‘نااہل صحافی’

رعایت اللہ فاروقی

رینے دیکارت نے ہماری موجودگی کی سب سے بڑی دلیل دیتے ہوئے کہا تھا ’’میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں‘‘ لیکن سوچنا بھی تو اپنے اثبات کا محتاج ہے اور یہ اثبات ’’اظہار‘‘ کی صورت ہوتا ہے۔ اظہار زبانی بھی ہو سکتا ہے، تحریری بھی۔ پھر انسان چونکہ معاشرتی حیوان ہے اس لئے اس کے مفادات باہم مربوط ہیں۔ یہی مربوط مفادات اسے ایک نظم اجتماعی کی جانب لے جاتے ہیں اور یہ نظم اجتماعی ارتقاء سے گزرتا ہے۔ ارتقاء نئے سوالات کھڑے کرتا ہے اور یہ سوالات ترقی کے لئے جوابات چاہتے ہیں۔ یہ سوالات اور ان کے جوابات دونوں ہی اظہار کی آزادی چاہتے ہیں۔ اجتماعی اظہار کی یہ آزادی اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ ثابت ہو سکے کہ ایک ایسی معاشرتی وحدت بھی موجود ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ’’میں سوچتی ہوں اس لئے میں ہوں‘‘ یہ اظہار ہی ہے جس سے ترقی کے امکانات بھی وابستہ ہیں اور ساتھ ہی یہ اندازہ بھی لگ سکتا ہے کہ کہیں یہ سوچتا وجود بیمار تو نہیں ؟ اگر اظہار کے راستے سامنے آنے والی سوچ ہی کمزور یا بیمار نظر آئے تو پھر علم و عمل کے ذریعے اس کے علاج کی تگ و دو ہوتی ہے۔ اس پورے معاملے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے وہ ’’اظہار کی آزادی‘‘ ہی ہے۔ درست سمت میں آگے بڑھنے کے لئے درست شعوری حالت میں آگے بڑھنا ضروری ہے۔ اور ان دونوں باتوں کا اس وقت تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جب تک اظہار کی آزدی میسر نہ ہو۔ یہ مباحثے لگ بھگ ہر معاشرے میں ہو چکے کہ اظہار کی آزادی سے کیا مراد ہے ؟ کیا اس آزادی کی بھی کوئی حدود و قیود ہیں یا یہ مادر پدر آزاد حد تک بھی جا سکتی ہے ؟ ان مباحثوں کے نتیجے میں ترقی یافتہ قوموں نے اس کی قانونی حدود بھی متعین کیں اور اخلاقی حدود بھی۔ ’’میری ناک کی حدود‘‘ والا تصور بھی انہی مباحثوں کے نتیجے میں سامنے آیا لیکن جب ترقی یافتہ قوم کا مطلب ’’طاقتور قوم‘‘ ہو تو پھر کمزور کی ناک کی کون پروا کرتا ہے ؟ مگر اصولی طور پر تو حد بندی کرنی ہی ہوگی اور اظہار کی آزادی کی معقول حد بندی یہی ہو سکتی ہے کہ یہ اظہار معاشرے کے حق میں تخریبی نہیں تعمیری ہو۔
نظم اجتماعی کے اعضاء و جوارح ادارے ہوتے ہیں۔ وہ ادارے جو اس نظم اجتماعی کے لئے طے کردہ اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہ ادارے بھی پھر تین طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلے وہ جو صرف ریاستی یعنی سرکاری ہو سکتے ہیں۔ دوسرے وہ جو صرف نجی ہو سکتے ہیں اور تیسرے وہ جو ریاستی و نجی دونوں طرح کے ہو سکتے ہیں۔ انسان نے ایک تاریخی محنت کے نتیجے میں اپنے لگ بھگ تمام اہم ترین امور کے لئے یہ تینوں طرح کے ادارے کھڑے کئے ہیں اور وہ اس لمحہ موجود میں بھی اس بات پر غور کر رہا ہے کہ یہ نظام کوئی مزید بہتری تو نہیں چاہتا ؟ اس نے جہاں نظام کی تشکیل کے لئے مقننہ، نظام پر تعامل کے لئے انتظامیہ، تصفیے کے لئے عدلیہ، دفاع کے لئے فوج، علاج کے لئے ہسپتال اور مالیاتی امور کی انجام دہی کے لئے بینک جیسے ادارے کھڑے کئے ہیں وہیں اس نے اظہار رائے کو بھی اہم ترین اجتماعی ذمہ داری قرار دے کر اس کے لئے بھی میڈیا کے نام سے ایک باقاعدہ ادارہ کھڑا کیا ہے۔ اس ادارے کی اہمیت اس لحاظ سے بے پناہ ہوجاتی ہے کہ اس کی ذمہ داری ہی معاشرے کی اس اجتماعی سوچ کو سامنے لانا ہے جس سے دیکارت کے الفاظ میں یہ ثابت ہونا ہے کہ یہ معاشرہ وجود رکھتا ہے۔ اور صرف اس کا وجود ہی ثابت نہیں ہونا بلکہ یہ بھی ثابت ہونا ہے کہ معاشرے کی سوچ بیمار نہیں۔ سوچ کی بیماری اس معاشرتی وجود کی ہی بیماری کی دلیل ہوتی ہے۔ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ دیگر اداروں کی طرح ہمارا میڈیا کا ادارہ بھی شدید بیمار ہے اور یہ اپنی بیماری کی فکر کے بجائے بزعم خود دیگر اداروں کے امراض کی تشخیص صبح شام کرتا جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچا رہا ہے۔ پھر حد یہ ہے کہ یہ دو گھڑی صبح اور دو گھڑی شام کو رک کر دو چار کیپسول خود اپنے حلق سے اتارنے کو تیار نہیں۔
مثالیں بے شمار ہیں لیکن تازہ ترین مثال سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف ریفرنس کی جھوٹی خبر کی ہی لے لیجئے۔ اس معاملے میں جو کچھ ہوا کیا وہ ڈین براؤن کے اس قول کو درست ثابت نہیں کرتا کہ میڈیا انارکی کا دایاں ہاتھ ہے ؟ ہم آزادی اظہار کے علمبردار بھی بننا چاہتے ہیں، ہم ایوب اور بھٹو کے ڈیکلریشن منسوخی آڈرز کی مزاحمت کا کریڈٹ بھی چاہتے ہیں، ہم ضیاء کے کوڑوں کو اپنے لئے تمغہ آزادی بھی باور کرنا چاہتے ہیں اور ہم آزادی اظہار کی راہوں میں مارے گئے شہیدوں پر فخر کرتے بھی نہیں تھکتے جبکہ حالت یہ ہے کہ اس طویل تاریخ سے ہم اتنا بھی نہیں سیکھ سکے کہ خبر قوم کے سامنے لانے سے قبل کم از کم متعلقہ ادارے سے اس کی تصدیق ہی کر لیں۔ ہم سابق وزیر اعظم کی اہلیت و نا اہلیت پر دانشوری بھگارتے تو نہیں تھکتے لیکن خود ہماری اپنی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ وٹس ایپ گروپ میں چھوڑے گئے شوشے کو ’’بریکنگ نیوز‘‘ بنا کر مقننہ اور عدلیہ کو آمنے سامنے لے آتے ہیں۔ نااہلی کے یہ شاخسانے اس الیکٹرانک میڈیا سے سامنے آ رہے ہیں جس کی سکرینیں شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ان اینکرز کی یرغمال ہوتی ہیں جن کی بڑی تعداد میڈیکل ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء یا ایکٹرز پر مشتمل ہے۔ انہیں کیا خبر کہ صحافت کس چڑیا کا نام ہے ؟ یہ تو مریض کی نبض ، مؤکل کا کیس اور ڈرامے کا سین بیچ میں چھوڑ کر اچانک سکرین پر آ بیٹھے ہیں۔ اور المیہ یہ ہے کہ یہ خود تو نہیں آ بیٹھے بلکہ کسی نے لا بٹھایا ہے۔ جب اینکرز کا انتخاب کرنے والے صحافتی خدمات کی جگہ چرب زبانی کو معیار بنا کر اس طرح کے نااہلوں کو سامنے لائیں گے تو پھر ’’نااہل صحافی‘‘ کا تصور ہی تقویت پائے گا جو اس دور میں نہ ہونے کے برابر تھا جب ملک میں نجی سطح پر صرف پرنٹ میڈیا تھا۔ کیا پلاٹس کا کھیل کھیلنے والے پریس کلبوں اور گرانٹس کے چکروں میں الجھی صحافتی تنظیموں میں کوئی ہے جو اس صورتحال کے تدارک کے لئے سوچ کر دیکارت کی دلیل کے مطابق اپنا ہونا ثابت کر سکے ؟

متعلقہ مضامین