کالم

آشیانہ اداس ہے

اگست 13, 2017 6 min

آشیانہ اداس ہے

Reading Time: 6 minutes

اعجاز منگی
عورتوں کے دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک حسین اور ایک بیحد حسین۔ وہ ایک بیحد حسین عورت تھی۔ ہم اس کے اس حسن کی بات نہیں کر رہے جو جسمانی ہوتا ہے۔ وہ اس کے اس حسن کا تذکرہ کر رہے ہیں جو روحانی اور جذباتی ہوتا ہے۔ وہ جذباتی حوالے سے دنیا کی حسین ترین عورتوں میں ایک تھی۔ وہ عورت جس نے جرمنی میں جنم لیا۔ اس جرمنی میں جس جرمنی نے صرف ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کو ہی نہیں بلکہ بتھوون ؛ باخ اور شوپنہار کے ساتھ ساتھ اس آئنسٹائن کو بھی جنم دیا تھا جس نے کہا تھا کہ’’تصور علم سے زیادہ طاقتور ہے‘‘
وہ لڑکی بھی ایک تصور تھی۔ جس لڑکی نے پہلی جنگ عظیم کے کھنڈارت سے جنم لیا اور دوسری جنگ عظیم کے زخم کھاتی رہی۔ اس لڑکی نے اس جرمنی میں جنم لیا جو جرمنی پہلی جنگ عظیم کی ذلت آمیز شکست کا انتقام لینے کے لیے ہٹلر کی صورت ہواؤں میں اپنے مکے لہرا تاتھا۔ مگر وہ لڑکی ایوا براؤن جیسی نہیں تھی۔ اس کے دل میں کوئی بھی منفی احساس نہیں تھا۔ وہ مکمل طور پر ایک مثبت لڑکی تھی۔ وہ لڑکی جس نے اپنی حساس آنکھوں سے اپنے ملک میدان جنگ میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ جب دنیا کی بھیانک ترین جنگ شروع ہوئی اس وقت اس لڑکی کی عمر دس برس تھی اور جرمنی کے دو ٹکڑے ہوئے تب اس لڑکی کی عمر سولہ برس تھی۔ وہ لڑکی جو ہٹلر کے فاشسٹ نظریے کے جال میں نہ پھنسی۔ وہ لڑکی جو ’’ایک سپیشل آریا عورت‘‘ ہونے والی نفسیاتی بیماری میں مبتلا نہ ہوئی۔ وہ لڑکی جس کی آنکھوں میں دنیا پر حکومت کرنے کا خواب نہ تھا۔ وہ لڑکی جو دنیا کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ وہ لڑکی جس کو چرچ میں بجتے ہوئے گھنٹوں کی صدائیں پسند تھیں۔ وہ لڑکی جس کو یسوع مسیح کے حوالے سے بہت ساری دعائیں یاد تھیں۔
وہ ایک نرم اور نیک دل لڑکی تھی جس کا مشرقی جرمنی والا گھر بمباری میں کھنڈر بن گیا اور سولہ برس کی بچی اپنے خاندان کے ساتھ مغربی جرمنی منتقل ہوگئی۔ اگر وہ جرمن قومپرست ہوتی تو پوری زندگی ’’دیوار برلن‘‘ کے خلاف سیاسی جدوجہد کرتی رہتی مگر وہ قومپرستی سے ماورا تھی۔ اس کا دل پوری دھرتی کے لیے دھڑکتا تھا۔ وہ انسانیت سے محبت کرنے والی عورت تھی۔ وہ عورت جو کیتھولک فرقے کی تنظیم ’’ڈاٹرس آف دی ہارٹ آف میری‘‘ کی ہدایت پر انڈیا جا رہی تھی مگراس سرزمین نے اسے روک دیا اور ویزے کی وجہ سے اسے جو تھوڑی دیر ہوئی اس دیر میں اس نے اس ملک میں رہنے کا فیصلہ کرلیا ۔ وہ عورت جو اکتیس برس کی عمر میں پاکستان آئی اوراس نے اس ملک کو جذام کے خلاف جہدوجہد کے میدان کے طور پر قبول کیا۔ اس کی زندگی کے ستاون برس جذام جیسے خطرناک مرض کے خلاف جدوجہد کی داستان ہیں۔
یہ وہ دور تھا جب جذام کے مرض میں مبتلا مریضوں سے خاندان والے بھی خوف محسوس کرتے تھے۔ اس دور میں اس عورت نے جذام کا مقابلہ محبت سے کیا۔ وہ عورت جو میراں بائی سے ناآشنا تھی۔ اس عورت نے شاید پوری زندگی میراں بائی کا نام بھی نہیں سنا۔ مگر اس عورت کو بھی میراں بائی کی مانند یقین تھا کہ ’’محبت دل کا وہ ہتھیار ہے جس سے ہر دیوار گرائی جاسکتی ہے‘‘ اور اس عورت نے جذام جیسے مرض کو مات کیا۔ اس عورت کی وجہ سے پاکستان ایشیا کا جذام سے پاک ملک قرار پایا۔ یہ سب کچھ جو ناممکن تھا؛ وہ سب ممکن بنا ؛ صرف اس دل کی وجہ سے جس میں انسانیت کے لیے محبت تھی۔انسانیت کے لیے دھڑکنے والا وہ دل گذشتہ روز خاموش ہوگیا۔
وہ دس اگست کی صبح تھی جب ڈاکٹر نے بھاری آواز کے ساتھ سفید لباس والی ایک راہبہ کو اطلاع دی کہ ’’ڈاکٹر رتھ اب ہمارے درمیاں نہیں رہی‘‘ اس سفید لباس والی نن نے صلیب کا نشان بنایا اور اس کی سماعتوں میں کہیں دور چرچ کا گھنٹہ بجنے لگا اور ایک سفید کبوتر اڑتا ہوا نیلی فضاؤں میں غائب ہوگیا اور اس عمر رسیدہ عورت کی تصویر کو پاکستان کی بہت ساری بھیگی آنکھوں نے محبت کے ساتھ دیکھا۔بہت ساری لڑکیوں نے اپنے دل میں عہد کیا وہ انسانیت کی خدمت اس طرح کریں گی جس طرح ڈاکٹر رتھ فاؤ نے کی۔ وہ اس ملک کی نیک اور نرم دل لڑکیوں کی رول ماڈل ہے۔ اس معاشرے کو ایسے رول مڈلز کی ضرورت ہے۔ یہ معاشرہ جس میں بہت ساری لڑکیاں جوانی کی سرحد میں قدم رکھنے سے قبل ہی شوبز ماڈل بننے کے خواب دیکھتی ہیں۔ یہ معاشرہ جس کا میڈیا اپنا قیمتی وقت عوامی مسائل کو پیش کرنے پر نہیں بلکہ ماڈل ایان علی کے میکپ اور ڈریسنگ پر اظہار خیال کرنے میں ضایع کرتاہے۔ یہ معاشرہ جو جذباتی اور احساساتی حوالے سے جذام کا مریض ہے۔اس معاشرے کو ایان علی جیسی ماڈلز کی نہیں بلکہ ڈاکٹر رتھ فاؤ جیسی ماڈلز کی ضرورت ہے۔
اس معاشرے کے مڈل کلاس کا بہت بڑا حصہ پاکستان کو پنجرے کی طرح سمجھتا ہے۔ اس کی حسرت ہے کہ امریکہ اور یورپ چلا جائے۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ اس مڈل کلاسی سوچ کے گال پر زوردار تھپڑ ہے۔ وہ تھپڑ اس مڈل کلاس کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ وہ اپنے ملک کو چھوڑ پر یورپ میں دوسرے درجے کے شہری بن کر جینے کے لیے تیار ہیں مگر رتھ جوانی میں یورپ کا خوبصورت ملک چھوڑ کر اس ملک میں آئی اور اس نے یہاں دکھوں میں مبتلا مریضوں کی خدمت کی۔ وہ عورت جس کو پاکستان کی طرف سے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کا اعلان کیا گیا وہ عورت پاکستان میں مستقل مشیر برائے مرض جذام تھی۔ وہ عورت جس کو اس کی تنظیم نے انڈیا میں کام کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ وہ عورت محض ایک اتفاق سے کچھ دن کراچی میں رک گئی اور جب اس نے یہاں پر آئی آئی چندریگر روڈ پر جذام میں مبتلا مریضوں کی کالونی کا دورہ کیا تو اس کے دل تڑپ اٹھا اور اس نے اپنی تنظیم سے کہا کہ وہ یہاں کام کرنا چاہتی ہے اور پھر وہ سب کچھ بھول کر جذام میں مبتلا مریضوں کی خدمت میں مگن ہوگئی۔
جذام میں مبتلا مریضوں سے گھر والے بھی ڈرتے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ رتھ فاؤ انہیں محبت کے ساتھ چھوتی اور ان کی زخموں پر مرہم رکھتی اور انہیں حوصلہ دیتی ہے اور وہ بھی بغیر کسی لالچ اور مجبوری کے! تو جزام کے مریضوں کے لیے اس معاشرے میں سوچ کی تبدیلی آئی۔ سوچ کی اس تبدیلی کا سبب رتھ فاؤ تھی۔ وہ رتھ فاؤ جس نے پورے پاکستان میں جذام کے مریضوں کے علاج کے لیے مراکز کام کیے۔ اس کا کام صرف کراچی تک محدود نہیں تھا۔ وہ کے پی کے سے لیکر کشمیر تک ہر جگہ گئی اور اس نے جذام کے خلاف طبی اور نفسیاتی جنگ لڑی ۔یہ جنگ ایک دن ؛ ایک ہفتے؛ ایک ماہ یا ایک سال کی نہ تھی۔ یہ جنگ ستاون برس کی جنگ تھی۔ یہ بہت بڑی اوربہت تھکا دینے والی جنگ تھی۔ یہ جنگ ڈاکٹر رتھ فاؤ مستقل مزاجی سے لڑتی رہی۔ اس جنگ میں جیت تو رتھ فاؤ کی ہونی ہی تھی۔ یہ جنگ رتھ فاؤ نے اس حوالے سے جیتی کہ ان کی وجہ سے پاکستان ایشیا کا پہلا جذام سے پاک ملک بن گیا۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ یہ ایک بہت بڑے فخر کی بات تھی۔ اس ملک کے لیے بھی اور اس عورت کے لیے بھی جو اس ملک کے کلچر میں رچ بس گئی۔ وہ گوری میم اس معاشرے میں جینزیا منی سکرٹ پہن کر نہیں پھرتی تھی۔ اس کی اکثر تصاویر میں اسے سر پر چادر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ صرف جذام کے مریضوں کے کا جسمانی علاج کرنے میں مشغول نہ تھی۔ اس نے ہمارے معاشرے میں خودغرضی اور خود ترسی میں مبتلا انسانوں کا نفسیاتی علاج کرنے کی بھی مستقل کوشش کی۔ اس نے جرمن زبان میں چار کتابیں لکھیں۔ان کی ایک کتاب کا انگریزی میں ترجمہ بھی ہوا ہے۔ان کی اس کتاب کا نام ہے ’’ٹو لائٹ اے کینڈل‘‘۔ یعنی ’’ایک موم بتی روشن کرنا‘‘
ہمارے میں معاشرے میں موم بتیاں جلانے کا عمل این جی او کلچر بن چکا ہے۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ اس کلچر کی ہمت افزائی کرنے والی خاتون نہ تھی۔ وہ تو بذات خود ایک موم بتی تھی۔ وہ موم بتی بن کر کے پی کے اور کشمیر کے ان ہسپتالوں میں جلتی رہی جن میں جذام کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہم قندیل پر تو ڈرامہ بناتے اور چلاتے ہیں۔ ہم اس پردیسی عورت پر ڈاکیومینٹری تک نہیں بناتے جو عورت ایک مثال ہے۔ ایک ماڈل ہے۔ ایک گائیڈ ہے۔
اس عورت کو پاکستان کی مدر ٹریسا قرار ددیا گیا ہے ؛ مگر جس طرح مدر ٹریسا کلکتہ کی رتھ فاؤ نہیں تھیں؛ اسی طرح رتھ فاؤ پاکستان کی مدر ٹریسا نہیں ہیں۔ ہر ملک کی دھرتی کو سیراب کرنے والی ندی کا اپنا نام ہوتا ہے۔ اس کا نام ’’سسٹر رتھ فاؤ ‘‘ تھا۔ یہ نام اسے خود بھی پسند تھا۔ یہ نام بہت خوبصورت ہے۔ اس عورت کی طرح جو اپنے بڑھاپے میں زیادہ حسین ہوگئی۔ وہ بڑھاپے میں ایک فاختہ کی طرح نظر آتی تھی۔ ایسی فاختہ جو سفید جھیلوں اور سبز درختوں والی دھرتی پر چھائی فضاؤں میں اڑتی تھی۔ وہ فاختہ اڑتے اڑتے اس دھرتی کے دائرے سے نکل گئی اور دھرتی ایک ویران آشیانے کے مانند اداس ہے۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے