پنامہ کھچڑی

پنامہ کی گرد بیٹھ چکی تھی،غیر صادق غیر امین کا شوروغوغا تھمنے لگا تھا،جمعہ کی شام دوست عیسی نقوی کے ساتھ ہائیکینگ کرتے خوبصورت مارگلہ پہاڑیوں کی پگڈنڈی تین کی چوٹی سر کرنے والے تھے کہ موبائیل فون کی گھنٹی بجی،لینڈ لائین نمبر سے کال تھی ،کال اوکے کی تو دوسرے طرف سے قریبی دوست نے خبر دی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی پنامہ فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں سماعت کے لیے لگا دی گئیں ہیں،خبر سن کر حیرانی ہوئی،خیر فون پر دوست سے خبر سے متعلق مزید معلومات لیکر اپنے ادارے کو خبر لکھوا دی۔
ادارے کو بر وقت خبر دینے کے باوجود میری طبعیت میں اضطراب باقی رہا،سوچ میں تھا، ً کہ نواز شریف اور دیگر کی نظر ثانی درخواستیں پر سماعت کے لیے تین رکنی بینچ کیوں بنایا گیا؟ پانچ رکنی بینچ کے سامنے نظر ثانی کا مقدمہ کیوں نہیں لگایا گیاً،یہ سوال ذہین میں اس لیے آیا کیونکہ پانچوں ججز کی دستیابی کا بھی ایشو نہیں تھا ،پنامہ بینچ کے تمام پانچ ججز دستیاب تھے، سب سے بڑی حیرانی یہ تھی ایسی کیا ہنگامہ ضرورت آن پڑی تھی کہ سپریم کورٹ کے مقدمات کا شیڈول اور ججز کا روسٹر اچانک تبدیل کر دیا گیا ،نیا روسٹر جاری کرکے سابق وزیر اعظم کی اپیلوں کو سماعت کے لیے لگایا گیا،ان سوالوں کی گردان نے ذہین پر اتنا بوجھ ڈالا کہ ہائیکنگ کے لیے مزید اوپر جانے کا دل نہ رہا۔
پسینہ میں شرابور گھر کاراستہ لیے جا رہا تھا کہ ٹریفک سگنل سرخ ہونے کی وجہ سے رکنا پڑا،میرے ساتھ ہی موٹر سائیکل سوار آکر رکا گیا،موٹر سائیکل سوار نے ہیلمنٹ نہیں پہہنا تھا،قریب ہی کھڑے ٹریفل پولیس کے جواب نے قانون کی اس کھلی خلاف ورزی کو دیکھا ٹریفک پولیس کا اہلکار چالان کی کاپی ہاتھ میں لیے آن پہنچا،موٹر سائیکل سوار نے پولیس اہلکار کی منت سماجت کی،ہیلمنٹ نہ پہپننے کا جواز پیش کیا،ٹریفک پولیس کا اہکار نے تمام تاویلیں سن کر جواب دیا قانون سب کے لیے برابر ہیں،ابھی یہ الفاظ اس نے کہے ہی تھے کہ اسلام آباد پولیس کا سپاہی موٹر سائیکل پر بغیر ہیلمنٹ اور تیز رفتاری سے ٹریفک سگنل کو توڑتا ہوا نکل گیا ،اس دیکھا دیکھی میں پہلے والے بائیک سوار نے ٹریفک پولیس اہلکار کو مخاطب کرکے کہا جناب یہاں پیٹی بھائی اشارہ توڑ گیا،قانون صرف کمزور پر ہی کیوں لگتا ہے؟ ٹریفک والے نے شرمندگی سے نگاہیں نیچی کی اور موٹر سائیکل سوار کو کہا جاو،قانون کی مبینہ بالادستی کے مناظر دیکھنے کے بعد میرے ذہین میں چلتے سوالوں کا بگولا وسیع تر ہو گیا ،پنامہ کھچری سے متعلق گزشتہ سال کے اوائل سے لیکر اب تک کی تمام حیران کن یادیں تازہ ہوگیں،چلیں پنامہ کھچڑی کی یادوں کو دوھراتے ہیں۔
اپریل 2016 میں پنامہ پیپرز معاملہ کا انکشاف ہوا،22 اپریل کو نواز شریف نے معاملہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا تو چیف جسٹس آف پاکستان نے معاملہ کی تحقیقات کے لیے غیر مشروط جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کر دیا،اگست 2016 میں تحریک انصاف نے پنامہ ایشوز پر عدالت عظمی میں درخواست دائر کی،رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیکر واپس دے دیا ،یہ اعتراض بھی لگایا گیا کہ عدالت عظمی سے قبل متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا گیا ،رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف تحریک انصاف نے اپیل دائر کی،چیف جسٹس نے اپیل پر چمبر میں سماعت کیے بغیر درخواست کا کھلی عدالت میں سماعت کے لیے لگا دیا ،یہ آبزرویشن بھی دے دی کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کا جائزہ کھلی عدالت میں لیا جائے گا،بھری عدالت میں پنامہ کیس کی سماعت ہوئی تو رجسٹرار آفس کے اعتراضات کوکبھی ایڈریس ہی نہیں کیا گیا،بلکہ عدالت نے دونوں جانب کے فریقین کی رضامندی سے درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا ،سوال یہ پیدا ہوا کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کہاں گئے؟ انھیں ایڈریس کیوں نہ کیا گیا ؟ پنامہ لیکس پر تحقیقات کمیشن کا مطالبہ کرتی تحریک انصاف کا جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا بائیکاٹ کرنا حیران کن تھا ،20 اپریل کو پنامہ لیکس کا فیصلہ سنایا گیا تو پانچ ججز کا فیصلہ منقسم تھا ،تین ججز نے معاملہ پر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے ،دو ججز نے تحریک انصاف کو حتمی ریلیف دیتے ہوئے نواز شریف کو غیر صادق غیر امین قرار دے دیا ۔
جے آئی ٹی میں پنامہ لیکس قصہ مزید آگے بڑھا،دو ماہ کی قلیل معیاد میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی،تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر تین رکنی بینچ سماعت کرنے لگا،عدالتی صحافیوں کا موقف تھا کہ مشترکہ ٹیم کی رپورٹ پر فیصلہ تین رکنی بینچ کریگا،نواز شریف کو اپریل کو نا اہل قرار دینے والے جج فیصلہ میں شامل نہیں ہونگے،لیکن حساس معاملات اور حساس اداروں سے وابستہ صحافی اور شخصیات کی ایک ہی رٹ تھی کہ پنامہ کا فیصلہ پانچ رکنی بینچ سنائے گا،21 جولائی کو پنامہ کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ محفوظ کیا ،ایک ہفتے بعد فیصلہ سنانے کی تاریخ 28 جولائی کا اعلان ہوا،تو فیصلہ سنانے کےلیے جو بینچ تشکیل دیا گیا وہ پانچ رکنی تھا،کورٹ رپورٹرز حیران پریشان جو دو جج نواز شریف کو پہلے نا اہل کر چکے ہیں، ان کے بیٹھنے کا جواز کیا ہے،حیرانگی مزید آگے چل کر بڑھ گئی،جب 28 جولائی کو جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت کرنے والے تین ججز سمیت پانچوں ججز نے وزیر اعظم نا اہل قرار دیا ،پریشان کن بات یہ تھی کہ جو دو ججز جے آئی ٹی رپورٹ پر ہوئی سماعت میں نہیں بیٹھے،مشترکہ ٹیم کی رپورٹ کو جن دو ججز نے سنا نہیں،وہ جج مقدمہ کو سنے بغیر کیسے نا اہلی کا فیصلہ سنا سکتے ہیں،مزید ملکی قانون کو دیکھے بغیر بلاک لاءڈکشنری کی تعریف کی روشنی میں نواز شریف کو اس تنخواہ پر نا اہل کیا جو کبھی وصول ہی نہیں کی گئی۔
شریف خاندان کے فیصلے پر اعتراضات ہو سکتے ہیں،اس لیے نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں،یہ درخواستیں دائر ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بحث شروع ہو گئی کہ نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کونسا بینچ کریگا ،پانچ رکنی یا تین رکنی؟ قانونی ماہرین،کورٹ رپورٹرز اور حساس معاملات و اداروں سے وابستہ شخصیات یقین سے کہہ رہی تھی کہ نظر ثانی پر سماعت پانچ رکنی بینچ ہی کر سکتا ہے ،درخواستوں پر کوئی نیا بڑا یا فل بینچ سماعت کرنے کا مجاز نہیں،اس بات کا امکان بھی نہیں رہا تھا کہ 11 ستمبر سے شروع ہونے نئے عدالتی سال آغاز ہی میں پنامہ نظر ثانی درخواستیں سماعت کے لیے لگ جائیں گی کیونکہ 11 ستمبر سے شروع ہونے عدالتی ہفتے کا کورٹ پروگرام،مقدمات کی فہرست اور ججز کا روسٹر جاری ہو چکا تھا ،اچانک ایسا کونسا جھکڑ آیا کہ کورٹ پروگرام اور روسٹر تبدیل کرنا پڑا،پنامہ نظر ثانی کو سماعت کے لیے لگانا ایک مرتبہ پھر حیران کر کیا ،کیونکہ فیصلے پر نظر ثانی کے لیے پانچ نہیں بلکہ تین رکنی بینچ بنا دیا گیا ،مزید حیرانی یہ جن نظر ثانی درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے چھوٹا سا اعتراض لگا انہیں قابل پذیرائی نہیں جانا تھا﴿ جسے ایک صفحے کی اضافی متفرق درخواست سے شریف خاندان کے وکلاء نے دور کیا ﴾ انہی درخواستوں کو سب سے پہلے سماعت کی پذیرائی بخشی گئی﴿واضع رہے نواز شریف، بچوں ،سمدھی اور اسحاق ڈار نے پانچ ججز اور تین ججز کے 28 جولائی کے فیصلوں کے خلاف الگ الگ نظر ثانی درخواستیں دائر کی تھیں﴾ رجسٹرار آفس نے جن نظر ثانی درخواستوں کے قابل پذیرائی ہونے پر کوئی نقطہ نہیں اٹھایا تھا انہیں تاحال سماعت کی پذیرائی نہیں بخشی گئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button