ایک پرانی مگر جاندار تحریر

سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈراما ہال میں 6 نومبر۲۰۰۲ء کو پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکو مت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب انعامات جاری تھی ۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح ۱۰ بجے سے ۱۲بجے کے درمیان منعقد کی گئی اوراتوار کا دن ہونے کے باعث ڈراما ہال طلباءوطالبات سے بھرا ہوا تھا، والدین میں شہر کے لوگ شامل تھے۔
اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی۔ اس دوران اسکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا ۔۔۔ یہ گیت ایک سانولی سلونی کے بارے میں تھا جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنالیتی ہی، ادھر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔
رقص کے بعد اسٹیج سے اولیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے نام پکارے جانے لگے، گولڈ میڈك حاصل کرنے والی طالبات بعض اسکارف اور برقعے میں ملبوس تھیں، ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی نئی ڈاڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب علم نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ کھینچ لیا، پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سرہلایا اور اسٹیج سے نیچے اترآیا-
پھر دانیال کا نام پکارا گیا، جواے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل وصول کرنے کے لئے اسے اپے پرانے اسکوك کی تقریب میں بلایا گیا تھا-
وہ گولڈ میڈل وصوك کرنے کے بجائے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پرجاکر کھڑا ہوا اورمائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار کہ اسے گولڈ میڈل کے لئے نامزد کیا گیا، لیکن اسے افسوس ہے کہ اس تقریب میں طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اورنہایت واہیات گیت پر رقص کیا۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا-
یہ کہہ کروہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ والدین اور طلباء تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کرر تھے اور کچھ چیخ چیخ کر گیٹ آوٹ طالبان، گیٹ آوٹ طالبان کی آوازیں لگا رہے تھی، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مخالفین حاوی ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے، لیکن یہ کھلبلی وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک اور واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی، یہ تقسیم لبرل عناصراور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔
پرنسپل صاحبہ نےپھر خود مائیک سنبھاك کر صورت حال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک لبرل خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلایا جنہوں نے اپنی گرجدارآواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ کیا وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تعلیمات کے خلاف تھا، کیونکہ بانی پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔
پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طالبہ بولی کے بانی پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟
ایک دفعہ پھر ہال میں شو روغل بلند ہوا اور اس دفعہ بنیاد پرست حاوی تھے، لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔
اس واقعے نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا، سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں او لیول اور اے لیول کے ایک سو طلباء و طالبات سے امریکی پالیسیوں اور طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں- سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک عام گناہ گار مسلمان بھی شعائر اسلامی کی توہین برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے تحفظ کیلئے وہ ہر حد عبور کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کے ایک ہونہار طالب علم محترم صمد خرم جنہوں نے ۱۸ جون۲۰۰۸ء کو نیشنل آرٹ گیلری اسلام آباد میں منعقدہ تقریب تقسیم اکیڈمک ایکسلینس ایوارڈ میں مہمان خصوصی امریکی سفیر اینی پیٹرسن (Anne Patterson) سے احتجاجاً ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کیا، اور ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ امریکا صدر
پرویزمشرف کی حمایت کرتا جو غیر آئینی صدراور پاکستان کے عدالتی نظام کو تباہ وبرباد کررہا ہے ۔ مزید برآں امریکا، ڈرو حملوں کے ذریعہ وزیرستان بالخصوص مہمند ایجنسی پر بمبارری کررہا جس سے سینکڑوں معصوم اور بے گناہ افراد شہید ہوتے ہیں، لہذ ابحیثیت پاکستانی آپ سے ایوارڈ لینا میں اپنی ملی غیرت کے منافی سمجھتا ہوں۔
پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے سالانہ کنونشن کے موقع پر ایل ایل بی کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے محب وطن طالب علم محترم محمد شاہد جنہوں نے ۱۱اکتوبر ۲۰۰۳ء کو مہمان خصوصی گورنر پنجاب (سلمان تاثیر ) چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے احتجاجا گولڈ میڈل لینے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ اسلام اور پاکستان کے مفادات کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں۔ نیز آپ نے مئی ۲۰۰۲ء کو کراچی کے شرمناک واقعات کی کوئی مذمت نہیں کی لہٰذا میں آپ سے ایوارڈ لینا ا پنے ضمیر کے خلاف سمجھتا ہوں۔
او ایف پی گرلز کالج اسلام آباد کی اے لیول کے امتحان میں تمام مضامین میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی غیور طالبہ محترمہ اسما وحید جنہوں نے ۲۲ جنوری ۲۰۱۰ء کو کالج میں امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں مہمان خصوصی، ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما اور سمندر پار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر(ڈاکٹرفاروق ستار) سے احتجاجا سرٹیفکیٹ وصول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ کا شمار صدر پرویزمشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے جس نے کئی بے گناہ پاکستانیوں کو بھاری ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کیا۔ اس میں ایک حافظہ و ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی شامل ہی، اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں، لہٰذا آپ سے ایوارڈ وصوك کرنا میں اپنی ہتک محسوس کرتی ہوں۔
دی یونیورٹی آف فیصل آباد سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حا صل کرنے والے نیک بخت طالبعلم صاحبزادہ عطاررسول مہاروی جنہوں نے ۱۲ نومبر ۲۰۰۳ء کو یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمام تاثیر سے احتجاجا ًبرونزمیڈل وصول کرنے سے انکار کیا اورحقارت سے کہا کہ آپ نہ صرف گستاخان رسول کی سرپرستی کرتے ہیں بلکہ توہین رسالت ایکٹ ۲۳۲C کو کالا قانون اور اسے ختم کرنے کے بیانات بھی جاری کرتے ہیں، اس طرح آپ بذات خود توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سے میڈل وصول کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔
اسلام اور پاکستان کی سرحدوں کے ان سچے محافظوں کو جب میں دیکھتا ہوں تو اقباكؒ کی زبان میں سوچتا ہوں کہ :
” ایسی چنگاری بھی یارب ، اپنی خاکستر میں تھی!“
دینی غیرت وحمیت کا یہ مظاہرہ اللہ کا خوف و خشیت رکھنے والے والدین کی بدولت ہی ممکن ہو تا۔ ان والدین کو سلام۔
غیرت بڑی چیز جہانِ تگ ودو میں —- پہناتی درویش کو تاج سردارا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے