پناما نظرثانی پر فل کورٹ کیسے

اٹھائیس جولائی کا فیصلہ آیا، اعتراضات اور تحفظات کے باوجود فیصلہ پر عمل ہوا، نواز شریف مسند وزیر اعظم سے اتر کر گھر چلے گئے، جی ٹی روڈ سے لاہور سفر کے دوران انہوں نے مخلتف جگہوں پر ریلی کے شرکاٴ سے خطاب کیا، جس میں نواز شریف کا ایک ہی سوال تھا مجھے کیوں نکالا گیا، میڈیا اور سوشل میڈیا پر مجھے کیوں نکالا کا خوب چرچا ہوا، نواز شریف اور اسحاق ڈار عدالتی فیصلے پر اپنے تحفظات اور اعتراضات کی روشنی میں نظر ثانی درخواستیں دائر کر چکے ہیں، چند روز میں حسین نواز، حسن نواز اور مریم نواز بھی فیصلے پر نظر ثانی درخواستیں دائر کر دیں گے، حکمران جماعت کے رہنما رانا ثناءاللہ کی رائے میں نظر ثانی پر فل کورٹ تشکیل دیا جانا چاہیے، دیگر سیاسی،حکومتی، صحافتی حلقوں میں بھی معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کا موضوع زیر بحث ہے، نظر ثانی درخواستوں پر فل کورٹ کی تشکیل کے حامی اپنے موقف کی تائید میں تلور کے شکار کے حوالے سے عدالتی فیصلہ کا حوالہ دیتے ہیں۔
نواز شریف کی نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت کے لیے فل کورٹ کیوں تشکیل دیا جائے، اس پر بحث بعد میں کریں گے پہلے ذکر تلور شکار کے کیس کا کر لیتے ہیں کہ ایسے کیا حالات تھے جن کی وجہ سے تلور شکار پر پابندی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینا پڑا۔
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے تلور کے شکار سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کی، تین رکنی بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس دوست محمد شامل تھے، کیس مذکورہ بنچ سے پہلے بھی مختلف بنچ میں سنا جاتا رہا تھا جس کے سر براہ جسٹس جواد ایس خواجہ تھے، جسٹس جواد ایس خواجہ عام زندگی میں جنگلی حیات سے بہت لگاو رکھتے ہیں، موقع ملے تو فراغت کے لمحات پرسکون جگہوں پر گزارنا ان کی عادت میں شامل ہے، انسانیت اور جنگلی حیات کے تحفظ کا درد ان کے سینے میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اس لیے وہ اپنے گھر یا دفتر کی کھڑکی یا بالکونی میں چرند پرند کے لیے پانی اور دانے دنکے کا بندوبست ضرور کرتے ہیں تاکہ بھوکے پیاسے پرندے مستفید ہوسکیں، بات کہاں سے کہاں جا نکلی، سپریم کورٹ نے ستمبر 2015 کو تلور کے شکار پر پابندی کا فیصلہ سنا دیا، وزارت خارجہ کی جانب سے عرب ممالک کے شہزادوں کو شکار کے جاری تمام پرمٹس کالعدم قرار دے دیے، عدالتی فیصلے کے کچھ روز بعد جسٹس جواد ایس خواجہ چیف جسٹس کے منصب سے ریٹائرڈ ہو گئے اور جسٹس انور ظہیر جمالی نے نئے چیف جسٹس بن گئے۔
ستمب 2015 میں عدالت نے تلور کے شکار پر پابندی کا فیصلہ دیا، نومبر 2015 میں عرب شیخوں کو عدالتی فیصلے کے سبب تلور شکار کے پرمٹس جاری نہ ہوسکے نومبر/دسمبر 2015 میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے عمرہ پر جانے کا عہد کیا، نجانے کیا وجہ بنی وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے نہ جا سکے، اس دوران تلور پر پابندی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں دائر ہو گئیں، جن پر سماعت کے لیے جسٹس ثاقب نثار کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے 10 دسمبر2015 کو دوسری سماعت پرنظر ثانی درخواستوں کا معاملہ لارجر بینچ کے سامنے لگانے کی سفارش کر دی اور معاملہ حتمی منظور کے لیے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو بھجوا دیا، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جسٹس ثاقب نثار کی سفارش پر پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جس کی سربراہی جسٹس انور ظہیر جمالی نے خود کی، واضح رہے کہ پانچ رکنی لارجر بنچ میں میں تلور شکار پر پابندی کا فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی شامل تھے، لیکن جسٹس دوست محمد خان کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا، رولز کے مطابق نظر ثانی میں فیصلہ لکھنے والے جج کی موجودگی ضروری ہو تی ہے، نظر ثانی درخواستوں پر 6۔7۔8 جنوری 2016 کو میراتھن سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا جو 22 جنوری کو سنایا گیا جس میں تلور کے شکار پر پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا، عدالتی فیصلے کے بعد جسٹس انور ظہیر جمالی عمرہ کے ادائیگی کے لیے روانہ ہوئے اور جسٹس ثاقب نثار قایم مقام چیف جسٹس بن گئے، عدالتی فیصلے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ تلور شکار سے متعلق مقدمہ کی از سر نو سماعت کرکے فیصلہ دیا جائے، جنوری 2016 گیا اگست 2017 آگیا لیکن تلور شکار کے مقدمے کی از سر نو سماعت کی تاریخ مقرر نہ ہوئی۔
اب بات کرتے ہیں پنامہ فیصلے کے خلاف نواز شریف کی نظر ثانی درخواست کی،جس پر فل کورٹ کی تشکیل کے لیے مخلتف تاویلیں اور عدالتی نظیریں پیش کی جا رہی ہیں، بظاہر تو لگ رہا ہے کہ نظر ثانی درخواستوں پر سماعت نئے عدالتی سال میں کی جائے گی جس کا آغاز 11 سمبر 2017 سے ہو رہا ہے، جہاں تک نظر ثانی درخواستوں پر فل کورٹ کی تشکیل کا معاملہ ہے تو بظاہر لگ رہا ہے کہ نظر ثانی درخواستوں پر سماعت وہی بنچ  کرے گا جس نے 28 جولائی کا فیصلہ سنایا تھا کیونکہ پنامہ کا مقدمہ تلور شکار کا ہے نہ ہی عربوں کا، پنامہ کا مقدمہ اربوں کی کرپشن کے الزامات کا ہے۔

پنامہ کا مقدمہ جن کا ہے ان درخواست گزاروں کی رضامندی بھی ضروری ہوگی ۔

متعلقہ مضامین