”عظمت کا راز‘‘

 تیسری بار اقتدار سے نکالے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف جی ٹی روڈ پر پاور شو کے بعد رائیونڈ میں واقع اپنے اس گھر پہنچ چکے جہاں انہیں پہنچانے کی آرزو کئی دیدہ و نادیدہ قوتوں نے کی تھی۔ یہ الگ بات کہ کسی نے بھی نہ سوچا تھا کہ نواز شریف اس سج دہج سے گھر جائے گا جس کی حسرت اس کے حریف بھی اب دل میں ضرور رکھتے ہوں گے۔ اس کے حریف کہتے ہیں کہ وہ اتنا بدھو ہے کہ منیر نیازی کو بھی نہیں پہچانتا۔ اتنا گونگا ہے کہ کسی نیوز چینل کو انٹرویو نہیں دیتا۔ اتنا بیوقوف ہے کہ کتابیں تک نہیں پڑھتا۔ اتنا لاعلم ہے کہ پینٹ ہاؤس کو ٹینٹ ہاؤس سمجھ لیتا ہے۔ اتنا مغرور ہے کہ تنقید کا جواب نہیں دیتا۔ اتنا بے زار ہے کہ اس کا کوئی ٹویٹر اکاؤنٹ بھی نہیں۔ اتنا مصروف ہے کہ غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں اور اتنا فارغ ہے کہ مسجد نبوی میں پلاؤ کی پلیٹیں تقسیم کرتا ہے۔ غرضیکہ وہ ہر لحاظ سے ایک ’’نااہل‘‘ شخص ہے۔ اگر یہ تمام دعوے درست ہیں تو پھر یہ اس پنجاب کے اجتماعی شعور پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو بلاشبہ تعلیم و تعلم کے میدان میں باقی صوبوں سے آگے ہے۔ جس کا شعور پاکستانی انٹیلی جنشیا میں غالب نظر آتا ہے اور جو علم و ادب ہی نہیں زندگی کے ہر شعبے کے ساتھ ساتھ سول و ملٹری بیورو کریسی میں زبردست بالا دستی رکھتا ہے۔ نواز شریف وزارت عظمیٰ کی کرسی تک کسی توپ یا ٹینک پر چڑھ کر کبھی نہیں پہنچا، یہ بالخصوص پنجاب کا ووٹر تھا جس نے اسے اس کرسی تک بار بار پہنچایا۔ کیا ہم پنجاب کے ووٹر کی لیاقت اور اس کی فراست کو ’’نااہل‘‘ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ کیا ہم یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب کی ہر لحاظ سے زر خیز زمین اتنی بانجھ ہے کہ پچھلے پینتیس سال میں نواز شریف جیسے نااہل کے سوا کوئی بڑے قد کا لیڈر پیدا نہیں کر سکی ؟ اگر وہ واقعی ویسا ہی ہے جیسا اس کے حریف بتاتے ہیں تو پھر اس کی اہلیت سے زیادہ پنجاب کے ووٹر کی شعوری اہلیت چیلنج ہونی چاہئے۔ وہ ووٹر کیسے اہل ہو سکتا ہے جو پینتیس سال سے نااہل کو ووٹ دیتا آرہا ہے ؟ کہنے والوں نے تو اسے سسلین مافیا کا ڈان تک کہہ ڈالا مگر سسلین مافیا کے ڈان تو خون کی ندیاں بہاتے تھے جبکہ ہماری سیاست میں ٹارگٹ کلرز تو سندھ کی دو جماعتوں کے مشہور ہیں۔ پیپلز پارٹی کے حمایتی لیاری گینگ وار کے ٹارگٹ کلرز اور متحدہ کے ٹارگٹ کلرز کوئی سربستہ راز تو نہیں۔ سسلین مافیا کے مبینہ ڈان نواز شریف کے وہ قاتل دستے کہاں اور کس نام سے پائے جاتے ہیں جن کے خوف سے اسے پینتیس سال سے ووٹ مل رہے ہیں ؟ سسلین مافیا تو سالانہ اربوں ڈالرز کی ڈرگز سمگل کرتی تھی، نواز شریف پر تو اس بھنگ کا الزام نہیں جو سندھ کے سید بادشاہ کا تعارفی حوالہ بن چکی۔ سسلین ڈان تو بہت ذہین، فہیم، تیز طرار اور شاطر لوگ ہوا کرتے تھے جبکہ آپ کا ہی دعویٰ ہے کہ نواز شریف اتنا بدھو ہے کہ پینٹ ہاؤس کو ٹینٹ ہاؤس سمجھ لیتا ہے۔ نواز شریف کے بدھو ہونے کی دلیلیں دینے والوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے دو بار سازش کرکے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کرائی۔ محترمہ تو اتنی قابل تھیں کہ منیر نیازی ہی نہیں شیکسپئر کو بھی جانتی تھیں۔ اتنی فصیح تھیں کہ جب بولتیں تو ہاورڈ کے پروفیسر بھی انگلیاں منہ دبا لیتے تھے۔ اتنی ذہین تھیں کہ کتابیں ہی نہیں عالمی جرائد کے مطالعے کی اہمیت سے بھی آشنا تھیں ۔ اتنی فاضلہ تھیں کہ پینٹ ہاؤس کو پینٹ ہاؤس ہی سمجھتیں۔ اتنی متواضع تھیں کہ ہر تنقید کا جواب دیتیں۔ اتنی ہشاش بشاش تھیں کہ ٹویٹر تب مقبول نہ تھا ورنہ اس پر ان کا اکاؤنٹ بھی ضرور ہوتا۔ ان کی فہم و فراست اور دانائی کی ایک دنیا معترف تھی اور پھر بھی انہیں دو بار بدھو نواز شریف سے مات ہوگئی ؟ کیا عجیب بات نہیں کہ دنیا کی ذہین اور قابل ترین لیڈروں میں سے ایک محترمہ بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار حکومت کی مجموعی مدت پانچ سال ہے اور اتنی ہی مدت بدھو نواز شریف کے دونوں ادوار کی بھی ہے ؟ اگر نواز شریف کا سقم اس کا بدھو اور نااہل ہونا ہے تو محترمہ تو ان عیوب سے پاک تھیں، ان کے دونوں ادوار کی مدت نوز شریف جتنی کیوں ہے ؟ وہ دونوں بار اپنی مدت مکمل کرنے میں کیوں ناکام رہیں ؟ ماننا پڑے گا کہ مسئلہ لیاقت کا ہے اور نہ ہی مدبر یا بدھو ہونے کا۔ مسئلہ کچھ اور ہے ۔ اور وہ مسئلہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ کچھ کوارٹرز کی یہ طے شدہ پالیسی چلی آ رہی ہے کہ سیاسی ڈھانچے کو مضبوط نہیں ہونے دینا۔ ان کی سوچ میں ارتقاء بس اتنا ہوا ہے کہ پہلے وہ اسمبلی توڑ کر حکومت برطرف کرتے تھے، اب اسمبلی موجود رہنے دیتے ہیں حکومت کو برطرف کر دیتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف اس ارتقاء کے پہلے دو وکٹم ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس ارتقاء میں ریموٹ کنٹرول کا رخ ایوان صدر کی جگہ اب عدلیہ کی جانب ہو گیا ہے۔ اس ملک اور اس کے شہریوں نے کل ہی اپنی آزادی کی سترویں سالگرہ منائی ہے۔ جس ملک کا سیاسی نظام ستر سال بعد بھی آزاد نہ ہو وہ محض انگریز سے آزادی پر کیسے قانع ہو سکتا ہے ؟ ہم ایک آئین کے تحت جی رہے ہیں اور وہ آئین اتنا غیر محفوظ ہے کہ اس کے تحت قائم ادارے بدترین قسم کی غیر متوازن صورتحال سے دوچار ہیں۔ کوئی ادارہ اتنا مضبوط ہے کہ خود آئین بھی اسے دیکھ کر تینوں قل کا ورد شروع کر دیتا ہے۔ کوئی ادارہ اتنا کمزور ہے کہ دوسرے کا دست نگر بن جاتا ہے اور کوئی اتنا تہی دامن کسی کچے گھروندے کی طرح بار بار ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ جب بھی بنایا جائے کہیں سے قومی مفاد کی ایک لہر آتی ہے اور اسے بہا لے جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کی قوت ہوتے، وہ ایک دوسرے سے کشمکش میں مبتلا ہیں۔ کیا کشمکش کی یہ صورتحال ہمارے قومی تشخص کی سب سے بڑی دشمن نہیں ؟ اگر اہم ترین قومی ادارے عدم تحفظ سے دو چار ہوں۔ عوام میں بعض اداروں کے مابین کسی خفیہ ساز باز کی باتیں ہو رہی ہوں۔ پارلیمنٹ اپنے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہو اور منتخب وزیر اعظم عجیب و غریب عدالتی فیصلے کے نتیجے میں عوام کی عدالت سے رجوع کر رہا ہو تو یہ آزادی کی سترویں سالگرہ کا کوئی خوشگوار منظر قرار دیا جا سکتا ہے ؟ جب ریاست کے اہم ترین اداروں کی آزادی پر ہی سوالیہ نشان لگے ہوں تو آزادی اپنی ہمہ گیر معنویت سے محروم ہوجاتی ہے۔ ہمیں جتنی اشد ضرورت مضبوط دفاعی ادارے کی ہے اتنی ہی اشد ضرورت مضبوط عدلیہ اور مضبوط پارلیمنٹ کی بھی ہے۔ پاکستان اپنی آزادی کے ستر سال بعد بھی عظمت کی تلاش میں ہے اور کوئی سمجھنے کو تیار نہیں کہ عظمت کا راز تمام اداروں کی مضبوطی میں پنہاں ہے !

 بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے