅن لوڈ کرالی جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم شواہد اکھٹے نہیں کریں گے، مدعا علیہ کو خود اس پر جواب دینے دیں۔ تحریک انصاف کے وکیل نے کہاکہ اس کیلئے قانون کو دیکھنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں بھی علم ہے کہ ممنوعہ ذرائع کی تشریح قانون میں موجو د نہیں مگر دیگر شقوں میں اس کے حوالے دستیاب ہیں۔
سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

 

 

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button