کسی اور کو ڈراؤ

جمہوریت کا حسن ’’چودھویں کا چاند‘‘ بن کر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت دمک رہا ہے تو سورج کو سو سال بعد گرہن کا سامنا ہے۔ لطف دیکھئے کہ جسے ہم چودھویں کا چاند کہہ رہے ہیں اسے خود لبرلز امریکی نظام کو لگے گرہن سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے قبل ہی یہ باتیں شروع ہوچکی تھیں کہ اسے دو سال کے اندر اندر مواخذے کے عمل سے گزار کر ’’نااہل‘‘ قرار دیدیا جائے گا۔ آج ٹرمپ اپنے اقتدار کے آٹھویں ماہ سے گزر رہا ہے اور امریکہ میں اس کے مواخذے کی باتیں زور پکڑتی جا رہی ہیں کیونکہ اس مسخرے نے دنیا کی عظیم سپر طاقت کو دنیا بھر میں مذاق بنا کر رکھدیا ہے۔ مواخذے کی کامیابی کے لئے مڈ ٹرم الیکشن کا انتظار ضروری ہے سو وہ مرحلہ اگلے سال ہی آئے گا جب امریکہ اس آفت سے جان چھڑا پائے گا۔ آفت کا صرف امریکہ کو ہی سامنا نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ہے کیونکہ امریکی اس کے اقدامی اور بیانی لطائف کو احترام دینے پر آمادہ نہیں۔ اس کا ہر بیان اور ہر اقدام اس کی مخالفت میں شدت پیدا کرتا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کسی امریکی زبیدہ آپا کی ترتیب دی ہوئی وہ کتاب موجود ہے جس میں امریکی صدر کے لئے بحرانوں سے نکلنے کے زود اثر ٹوٹکے لکھے گئے ہیں۔ اس کتاب میں شاید بڑی بحرانی صورتحال سے نکلنے کے لئے واحد ٹوٹکا یہ تجویز کیا گیا ہے کہ کسی کمزور سے ملک پر حملہ کردیا جائے کیونکہ بل کلنٹن سمیت ہر امریکی صدر نے اندرونی بحران کے موقع پر ایسا ہی کیا ہے۔ پاکستان کو دھمکی دیتا ڈونلڈ ٹرمپ بھی شاید کوئی ایسی ہی تیاری کر رہا ہے۔ اور اس کی یہ حرکت خود امریکہ کے حق میں اتنی خطرناک ہے کہ امریکی میڈیا اور انٹیلی جنشیا کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے ہیں۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جیمز کلپرنے ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو دی گئی دھمکی پر اپنے رد عمل میں اسے ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے کہا ہے ’’جنوبی ایشیا کے لئے ٹرمپ کی پالیسی خوفناک اور پریشان کن ہے‘‘ صرف یہی نہیں بلکہ کلپر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایسے صدر کے پاس امریکی ایٹمی ہتھیاروں کا بٹن ہے۔

یہ وہی امریکہ ہے جسے حالیہ سالوں میں اس بات پر بڑی’’ تشویش‘‘ رہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے تو دنیا کے امن کا کیا بنے گا ؟ آج خود ان کے بقول ان کے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا بٹن ایک پاگل کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کا اہم پہلو یہ ہے کہ جس مسئلے کی بنیاد پر وہ یہ خطرناک کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے وہ امریکی سٹیبلشمنٹ کی بھی ضرورت ہے۔ افغان جنگ کی ناکامیوں سے بیزار امریکہ کئی سالوں سے پاکستان پر دباؤ کے لئے مختلف حربے آزماتا آیا ہے لیکن اس دباؤ میں انہوں نے ریڈ لائن کا احترام بر قرار رکھا ہے۔ بش اور اباما دونوں ہی ایک خاص حد سے آگے کبھی نہیں آئے کیونکہ بظاہر کمزور نظر آنے والا پاکستان عالمی امن کے لئے کسی آتش فشاں سے کم نہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اس آتش فشاں سے بھارت کی پیٹھ تھپک کر چھیڑ خانی اگر دانشمندی ہوتی تو نائن الیون سے بھی قبل کوئی امریکی صدر یہ کر گزرتا۔ اگر بہت ذہین امریکی صدور نے بھی کبھی یہ غلطی نہیں کی تو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ یہ محض غلطی نہیں بلکہ مہلک غلطی ثابت ہوگی۔ افغانستان کی جنگ میں ایک ٹریلین یعنی ایک ہزار ارب ڈالرز سے زائد خرچ کرنے کے باوجود امریکہ تاحال وہ تمغہ حاصل نہیں کر سکا جسے سینے پر سجانے سے اسے فاتح سمجھا جا سکے۔ دنیا کی اس عظیم سپر طاقت کا پاکستان کے خلاف دعویٰ یہ ہے کہ فتح اس ایک ہزار ارب ڈالرز سے نہیں ملنی تھی جو خود اس نے افغانستان میں خرچ کئے بلکہ ان چودہ ارب ڈالرز سے ملنی تھی جو پاکستان کو خیرات کی طرح دیئے گئے لھذا پاکستان بتائے کہ چودہ ارب ڈالر لینے کے باوجود اس نے امریکہ کو فتح کیوں نہیں دلوائی ؟ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی دکان کے سامنے کھڑا وہ گاہک ہے جس کے غصے کا خلاصہ بس اتنا سا ہے کہ ’’تم نے قیمت لی ہے اب مجھے فتح دو ورنہ میں تمہیں دیکھ لوں گا‘‘ اس صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ’’ذہین‘‘ صدر کو پاکستان کا جواب تو یہی ہو سکتا ہے کہ افغانستان کا میدان جنگ ثابت کرچکا کہ وہاں فتح کی قیمت ایک ہزار ارب ڈالرز سے بھی زیادہ ہے سو اتنی مہنگی چیز امریکہ کو صرف چودہ ارب ڈالرز کے عوض کیسے دیدی جائے ؟ آپ کے دیئے ہوئے چودہ ارب ڈالرز کی زیادہ سے زیادہ حیثیت بھی فقط ٹوکن منی کی ہو سکتی ہے۔ اگر مال چاہئے تو ڈیڑھ دو ٹریلین ڈالرز پاکستان کے اکاؤنٹ میں ڈال دیجئے، ہم مال تیار کرنا شروع کر دیتے ہیں مگر ہمارے مال کی گارنٹی وارنٹی کوئی نہیں ہوتی۔

بین الاقوامی امور کا فہم رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی ملک میں کوئی بڑا بین الاقوامی معاشی معاہدہ رو بعمل ہو تو کسی دوسری طاقت کے لئے اسے علانیہ خطرے میں ڈالنا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں سالہا سال سے چین کے بڑے سٹیک موجود رہے ہیں لیکن سی پیک کی صورت تو اس چین کی لائف لائن اب پاکستان سے گزرنے جا رہی ہے جو بہت جلد سپر طاقت ہوگا۔ اس صورتحال میں پاکستان سے کوئی بھی پنگا صرف پاکستان سے نہیں بلکہ چین سے پنگا ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر پر چینی دفتر خارجہ کے فوری ردعمل کو محض پاکستان کی حمایت سمجھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں۔ چین صرف پاکستان نہیں بلکہ اپنی لائف لائن کے تحفظ کے لئے بھی بولا ہے ۔ داد کے حقدار ہیں وہ مرحوم پاکستانی جنہوں نے چین کی آزادی کے ساتھ ہی اس کے مفادات کی مضبوط بنیادیں پاکستان میں ڈال دی تھیں اور جن پر بعد میں آنے والوں نے آج بھی باہمی مفادات کی ایک پرشکوہ عمارت کی تعمیر جاری رکھی ہوئی ہے۔ چین سے مفادات کا یہ اشتراک ہی پاکستان کے تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت ہے جبکہ اب ہم روس کی بھی حمایت حاصل کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات سٹریٹیجک نوعیت کے بنتے جا رہے ہیں جو بہت دیر پا ثابت ہوں گے ۔ خطے کی دو اہم طاقتوں کے ساتھ ہمارے یہ تعلقات اگر ہمیں مضبوط دفاعی پوزیشن عطاء کرتے ہیں تو افغانستان میں موجود امریکی فوج کی شہ رگ بھی ہماری دسترس میں ہے اور امریکی بخوبی جانتے ہیں کہ افغانستان میں وقت آنے پر ہمیں کسی کو کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم نے پہلی افغان جنگ کے دوران امریکی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا تھا جبکہ امریکی شکست پر منتج ہونے والی دوسری افغان جنگ کے دوران ہم نے ایک بار پھر امریکی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر جو سب سے بڑا کام کیا ہے وہ یہ ہے کہ اپنا وہ انحصار امریکہ پر ختم کردیا ہے جس کی بنیاد پر وہ ہمیں بلیک میل کیا کرتا تھا۔ اب نہ ہماری معیشت ان کی امداد پر منحصر ہے اور نہ ہی دفاع۔ پاکستان کا امریکہ کو دیا گیا یہ جواب ٹھنڈی ہوا کا پہلا جھونکا ہے ’’ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہئے‘‘ اس پیغام میں خوب سوچ سمجھ کر وقت کے فرعون کو یہی کہا گیا ہے کہ ہم تمہارے محتاج نہیں ہیں جاؤ کسی اور کو ڈراؤ !

بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

متعلقہ مضامین