پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ

پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی صبح 6 بجے امریکی صدر نے بہت انتظار کروانے کے بعد جنوبی ایشیاء اور افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے جو تقریر کی، میں اسے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھتا ہوں۔ ہمارے ملک کے انتہائی پڑھے لکھے ماہرینِ عالمی امور کی اکثریت مگر پریشان نہیں ہے۔ اپنی ذہانت و فراست کا اظہار ان دنوں وہ بہت تحقیق کے بعد لکھی کتابوں یا مضامین کے ذریعے نہیں کرتے۔ مختلف ٹی وی چینلوں کی سکرینوں پر براجمان ہوئے حکمت کے موتی بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ بہت رعونت وحقارت سے انہوں نے ”فکرناٹ“ والی فضا بنادی۔
ہمیں بتایا گیا کہ پنجابی محاورے والے گدھے سے گر کر امریکی صدر اپنی خفت پاکستان کو ڈانٹتے ہوئے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا ملک اب بھی دنیا کی واحد سپر طاقت ہونے کا دعوے دار ہے۔ 16سال سے افغانستان پر قابض ہے۔ اس نے اپنے قبضے کو قائم رکھنے کے لئے کھربوں ڈالر خرچ کئے۔ جدید ترین تباہ کن اسلحہ استعمال کیا۔ ہزاروں فوجیوں کی جانیں گنوائیں۔ یہ سب کرنے کے باوجود اگر وہ ایمان کی دولت سے مالا مال طالبان کو شکست نہ دے پایا تو اس میں ہمارا کیا قصور؟
ہمیں یقین ہے کہ 2014ء میں پشاور میں ایک سکول پر ہوئے حملے کے بعد سے مسلسل جاری آپریشنز کی بدولت ہمارے ہاں امریکہ کی جانب سے دہشت گرد ٹھہرائے افراد کی مبینہ پناہ گاہیں ہرگز موجود نہیں رہیں۔ ان آپریشنز سے گھبرا کر یہ دہشت گرد بلکہ افغانستان جاچکے ہیں۔ افغان اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انہیں وہاں پناہ گاہیں فراہم کیں۔ ان پناہ گاہوں سے وہ کسی نہ کسی طرح پاک افغان سرحد پار کرنے کے بعد ہمارے شہروں میں خودکش حملہ آوروں کے ذریعے تباہی پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے دوست ہونے کے دعوے دار امریکہ کو پاکستان سے شکایات کے بجائے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پناگاہوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ وہ ان کی موجودگی تسلیم کرنے کو بھی لیکن تیار نظر نہیں آ رہا۔
تقریباََ یکسو ہو کر ہمارے تمام ٹی وی چینل اس بات پر بھی بہت چراغ پا سنائی دئیے کہ ہماری وزارتِ خارجہ مذکورہ بالا حقائق دنیا کے سامنے لانے میں ناکام رہی۔ سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرار پائے نواز شریف نے اپنے چار سالہ دور میں ایک کل وقتی وزیر خارجہ کا تعین ہی نہیں کیا تھا۔ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی ان کی جانب سے اس وزارت کے معاملات دیکھتے رہے۔ ان دونوں کے مابین اختیارات کی جنگ رہی۔ بالآخر طارق فاطمی ڈان اخبار کو ایک ”جھوٹی خبر“ دینے کے جرم میں فارغ ہوئے۔ نواز شریف کی فراغت کے بعد شاہد خاقان عباسی تشریف لائے تو انہوں نے خواجہ آصف کو کل وقتی وزیر خارجہ مقرر کر دیا۔ ہمارے بہت ہی پڑھے لکھے ماہرینِ امور خارجہ کو یہ انتخاب مگر پسند نہیں آیا۔ خواجہ آصف ان کی نظر میں محض ایک پھکڑباز سیاست دان ہیں۔ ان سے ایسی بردباری کی توقع نہیں جو ہارورڈ یا آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں سے وابستہ ہوا کرتی ہے۔
خواجہ آصف بھی مگر منگل کی شام تک ٹرمپ کی تقریر کے بارے میں خاموش رہے۔ ٹرمپ کو پارلیمان میں کھڑے ہو کر منہ توڑ جواب نہ دے پائے۔ ان کے مقابلے میں چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان سے جب ٹرمپ کی تقریر کی بابت سوال پوچھا گیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں امریکی صدر کے خیالات کو جھٹلایا۔ پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بتاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف برپا جنگ کی اولیں صفوں میں کھڑا شمار کیا۔
مجھے امید ہے کہ منگل کی شب تک اپنی مسلسل مذمت کے بعد خواجہ آصف اب امریکی صدر کو ”اوئے ٹرمپ“ پکار کر للکارتے نظر آئیں گے۔ یہ سوال اگرچہ اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا خواجہ آصف یا پاکستانی ریاست کے کسی اور اہم فرد کی جانب سے دھواں دھار تقاریر امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنے میں کوئی ٹھوس کردار ادا کرسکتی ہیں یا نہیں۔
گزشتہ چار برسوں سے بہت تواتر کے ساتھ ہمارے میڈیا میں ایک کل وقتی وزیر خارجہ کے نہ ہونے کے بارے میں مسلسل ماتم برپا رہا ہے۔ ماتم کنائی میں مصروف لوگوں نے کبھی یاد ہی نہ رکھا کہ 1947ء سے 1960 کے آغاز تک دنیا کی اصلی تے وڈی کہلاتی پارلیمانی جمہوریت بھارت میں بھی وہاں کے وزیر اعظم جواہرلال نہرو نے یہ عہدہ کسی اور کو نہیں دیا تھا۔ 1962ء میں چین کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد یہ منصب سردار سورن سنگھ کو ملا تھا۔
اپنے پورے دورِ اقتدار میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کوئی کل وقتی وزیر خارجہ مقرر نہیں کیا تھا۔ 1974ء کے بعد فارن آفس سے ریٹائر ہوئے عزیز احمد کو سینٹ کا رکن بنوا کر انہیں خارجہ امور کا وزیر مملکت بنادیا تھا۔ پاکستان ایسے ملک کا وزیر اعظم خوب جانتا ہے کہ خارجہ امور کے بارے میں حتمی پالیسی سازی محض وزارتِ خارجہ کو نصیب نہیں ہوتی۔ ہمارے ریاست کے دائمی ادارے اسے طے کرنے میں بالادست Stakeholders کا کردار ادا کرتے ہیں۔
1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد وزیراعظم محمد خان جونیجو کو صاحبزادہ یعقوب علی خان بطور وزیر خارجہ ”ورثے“ میں ملے تھے۔ صاحبزادہ صاحب اپنے وزیراعظم کے بجائے ہدایات لینے کے لئے صدر جنرل ضیاءالحق ہی سے رجوع کرتے رہے۔ اپنی ذہانت، فطانت اور بین الاقوامی مقبولیت پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے صاحبزادہ صاحب نے اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی صدارت کا انتخاب لڑا اور شرمناک شکست سے دو چار ہوئے۔ اس شکست کے بعد انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تو جونیجو مرحوم نے کراچی سے منتخب ہوئے ایک انتہائی محنتی اور ذہین رکن اسمبلی زین نورانی مرحوم کو وزیر مملکت برائے امور خارجہ مقرر کردیا۔ مکمل وزارت مگر اپنے پاس ہی رکھی۔
1986ء کے اواخر میں ان دنوں کے سوویت یونین نے باقاعدہ سفارت کاروں کے ذریعے پیغام بھجوانا شروع کر دیا کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں باہر نکالنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے اس کی خواہش پر کان نہ دھرا تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی وساطت سے پاکستان کو جنیوا میں ہوئے مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کا کوئی حل ڈھونڈنے پر مجبور کردیا گیا۔
زین نورانی مرحوم ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لئے کئی ہفتوں تک جنیوا میں مقیم رہے۔ ان مذاکرات کے ا ختتام پر بالآخر ایک معاہدے کا ڈرافٹ تیار ہوگیا۔ آج بھی اس ڈرافٹ پر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو خیال آتا ہے کہ اس معاہدے پر رضا مندی کے اظہار کے بعد دیانت داری سے عمل پیرا ہوا جاتا تو شاید ہمارے خطے میں افغانستان کے تناظر میں وہ تباہی پھیلی ہوئی نظر نہ آتی جو ان دنوں ہمارا مقدر ٹھہری نظر آرہی ہے۔
جنیوا معاہدے کا ڈرافٹ لے کر زین نورانی مرحوم پاکستان واپس آئے تو جونیجو مرحوم نے اس پر طویل غور کرنے کے بعد منظوری کے لئے اپنی کابینہ کا اجلاس بلا لیا۔
اس ”منتخب“ کابینہ کا جو کسی ریاست میں حتمی فیصلہ ساز شمار ہوتی ہے اجلاس ابھی جاری تھا کہ وہاں جنرل ضیاءالحق انتہائی مشتعل انداز میں تشریف لے آئے۔ اپنی نشست پر براجمان ہوتے ہی انہوں نے زین نورانی کی طرف اُنگلی ہلاتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر اس معاہدے پر دستخط کی منظوری دی گئی تو ”میں تمہارے…. (وہ لفظ لکھا نہیں جا سکتا“ کو باندھ کر درخت سے الٹا لٹکادوں گا۔“ یہ دھمکی دینے کے بعد وہ اجلاس سے روانہ ہو گئے۔ جونیجو کابینہ نے اس کے باوجود جنیوا معاہدے پر دستخط کر دئیے اور مئی 1988ء میں ضیاءالحق نے منتخب حکومت کو اسمبلیوں سمیت فارغ کر دیا۔
اس واقعے کے بعد سے کوئی دیوانہ سویلین ہی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد اس ملک کی خارجہ پالیسی طے کرنے کے لئے کسی کل وقتی وزیر کی تعیناتی والی حماقت کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ خدا شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کو بھی اپنی امان میں رکھے۔
بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین