وکیلوں نے ہائی کورٹ پر حملہ کیوں کیا؟

سلمان نذیر
لاہور ہائیکورٹ پر وکیلوں کے حملے کی خبر آج تمام ٹی وی چینلز کی شہ سرخیوں میں ہے۔ اعلی عدلیہ اور ججوں کے خلاف کالے کوٹوں میں ملبوس وکیلوں کی نعرے بازی سے لاہورکا مال روڈ گونج اٹھا۔ پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پانی کے استعمال سے وکیلوں کو دھو ڈالا مگر یہ تنازع کب اور کیسے شروع ہوا، اس بارے میں بہت سے لوگ جاننے کے خواہش مند ہوں گے۔
قصہ دراصل ملتان کی میٹروبس سروس کیلئے روٹ بنانے کے وقت کاہے۔ سڑک کی زد میں ایک مسجد آئی اور اسے شہید کر دیا گیا۔ بعدازاں اس کو بنانے کیلئے حکومت سے زمین اور تعمیر اتی فنڈز کے حصول کی قانونی جنگ کا آغازہوا۔ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ سماعت کا آغاز ہواتو درجنوں وکیل مسجد کی طرف سے پیش ہوئے۔ چوبیس جولائی کا دن تھا جب لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں جسٹس قاسم خان کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت ہورہی تھی تو بدمزگی ہوئی۔ یہاں سے دونوں فریقوں کا موقف مختلف ہے۔ وکیل کہتے ہیں کہ بدتمیزی جج نے کی جبکہ جج قاسم خان کا موقف ہے کہ وکیلوں نے عدالتی وقار کا خیال نہیں کیا۔
کمرہ عدالت میں موجود کچھ افراد نے بعد ازاں بتایا کہ سماعت کے دوران جب روسٹرم پر دودرجن سے زائد وکیل کھڑے ہوگئے تو جج نے پوچھاکہ دلائل کون دے گا؟۔ وکیل رہنما شیر زمان قریشی نے کہاکہ سارے وکیلوں نے وکالت نامے جمع کرائے ہیں لیکن اس وقت میری طرف سے یہ وکیل صاحب دلائل دے رہے ہیں۔ جسٹس قاسم خان نے ہدایت کی کہ باقی تمام وکیل اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں۔ تاہم عدالتی ہدایت کی پروا کیے بغیر وکلاء اسی طرح روسٹرم پر کھڑے رہے۔ جسٹس قاسم خان نے دوبارہ وکیل شیرزمان اور دیگر وکیلوں سے کہاکہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں جب تک ان کے ساتھی وکیل دلائل مکمل نہیں کرتے ۔ دوبارہ ہدایت جاری ہونے سے وکیل رہنما مشتعل ہوگئے ۔ اس دوران جسٹس قاسم خان اور وکیل شیرزمان میں تلخ جملوں کاتبادلہ ہوا۔ جسٹس قاسم خان اس بدمزگی کے بعد عدالت سے اٹھ کر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔
وکیل کمرہ عدالت سے نکل کر اپنی تنظیم کے دفتر میں چلے گئے اور اجلاس بلالیا۔ وکیل شیرزمان چونکہ ہائیکورٹ ملتان بار کے صدر ہیں تو اجلاس میں جسٹس قاسم خان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔ ا س کے بعد وکیلوں کی ایک گروہ نعرے لگاتا جسٹس قاسم خان کی عدالت کے باہر پہنچا اور ان کے نام کی تختی اکھاڑ دی۔ وکیلوں نے کہاکہ جج کے تبادلے تک احتجاج جاری رہے گا۔ وکیلوں کا یہ گروہ عدالت سے باہر مرکزی شاہراہ پر نکلا اور جج کے خلاف نعرے لگائے گئے۔
دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ جو ایک منجھے ہوئے قانون دان اور سخت انتظامی افسر کے طور پر شہرت رکھتے ہیں، نے ملتان میں جج سے بدتمیزی کے واقعہ کا نوٹس لیا۔ ملتان بنچ میں کام کرنے والے چاروں ججوں کو لاہور ہائی کورٹ بلا لیا گیا اور وہاں سنے جانے والے تمام مقدمات بھی لاہور میں سننے کا انتظامی حکم جاری کیا۔ملتان کے وکیلوں نے کہاکہ وہ ہائیکورٹ بنچ اور ساہیوال سے راجن پور تک کے نو اضلاع میں قائم ستائیس عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے معاملے کی انکوائری کیلئے دو ججوں پر مشتمل کمیٹی بنائی اور وکیلوں کو اس کے سامنے پیش ہوکر اپنا موقف بتانے کا پابند کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملوث وکیل اگر ایک دن میں دوججوں کی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف سپریم کورٹ کے طارق عزیز کیس فیصلے کی روشنی میں ضابطہ اخلاق توڑنے کی کارروائی کی جائے گی، تاہم وکیلوں نے دیگر شہروں کی بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر اپنا احتجاج جاری رکھا اور ججوں کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا۔
چیف جسٹس نے حکم عدولی پر وکیلوں شیرزمان اور قیصرکاظمی کو توہین عدالت کانوٹس جاری کردیا اور اکتیس جولائی کو پیشی کیلئے کہا۔ دوسری جانب وکیلوں نے اپنا کنونشن بلا کر قرارداد منظور کی کہ توہین عدالت نوٹس پر پیش نہیں ہوں گے۔ اس کنونشن میں وکیلوں نے جمعہ کے روز علامتی ہڑتال اور نئے صوبے کیلئے قرارداد بھی منظور کی کہ جس ملتان، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال ڈویژن کیلئے الگ ہائیکورٹس ہوں۔
وکیلوں کے اس دھڑے کے خلاف سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء اور سابق ججوں کا ایک گروپ بھی سامنے آیا اور انہوں نے مختلف بارایسوسی ایشن کے نمائندوں سے مطالبہ کیاکہ غنڈہ گرد عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ سینئر وکیلوں کے اس گروپ نے نوجوان وکیلوں کے رویے کی مذمت بھی کی لیکن اس کا کچھ اثر نہیں ہوا۔ گزشتہ کئی دنوں سے مختلف اخباری بیانات کے ذریعے پکائے جانے والے لاوے کو آج لاہور ہائیکورٹ کے دروازے پر انڈیلا گیا اور پورے ملک بلکہ براہ راست ٹی وی نشریات کے ذریعے دنیا بھر میں کالے کوٹ والوں کو قانون کا منہ کالا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت میں پیش ہونے کی بجائے ملتان سے آئے غنڈوں کی سی چال ڈھال والے وکیلوں نے تاریخی عمارت کے دروازے پر دھاوا بول دیا۔ لاہور کے نوجوان وکیلوں کے ایک دھڑے نے بھی ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی اور مال روڈ کو بند کیے رکھا۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ تک وکیلوں کے توڑ پھوڑ کی خبر پہنچی تو انہوں نے غنڈہ گرد عناصر اور توہین عدالت کے مرتکب افراد کی گرفتاری کیلئے حکم جاری کردیا۔ پولیس نے چھاپہ مارا لیکن شیرزمان اپنے قریبی ساتھیوں سمیت موٹرسائیکل پر فرار ہوگیا۔
اس وقت ہرزبان پر یہی سوال ہے کہ کیا وہ عدالتیں جو ملک کے وزیراعظم کو ایک حکم کے ذریعے گھر بھیج دیتی ہیں کالے کوٹوں میں ملبوس ان غنڈوں کو جیلوں میں ڈالیں گی؟۔ اورکیا وہ بڑے بڑے وکیل جو دن رات ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں سیاست دانوں اور شہریوں کو آئین و قانون کی پابندی کا درس دیتے ہیں کیا اپنے ساتھیوں کے خلاف بولیں گے؟۔ اور کیا پنجاب بار کونسل اور پاکستان بار کونسل کے وہ کرتا دھرتا جو ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر بیانات جاری کرتے ہیں ان غنڈہ عناصر کے وکالت کے لائسنس منسوخ کرکے ان کو عبرت کا نشان بنائیں گے؟۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے