مبینہ ریفرنس پر بھونچال

جسٹس اصف سعید کھوسہ کے خلاف  ریفرنس کی خبر کی بعد جیسے کوئی بھونچال سا آ گیا ہو ، میڈیا کے کچھ اداروں نے  مبینہ ریفرنس کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا،  خبر  باونس ہونے کے بعد بھی ہمارے دوست اپنے موقف میں تھوڑے بہت ردوبدل کے بعد ریفرنس کےدائر ہونے پر مصر ہیں، عدالتی محافظوں نے بھی اپنے اپنے محاذ سنبھال لیے ہیں، ان عدالتی محافظوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں عدلیہ کو معطل کرنے، جسٹس  آصف سعید کھوسہ سمیت سیکڑوں ججز کو گھر بھیجنے کی سازش میں شامل رہ چکے ہیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف ریفرنس کی خبر سے پہلے عدالت عالیہ اور عالت عظمی کے کئی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر ہو چکے ہیں، جب آئین ہر شہری کو کسی بھی دوسرے شہری بشمول معزز جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے، تب اگر اسپیکر ایاز صادق اعلی عدلیہ کے جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ انکا بنیادی حق ہے، اگر ریفرنس میں الزام کے ثبوت نہیں ہونگے، یا الزام ثابت نہیں ہونگے تو مسترد ہو جائے گا تو سبکی ایاز صادق کی  ہوگی، کسی بھی ریفرنس کو کسی طرح سے عدلیہ سے محاذ آرائی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ریفرنس دائر ہوتے ہی کوئی جج اپنے عہدے سے فارغ نہیں ہو جاتا، جج کے خلاف ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی کا آغاز ہو تو احتساب کرنے والے فرشتے باہر سے نہیں آئینگے، بلکہ شکایت کنندہ کی درخواست پر کاروائی کرنے والے جج کے اپنے ہی ساتھی جج ہونگے،سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی ان کیمرہ ہوتی ہے ، جویشل کونسل میں کسی جج کے خلاف کیا کاروائی ہوئی،اندر موجود ججز،شکایت کنندہ، وکیل دفاع کے علاوہ دوسرا نہیں جان سکتا، کونسل کا اجلاس ان کیمرہ ہونے کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی ہو بہو پہلے بھی باہر نہیں آتی تھی، رجسٹرار سپریم کورٹ  کی جانب سے نومبر 2015 کو جاری اعلامیے  کے بعد پیمرا نے ٹی وی چینلز کو خبر نشر کرنے سے بھی روک دیا، اگر آئین کا مطالعہ کریں تو معزز عدلیہ کے ججز کا احتساب آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل ہی کر سکتی ہے،لیکن اگر تاریخ کی کتاب پڑھی جائے تو یہ بات بھی سامنے ائے گی کہ معزز ججز کے احتساب کا یہ ادارہ  دہائیوں سے غیر فعال ہے، جوڈیشل کونسل کے ذریعے کسی جج کا آخری احتساب 1980 سے پہلے ہوا، اس کے بعد یہ ادارہ/باڈی غیر فعال چلی آرہی ہے ، ستمبر 2015 میں چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب کا حلف لینے کے بعد سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے دعوی کیا تھا کہ وہ عدلیہ کو کالی بھیڑوں سے صاف کریں گے، بد عنوان ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل میں احتساب ہوگا،انہوں نے اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل میں اعلی عدلیہ کے ججز صاحبان کے خلاف دائر ریفرنس پر کارروائی شروع کی، کئی سماعتیں ہوئی،ایک سال اور تین ماہ اور تقریبا 20 دن تک عہدے پر ذمہ داریاں سر انجام دینے کے بعد جب وہ ریٹائرڈ ہو رہے تھے تو ان سے پوچھا گیا کہ اعلی عدلیہ کے ججز کے احتساب،کالی بھیڑوں کا عدلیہ سے نکالنے کا وعدہ وفا کیوں نہ ہو سکا تو انہوں نے فرمایا کہ کرپٹ ججز کا مافیا ہمارے عدالتی نظام میں اتنا سرایت کر چکا ہے کہ وہ ایماندار ججز پر غالب ہے، ان کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی اپنے منصب کے ابتدائی ایام میں اس مقصد کے حصول کے لیے ہاتھ پاوں مارے، لیکن لگتا ہے اب وہ بھی تھک ہار کر بیٹھ گئے ہیں، وہ تمام ججز جن کے خلاف مخلتف افراد نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں،اپنے عہدوں پر براجمان اور کام کر رہے ہیں،اور کرتے رہیں گے،اس لیے اگر کسی معزز جج کے خلاف ریفرنس آبھی جائے تو اس کو عدلیہ سے محاذ آرائی سمجھا جا سکتا ہے اور  نہ ہی کوئی غیر قانونی کام_ باقی اللہ بھلا کرے جسٹس اقبال حمید الرحمان کا،ایک سچے اور کھرے جج کا فرزند تھا،اسکی ذات پر الزام لگا تو عہدے سے خود استعفی دیکر گھر چلا گیا،حالانکہ ان کی ذات پر اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا کوئی الزام نہیں تھا،باقی یہ چل چلاو کی دنیا ہے ،جھوٹے سچے الزام لگتے رہتے ہیں،جھوٹی سچی خبریں بھی ساتھ چلتی رہتی ہیں۔

متعلقہ مضامین