ووٹ کا تقدس

اب ووٹ کا تقدس اتنا بھی نہیں کہ سینیٹ میں عددی اکثریت حاصل کرنے کا موقع گنوا دیا جائے۔ایک وزیر اعظم کو اگرچہ نکال تو دیا گیا مگر اس پراسراریت کے باوجود مارچ میں آنے والے سینیٹ کے انتخابات سے پہلے اقتدار کے کشکول میں احتیاط کی بچی کھچی خیرات اتنی بری بھی نہیں۔ سینیٹ کے انتخابات تک پاکستانی قوم اپنے ووٹ کے تقدس کے ساتھ جاری کھلواڑ کو تو ’’برداشت‘‘ کر ہی سکتی ہے۔ عوام کے منتخب وزیر اعظم کو نکال کر جس ’’ووٹ کا تقدس‘‘ پامال کیا ہے وہ ووٹ اور ووٹر اسکا بدلہ لینے کیلئے ابھی ایک سال اور انتظار کرے کیونکہ انکے سابق وزیر اعظم کا اقتدار گیا ہے اختیار نہیں۔عملی طور پر فیصلے ابھی بھی نواز شریف کے چلتے ہیں۔ اقتدار کے کشکول میں اختیار کی بچی کھچی خیرات کی تقسیم اور استعمال ابھی بھی نواز شریف کے حکم اور مرضی سے ہوتا ہے۔ ایک طرف آئینی اور قانونی وزیر اعظم ہے جسے آئندہ دس ماہ تک ووٹ کے باقی ماندہ تقدس کے تحفظ کا تاثر دینا ہے تو دوسری طرف روحانی وزیر اعظم ہے جو ووٹ کے تقدس کیلئے ’’بچاؤبچاؤٔ‘‘ کا شور ڈال رہا ہے۔ جب کوئی ’’مظلوم‘‘ زیادتی کا عادی ہو جاتا ہے تو پھر اسکے ’’ بچاؤبچاؤ‘‘ شور کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ لوگ اسے ’’ظلم‘‘ سے بچا لیں اور ظالم کو سزا دیں۔ یہی کچھ ہمارے ووٹ کے تقدس کے ساتھ ہو رہا ہے۔ نواز شریف اسکی پامالی پر شور تو ڈال رہے ہیں اور اشاروں کنایوں میں عدلیہ اور فوج کے گٹھ جوڑ کا الزام بھی لگا رہے ہیں مگر پھر اقتدار کی سیاست اصول کی سیاست پر حاوی ہو جاتی ہے۔
اگر ووٹ کے تقدس کے تحفظ میں نواز شریف اتنے سنجیدہ ہوتے تو کم از کم لاہور کے جلسے کے بعد ہی انکی حکمران جماعت وفاق اور پنجاب میں نئے انتخابات کے ذریعے اپنے ووٹروں کے پاس جاتی اور واضح کرتی کہ کن اداروں اور شخصیات نے انکی منتخب حکومت کے خلاف سازش کی اور یہ بھی بتاتے کہ سازشیوں کوحتمی طور پر روکنے اور سزا دینے کیلئے انکے پاس ایسا کون سا پروگرام ہے جس کیلئے انہیں ایک بار پھر ووٹ کی طاقت چاہیے۔ مگر بات ووٹ کے تقدس کی ہے ہی نہیں وگرنہ یہ معاملہ ووٹروں کے سامنے ضرور رکھا جاتا۔ ایک اچھا کاروباری اقتدار کے بھاگتے چور پر ہاتھ نہ ڈال سکے تو لنگوٹی پر ہی اکتفا کر لیتا ہے ،اور اختیار کی بھی وہ بدبو دار لنگوٹی جو چار سال اصل مالک کے زیر استعمال رہنے کے بعد چوری ہوئی تھی۔ بقول نواز شریف کے ستر سال سے ووٹ کا تقدس پامال ہوتا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ووٹ کے تقدس کی پامالی کے ملزمان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر ان ملزمان کے نرغے میں مزید دس ماہ تک اقتدار کے مزے لینے کے فیصلے کی کیا منطق ہے ؟کیا ایک بارپھر عوام کا ہجوم اکٹھا کر کے ’’طاقت وروں‘‘ سے بھاؤ تاؤ کرنے کا ارادہ ہے ؟ اگر نہیں تو پھر ووٹ کے تقدس کی ’’جاری پامالی‘‘ کو روکنے کیلئے فوری انتخابات کے ذریعے ووٹ کا تقدس بحال کرنے کا فوری موقع کیوں نہیں ہے؟ ووٹ کا تقدس ووٹ دینے کے عمل سے جڑا ہے۔ ووٹ کی طاقت اور اسکا تقدس کتابی مباحثوں اور نام نہاد قومی ڈائیلاگوں سے نہیں ووٹ کے عمل سے بحال ہو گا۔جہاں تک ڈائیلاگوں کا تعلق ہے تو ہمارے سیاستدانوں نے ستر سال کے دوران عدلیہ اور فوج کے ساتھ ایسے ہی ڈائیلاگوں کے ذریعے اقتدار اور اختیار کی بند بانٹ کی ہے۔
ماضی میں بھی ہمارے سیاستدان،عدلیہ اور میڈیا نے نظریہ ضرورت کے تحت ان حدود کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر رکھیں۔ آج ہم بطور قوم ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہم حقیقت میں اپنی آئینی ذمہ داریوں سے نظریں چْرا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہماری آئندہ نسلیں اس سے بھی بْرے حالات کا سامنا کر یں گی۔ قومی سیاست و معیشت میں فوج کی مداخلت کے بعد اب بین الاقوامی معاملات میں بھی ہماری سیاسی حکومتیں ایک ڈاکخانے کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ چین اور سعودی عرب کی حکومتوں کا ہماری فوج پر بڑھتا ہوا انحصار ہماری سیاسی حکومتوں کو تیزی سے غیر متعلقہ اور بے اثر بناتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے بھی افغانستان کی دو جنگوں میں فوجی حکمرانوں کو خوب استعمال کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اب ایک بار پھر پاکستان میں جمہوری عمل کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ افغانستان کے معاملے پر ’’ کرتے دھرتے‘‘ فوجی حکمران رہے ہیں اور ’’بھرتے‘‘ سیاسی حکمران۔
کسی بھی نام نہاد قومی ڈائیلاگ کے اصل فریق سیاسی حکومت اور فوج ہے۔ باقی عدلیہ اور پارلیمنٹ کی شمولیت تو محض اس ڈائیلاگ اور مباحثے کو مہذب اور قانونی رنگ دینے کی ہے۔ ویسے بھی نواز شریف او رضا ربانی کے تجویز کردہ قومی ڈائیلاگ کے خدو خال ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔ ماضی میں ایسے ہی قومی ڈائیلاگوں کے بعد محمد خان جونیجو نے 8ویں ترمیم پر انگوٹھا لگا کر عوام کے ووٹ کی طاقت اور اس کے تقدس کا سودا ایک فوجی آمر کے ساتھ کیا تھا، ایسے ہی ایک اور قومی ڈائیلاگ کے نتیجے میں بینظیر بھٹو نے 1988میں اقتدار کی خاطر عوامی ووٹ کے اختیار کا سودا جنرل اسلم بیگ اور اسحاق خان سے کیا ، 1993میں سپریم کورٹ سے بحالی کے باوجود نواز شریف نے ’’کمان کی چھڑی‘‘کی نوک پر ڈائیلاگ کر کے استعفیٰ دے دیا اور پھر ایک ڈائیلاگ کے نتیجے میں 1999میں نواز شریف اور انکے اہل خانہ سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ پھر ایک ڈائیلاگ کے نتیجے میں جنرل مشرف نے بینظیر کے خلاف مقدمات این آر او کے ذریعے ختم کیے اور پھر نواز شریف واپس آگئے۔ایک اور ڈائیلاگ کے نتیجے میں زرداری نے جنرل مشرف کے خلاف آئین سے سنگین غداری کا مقدمہ نہ چلایا، ہمت کر کے جب یہ مقدمہ نواز شریف حکومت نے چلایا تو راحیل شریف سے ’’ڈائیلاگ‘‘ کے نتیجے میں جنرل مشرف کو باہر بھجوا دیا۔
آج پھر قوم کو ’’ڈائیلاگ‘‘ کی راہ دکھائی جا رہی ہے۔ اور اگر آج عدلیہ نے نواز شریف کی نظر ثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں بحال کرد یا تو یقین مانیں ’’ووٹ کا تقدس‘‘ بھی بحال ہو جائے گا اور قومی ڈائیلاگ بھی ’’کامیاب‘‘ قرار پائے گا۔ اورپھر یہ سب ادارے اپنی پرانی تنخواہ پر کام شروع کر دیں گے۔
قصہ مختصر یہ کہ ڈائیلاگ کایہ ڈرامہ اب بند ہوجانا چاہیے۔ نواز شریف اگر واقعی ’’ووٹ کے تقدس‘‘ کو بحال کرنے میں سنجیدہ ہیں تو پھر اپنے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ذریعے کچھ ایسے اقدامات کریں جن سے ثابت ہو کہ ایک بار پھر عوام کے ووٹ پر طاقتور ادارں سے سودا بازی نہیں کی جائے گی۔ جنرل مشرف کی واپسی کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں، ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ شائع کرکے غفلت کے مرتکب حکام کے خلاف کارروائی کی جائے، آئی ایس آئی ،آئی جے آئی فنڈنگ سے متعلق اصغر خاں کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کیا جائے۔ قانون سازی کے ذریعے متعلقہ اداروں کو وزارت دفاع کے ذریعے حکومت کا جوابدہ بنایا جائے، ملک کے تمام حساس و غیر حساس ادروں کو آڈیٹر جنرل کے سامنے جوابدہ بنایا جائے اور انکے مالی معاملات کی مکمل چھان بین کی جائے، افواج پاکستان کے تمام سربراہا ن کوملکی دفاع اور خارجہ پالیسی پر پالیسی بیانات جاری کرنے سے روک دیا جائے، 2014کے دھرنے کے پیچھے چھپی سازش پر فوری تحقیقات بذریعہ عدالتی کمیشن کی جائے، ملک بھر سے ایپکس کمیٹیوں کے ذریعے فیصلہ سازی کے عمل کو روکا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے خفیہ اداروں کی رپورٹوں کو محض ملک دشمن سرگرمیوں کی نشاندہی تک محدود کیا جائے اور ایسے وکلاء اور ججوں کی ذاتی زندگی یا کردار پر رائے زنی اور فیصلہ خود عدالتی کمیشن کرے، اس مقصد کے لیے خفیہ اداروں بلکہ تمام سرکاری اداروں اور حکام کی اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں سے غیر رسمی رابطوں پر پابندی کے قوانین کو بھی مزید واضح کیا جائے، لاپتہ افراد کے مقدمات کی تحقیق کے لیے کسی ریٹائرڈ اور نوکری باز شخص کی بجائے ایک نڈر اور ماہر شخص کو متعلقہ کمیشن کا سربراہ لگایا جائے۔
تو جناب اگر نواز شریف کے نامزد کردہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ان تمام معاملات پر آئین میں پہلے سے دستیاب اختیارات استعمال نہیں کر سکتے یا نواز شریف پہلے چار سال میں یہ اختیارات استعمال کرنے سے گریزاں رہے ہیں تو پھر ’’ووٹ کا تقدس‘‘ بحال کرانے کے وعدے پر کون اعتبار کرے گا؟ اگر پہلے سے دستیاب آئینی و قانونی اختیارات استعمال کرنے کی ہمت ہی نہیں تو آئین و قانون میں مزید ترمیم سے کیا شیر درخت پر چڑھنا سیکھ جائے گا؟اگر یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا تو پھر ایک ہی راستہ بچتا ہے،’’ووٹ کے تقدس‘‘کو بحال کرنے کا ، اور وہ ہے ’’فوری انتخابات‘‘ کا راستہ! جس میں عوام کو سب کچھ صاف صاف بتایا جائے کہ اس ملک میں ووٹ کے ساتھ منتخب ہونے والے وزیر اعظم کے ساتھ کیا کیا ہوتا رہا اور یہ کہ یہ سب بدلنے کے لیے ان کے پاس اب کون کون سا نیا پروگرام ہے۔ یاد رہے اب عوام بیوقوف نہیں رہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین