چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

اعجاز منگی
ستر برس قبل جب یہ ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا اس وقت عالمی حالات بہت مختلف تھے۔ وہ دنیا ایک دوسری دنیا تھی جس کی زخمی آغوش میں اس ملک نے جنم لیا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب دوسری جنگ عظیم کو ختم ہوئے ابھی دو برس ہوئے تھے۔ ابھی یورپ کا وجود زخموں سے چور تھا۔ دنیا 80 لاکھ فوجی سپاہیوں اور 40 لاکھ شہریوں کے لاشوں پر ماتم میں مصروف تھی۔ ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کے لاشوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی دھرتی سوچنے اور سمجھنے کے قابل بھی نہ تھی۔
دوسری جنگ عظیم ختم تو ہو چکی تھی مگر دنیا ابھی تک میدان جنگ میں بھٹک رہی تھی۔ جاپان کے دو شہر شمشمان گھاٹ میں تبدیل ہوچکے تھے۔ اپنی آنکھوں کے سارے آنسو زندگی رو چکی تھی۔ انسانوں نے اتنے بھیانک مناظر دیکھے تھے کہ وہ بے حس بن چکے تھے۔ رونے ؛ ہنسنے اور خاموش نظروں سے دیکھنے والے انساں گوشت سے بنے ہوئے روبوٹ بن چکے تھے۔وہ انسان جو اپنے اپنے ملکوں کے تباہ حال فوجی مراکز میں زندہ بچے جانے والے اپنے پیاروں کے پتے پوچھ رہے تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ کون کہاں مرا؟ابھی تو مختلف ملکوں کی سرحدوں کے آس پاس’’ گمنام سپاہیوں کے قبرستان‘‘ بن رہے تھے۔ ابھی تو سنگ مرر سے بنا ہوا وہ اجتماعی سنگ لحد بھی نہیں بنا تھا جس پر لکھا جانے والا تھا کہ:
’’اے گرم پانیوں کے پرندوں
تم اس برفاب بستی میں کیوں آئے۔۔۔۔!!‘‘
اور ان سپاہیوں میں صرف نیلی آنکھوں میں یورپی نوجوان ہی نہیں بلکہ سانولی رنگت والے وہ سپاہی بھی تھے جن کے گاؤں بحر ہند اور عربی سمندر کے آغوش میں تھے۔
ابھی دنیا کے ناول نگار اپنا سر بچانے کے فکر میں تھے۔ ابھی ہیمنگوے نے کورے کاغذ پر ’’وداع جنگ‘‘ والے الفاظ نہیں لکھے تھے۔ ابھی دوسری جنگ عظیم کے کوئلوں کی راکھ اس قدر گرم تھی کہ سرد جنگ کے سیاسی سپاہیوں کے اپنا پیر رکھنا بہت مشکل تھا۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ دوسری جنگ عظیم کے دوراں دنیا کو پہنچے والے نقصان کو اپنے فاعدے میں تبدیل کر رہا تھا اور روس اپنے وجود کی راکھ سے ابھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ابھی منجمد آنسوؤں والے ملک کے رخساروں پر سورج کی کرنیں نہیں پڑی تھیں۔ ابھی بورس پاسترناک نے اپنی کمرے کی کھڑی سے پردہ ہٹا کر حد نگاہ پھیلی ہوئی برف کو دیکھ کر ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ کے یہ الفظ تحریر نہیں کیے کہ:
’’زندگی کس قدر حسین ہے!
اس نے سوچا
پھر یہ اتنا درد کیوں دیتی ہے؟‘‘
جس وقت اس ملک نے جنم لیا؛ اس وقت عالمی سیاست ایک دور سے دوسرے دور میں داخل ہو رہی تھی۔ یہ آبادیاتی دور کی انتہا اور نو آبادیاتی دور کی ابتدا کا وقت تھا۔
یہ وہ دور تھا جب سرمائے نے مارکیٹ اکانومی میں اپنے سامری جلوے نہیں دکھائے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب چار صفحات والے ہفتہ روزہ اخبار کا ایڈیٹر اپنی شیروانی کی جیب میں قلم سجا کر ملکی صدر کے ساتھ فخر سے ملتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب تنگ چولیاں اور کشادہ غرارے پہننے والے پردہ دار خواتین والز والے ریڈیو پر پروگرام پیش کرنے والے آرٹسٹوں کی آواز سن کر اپنے ذہن کے کینواس پر ان کی اپنی مرضی اور محرومی کے رنگوں سے من پسند تصویر پینٹ کرتی تھیں۔
وہ وقت شہر کی شام جیسا نہیں؛ وہ وقت گاؤں کی صبح جیسا تھا۔ اس وقت ہر چیز تازہ تازہ اور نئی نئی تھی۔ اس وقت میں جنم لینے والے اس ملک میں بہت سارے لوگ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ’’تقسیم‘‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ان کو بہت جلد معلوم ہوا کہ لاہور سے امرتسر جانے کے لیے بھی پاسپورٹ اور ویزے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ جب صرف شہر اور زبانیں ہی نہیں بلکہ خاندان اور محبت کی کہانیاں بھی تقسیم کے دائرے میں داخل ہوئی تھیں۔
وہ دور انگریز ناول نگار چارلس ڈکنس کے مشہور ناول ’’اے ٹیل آف ٹو سٹیز‘‘ کے ابتدائی پیراگراف جیسا تھا۔وہ دور اپنی تمام تر سادگی اور سچائی کے ساتھ تاریخ کے ستر برس تلے دفن ہوگیا ہے۔ اب نہ بھارت کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ’’ پاکستان ایک ناقابل عمل منصوبہ ہے‘‘ اور نہ پاکستان میں کسی کو خدشہ ہے کہ ’’ممکن ہے کہ ہم ملک نے چلا پائیں‘‘ اب بہت وقت گذر چکا ہے ۔ ہم فریڈرک اینگلز کی اس بات پر پھر کبھی مباحثہ کریں گے کہ ریاست کا وجود فطری ہے یا نہیں؟ مگر ایک ریاست کس طرح اپنے آپ کو کمل کرتی ہے؟ کس طرح اپنے آپ کو مسلح کرتی ہے؟ کس طرح اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہے؟ کس طرح جنگیں لڑتی ہے؟ کس طرح گرتی؛ سنبھلتی اور سیکھتی ہے؟ اور وہ کس طرح بڑی ہوتی جاتی ہے؟ ایسے سینکڑوں سوالات کے جوابات ہماری آنکھوں کے اسکرین پرابھرتے رہے ہیں۔
گذشتہ ستر برس کے دوراں پاکستان ہر رخ میں بڑا ہوتا رہا ہے مگر اس کی سیاست وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ارتقائی مراحل طعہ نہیں کرسکی ہے۔ یہ ایک بہت افسوسناک سچ ہے کہ پاکستان بہت سارے شعبوں میں آگے نکل آیا ہے مگر اس کی سیاست ابھی تک بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ یہ ملک جب وجود میں آیا تھا تب اس کی آبادی سات کروڑ اور چند لاکھ تھی ۔ اس وقت مشرقی پاکستان کی آبادی چار کروڑ اور مغربی پاکستان کی آبادی تین کروڑ اور کچھ لاکھ تھی۔ اس کا مطلب کہ موجودہ پاکستان کی آبادی اس وقت تین کروڑ تھی اور اب اس کی آبادی اکیس کروڑ سے زیادہ ہے۔پاکستان کی آبادی میں سات عشروں کے دوراں سات مرتبہ اضافہ ہوا ہے اور یہ صرف آبادی میں اضافہ نہیں ہوا مگر زندگی کے ہررخ میں اس قوم نے پیش قدمی کی ہے۔ یہ قوم جس کے دریاؤں پر پل نہ ہونے کی وجہ سے نزدیکی منزل بھی دور تھی؛ اس قوم کے آسمان پر اب ایف سولہ طیارے پرواز کرتے ہیں۔ وہ قوم جس کے ادارے بہت کم اور کمزور تھے وہ قوم اب بہت سارے مضبوط اداروں کی مالک ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ملک کی ترقی کی رفتار جتنی ہوسکتی تھی اتنی نہیں ہوپائی ہے۔مگر سیاست میں اس ملک کا سفر ’’ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے‘‘ کا عکس پیش کرتا رہا ہے۔ اس ملک نے برے حالات میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاضرہ کیا ہے۔ اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اس ملک کے افراد بہت اچھی صلاحیتوں کے مالک رہے ہیں۔ اس کا اعتراف انڈیا کے لوگ بھی کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے لوگ تیز اور تخلیقی ذہن کے مالک ہیں۔ ان افراد نے زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے مگر سیاست کے میدان میں اس قوم کو برائے نام کامیابی بھی حاصل نہیں ہو پائی۔
اس حقیقت کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے کہ بیسویں صدی کے آخرے عشروں کے دوراں عالمی سیاست کی اسٹیج عظیم سیاسی رہنماؤں سے محروم ہوتی رہی ہے۔ اگر پاکستان میں آج قائد اعظم جیسی شخصیات کا قحط ہے تو دنیا کے دیگر ممالک بھی ایسے لیڈروں سے محروم ہیں جنہوں نے دوعظیم جنگوں کی وجہ سے تباہ ہونے والے اپنے ممالک کو ترقی کی بلندی پر پہنچایا۔ کیا یہ ایک المیہ نہیں کہ امریکہ کی وہ صدارتی کرسی جس پر کبھی ابراہم لنکن اور جارج واشنگٹن جیسے صدر براجمان تھے اب اس کرسی پر ڈونالڈ ٹرمپ رونق افروز ہے! اس وقت فرانس میں روس میں لینن تو کیا اسٹالن بھی نہیں اور برطانیہ میں کوئی چرچل پیدا نہیں ہو رہا ہے۔ آج فرانس میں نپولین بونا پارٹ تو کیا کوئی ڈی گال بھی نہیں۔ جرمنی کے حوالے سے بات صرف بسمارک کی نہیں؛ ہٹلر کو بھلے افسوسناک حادثہ قرار دیا جائے مگر کیا آج جرمنی میں کوئی ولی برانٹ ہے؟ کل تو ویٹنام میں بھی ہوچی منہ تھا مگر آج چین میں کوئی ماؤ زے تنگ نہیں۔ اور بھارت کو سیاسی بحرانوں سے نکالنے والا کوئی نہرو نہیں۔یہ سیاسی حوالے سے زوال کا زمانہ ہے۔ مگر گذشتہ ستر برسوں کے دوراں مذکورہ ممالک میں سیاسی رہنماؤں نے مضبوط سیاسی ادروں کی تشکیل کی۔ وہ ممالک اپنے طاقتور سیاسی اداروں کی وجہ سے سرد جنگ کا جھٹکا بھی برداشت کر گئے مگر یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ستر برس کے بعد بھی ہمارا ملک سیاسی حوالے سے مقابلے کا میدان بنا ہوا ہے اور سیاستدان اپنے اداروں کو ہسپانوی ناول نگار سروانتیز کے مشہور کردار ’’ڈان کئی زوٹ‘‘ کی طرح فتح کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔
یہ ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ جس شام پنجاب کے دارالحکومت اور پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں سپریم کورٹ کی طرف سے ناہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا تاریخی استقبال کرنے کے لیے ڈھول بجائے اور گھوڑے نچائے جا رہے تھے اس وقت کوئٹہ ایک بار پھر دہشتگردی کا نشانہ بن چکا تھا۔ جس وقت لاہور میں فلک شگاف نعرے لگ رہے تھے اس وقت کوئٹہ چیخ رہا تھا۔ جس وقت لاہور میں سیاسی نغمے گونج رہے تھے؛ اس وقت کوئٹہ لہو میں ڈوبا ہوا تھا۔ جس وقت لاہور میں استقبالی آتش بازی کا مظاہرے ہو رہے تھے اس وقت کوئٹہ کے پشین چوک پر بلند ہونے والے آگ کے ان شعلوں کو بجھانے کی کوشش ہو رہی تھی جن میں دو درجن انسان جل کر خاک ہوگئے۔
اور اس رات ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے رہنما نے وسیع تر ملکی مفاد میں اپنا سیاسی شو ملتوی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس رات ملکی میڈیا کے اسکرین دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک حصہ کوئٹہ کے میں تباہی کے مناظر پیش کر رہا تھا اور دوسرا حصہ سیاسی احتجاج کا شو پیش کر رہا تھا۔
وہ تیرہ اگست کی رات تھی۔ بظاہر روشن مگر بہت تاریک!
وہ تیرہ اگست کی رات تھی جو اپنے زخمی ہونٹوں سے ملکی سیاست کے ستر سالہ سفر کی کہانی سنا رہی تھی!!
وہ تیرہ اگست کی رات تھی جب چوراہوں پر بچے حب الوطنی سے سجے ہوئے اسٹالوں سے سبز حلالی پرچم خرید کر لہرا رہے تھے اور مختلف ممالک میں چودہ اگست کی تقریبات کا جائزہ لیا جا رہا تھا اور اس دن کے لیے کالم نگار اپنے روایتی کالموں کے لیے فیض احمد فیض کی مشہور نظم کے یہ الفاظ نقل کر رہے تھے کہ:
’’یہ وہ سحر تو نہیں
جس کی آروز لیکر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کی دشت میں تاروں کی آخری منزل۔۔۔!!
نجات دید و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی!

متعلقہ مضامین