حادثے صرف حادثاتی طور پر نہیں ہوتے

جہادی امور سے میری وابستگی کو اس سال 30 برس ہوگئے۔ 1987ء سے شروع ہونے والے اس سفر میں کئی تاریخی موڑ دیکھے۔ افغانستان میں افغان مجاہدین، عرب شہزادوں اور پاکستانیوں کو بے جگری سے لڑتے دیکھا، وہاں سے رشین فوج کا انخلاء اور پھر کابل سمیت تمام شہر افغان مجاہدین کے ہاتھ لگتے بھی دیکھے۔ وہ شرمناک مناظر بھی دیکھے جس میں احمد شاہ مسعود اور حکمت یار اقتدار کے لئے خون کے دریا بہاتے نظر آئے۔ طالبان کو ابھرتے اور افغانستان کو قبضہ کرکے غیر مسلح کرتے دیکھا۔ جہاد کشمیر کے لئے تنظیمیں بنتی اور اس جہاد کے عروج و زوال دیکھے۔ وزیرستان میں شورش کو ابھرتے اور شورش کی کوکھ سے ٹی ٹی پی کو جنم لیتے دیکھا۔ اس تنظیم نے جو مظالم ڈھائے وہ بھی دیکھے اور آج اس کی سرکوبی بھی دیکھ رہا ہوں۔

اس وسیع تجربے کی برکت سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ زمانہ کروٹیں لیتا ہے اور یہ کروٹیں نئے عالمی ماحول کو سامنے لاتی ہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں عسکری تنظیموں کا ماحول بنا تو عالمی میڈیا نے بھی ان تنظیموں سے وابستہ شخصیات کو "ہیرو” کے طور پر خوب فروغ دیا۔ افغان مجاہدین تو بہت بعد میں آئے ان سے بہت قبل چی گویرا عالمی سطح پر "ہیرو” کا درجہ پا چکا تھا۔ میں نے اسی فیس بک پر اپنی ڈی پی میں چی گویرا کی تصویر سجانے والوں کو اسامہ بن لادن کے حوالے سے یہ سوال اٹھاتے دیکھا کہ وہ سعودی شہری تھا، وہ افغان جنگ میں کیوں آیا اور اس نے پاکستان میں پناہ کیوں لی ؟ کاش ان بچوں نے تاریخ پڑھی ہوتی تو کم از کم چی گویرا کی تصویر اپنی ڈی پی سے ہٹا کر یہ سوال اٹھاتے کیونکہ تاریخ کے اس مطالعے سے چی گویرا سے متعلق ان کے علم میں تین باتیں ضرور ہوتیں۔ پہلی یہ کہ وہ کیوبن نہیں تھے بلکہ ان کی پیدائش ارجنٹائن میں ہوئی تھی، وہیں وہ پلے بڑھے تھے اور وہیں میڈیکل ڈاکٹر بنے تھے۔ دوسری یہ کہ کیوبن انقلاب کے بعد انہوں نے کیوبا میں داخلی محاذ پر جو سب سے بڑی خدمت انجام دی وہ ٹریبونل کے ذریعے مخالفین کو سزائے موت سنوا کر فائرنگ سکواڈ سے انہیں مروانا تھا اور اس خدمت کو "انقلابی انصاف” کا نام دیا گیا۔ تیسری یہ کہ جب وہ داخلی محاذ پر کچھ تعمیری نہ کر سکے تو خارجہ امور سنبھال کر واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ گئے مگر جب کیوبا میں بننے والی چینی فروخت کرنے بھی ناکام ہوئے تو سوچا جنگ لڑنا ہی "مناسب” کام ہے۔ وہ جنگ لڑنے براعظم افریقہ کے ملک کانگو پہنچے مگر افریقہ میں سر توڑ کوشش کے باوجود دال نہیں گلی چنانچہ وہ وہاں سے واپس لاطینی امریکہ لوٹ گئے لیکن کیوبا نہیں بلکہ بلیویا گئے اور وہیں پہاڑوں پر گرفتار کرکے مارے گئے۔ اسامہ بن لادن کا معاملہ بھی یہی رہا مگر ایک فرق کے ساتھ۔ فرق یہ کہ افغانوں نے انہیں اپنے ملک کے وزیر داخلہ یا خارجہ کی حیثیت نہیں دی بلکہ انہیں غیر ملکی ہی سمجھا چنانچہ انہیں جنگ کے بعد لوٹ کر گھر جانا پڑا۔ گھر میں امریکی فوج بیٹھی تھی اس کے خلاف علم بلند کیا تو پورے سعودی عرب میں کوئی محفوظ ٹھکانا میسر نہ تھا۔ مجبورا وہ بھی چی گویرا کی طرح افریقہ گئے مگر وہ بھی چی کی طرح افریقہ میں زیادہ دیر نہ ٹھر سکے۔ ایک بار پھر افغانستان آئے اور وہاں سے امریکی دعوے کے مطابق پاکستان پہنچے جہاں مارے گئے۔

آج کے نئے عالمی ماحول میں عسکریت کے لئے گنجائش ختم ہوچکی ہے۔ وہ پرانا وقت تھا جب ایک دوسرے کے خلاف عسکری تنظیمیں پالی جاتی تھیں اور انہیں فخریہ طور پر فروغ دیا جاتا تھا۔ آج کے دن لبرل چی گویرا اور مذہبی لوگ اسامہ بن لادن کی کی تصویروں والی ٹی شرٹ پہننا چاہیں تو پہن سکتے ہیں لیکن جو ان دونوں نے کیا وہ نہیں کر سکتے۔ ہم عسکریت کی زخم خوردہ قوم ہیں لھذا اس سے جان چھڑانا ہماری اپنی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم اب بھی عسکریت کو پالنے پر مصر ہیں تو ہم عالمی نوشتہ دیوار نہیں پڑھ رہے اور یہ ایک مہلک غلطی ثابت ہوگی۔ ہم افغان طالبان کی حمایت کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں بیرونی طاقتوں کے قبضے کا سامنا ہے۔ اگر کشمیری ایک بار پھر اپنی عسکریت کو منظم کریں تو عالمی قوانین کے مطابق ہم ان کی بھی حمایت کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم پاکستانی شہریوں کو عسکریت کی اجازت دے کر کسی اور ملک میں اتارنے کی غلطی نہیں کر سکتے۔ برکس اعلامیے کے بعد ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں ورنہ کسی ایک حادثے کے نتیجے میں ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے کہ اقوام متحدہ میں بھی چین کے لئے ہمارا دفاع ناممکن ہوجائے۔ ہم سے زیادہ تو آپ جانتے ہیں کہ حادثے صرف حادثاتی طور پر نہیں ہوتے !

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے