پریس کلب کو تالے

 قبائلی علاقوں میں پریس کانفرنس صحافیوں کے لیے جرم بن گیا ۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ایک خبر کی آشاعت اور براہ راست کوریج پر پریس کلب کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا۔ جمردو پریس کلب میں مال مویشیوں کا کاروبار کرنے والے افغان تاجروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ افغانستان سے مال لے کر آرہے تھے کہ جمرود کے علاقے میں انہیں سرکاری اہلکاروں کی طرف سے روک دیا گیا اور ان سے بھاری ٹیکس مانگا جارہا تھا جو پچاس لاکھ کے قریب بنتا تھا۔ پریس کانفرنس میں کی گئی باتوں کی اشاعت سے قبل ہی رات کو چند سرکاری اہلکار پریس کلب آئے اور چوکیدار کو باہر نکال کر وہاں تالے لگا دیئےگئے ۔ تاہم صبح صحافیوں کی طرف سے بند پریس کلب کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا گیا۔ بعد ازاں مقامی انتظامیہ اور صحافیوں کا ایک جرگہ ہوا جس کے بعد پریس کلب کو دوبارہ کھول دیا گیا۔ مقامی صحافی ظاہر شاہ کے مطابق کچھ مقامی صحافیوں سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ انھوں نے اخباری کانفرنس کی سوشل میڈیا پر براہ راست کوریج کی جس پر انتظامیہ نے شدید ردعمل اور غصے کا اظہار کیا۔ اس واقعہ کو چار دن گزر گئے مگر تاحال کسی صحافتی تنظیم کی طرف سے اس پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی کوئی مزمتی بیان جاری کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے