کم گو انٹرویو

ناظرین کرام ! میرے آج کے مہمان چونکہ بہت زیادہ متنازع ہو چکے ہیں اور ان کے اپنے ہی ان کی چھترول کئے جا رہے ہیں اس لئے ان کے 35 سالہ سیاسی کیریئر میں پہلی بار اس انکشاف کی ضرورت پیش آ رہی ہے کہ وہ فرض نمازیں ہی نہیں نفل بھی بہت پڑھتے ہیں۔ میں نے خود ان کو بیس بیس منٹ کے سجدے کرتے دیکھا ہے کیونکہ میرا کام خود سجدے کرنا نہیں بلکہ دوسروں کے سجدے گننا اور ناپنا ہے۔ ناظرین کرام ! صرف نفلی نمازیں ہی نہیں میرے آج کے مہمان تو نفلی روزے بھی بکثرت رکھتے ہیں۔ میں ان کے تہجد کی بھی گواہی دیتا لیکن آپ نے یہ پوچھ کر سارا مزہ کرکرہ کردینا ہے کہ تہجد والے وقت میں تم کب سے بیدار رہنے لگے ؟ ناظرین کرام میرے آج کے مہمان کو انٹرویو کے لئے راضی کرنا اونٹ کو سائیکل پر بٹھانے کے مترادف تھا (رکشے میں تو اب بیٹھ جاتا ہے) کیونکہ وہ بہت ہی گوشہ نشین قسم کے کم گو انسان ہیں۔ یہ ان کی گوشہ نشینی کا ہی ثبوت ہے کہ وہ اکثر پنڈی میں خفیہ مجلسیں آباد کئے رکھتے تاکہ گوشہ نشینی کا اصل لطف لیا جاسکے۔ ان کی کم گوئی کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ پریس کانفرنس کرنے کھڑے ہوں تو صحافیوں کے ہجوم کی گھنٹے تک جان نہیں چھوڑتے لیکن اگر آپ کی پھر بھی تسلی نہیں ہوئی تو یہ دیکھ لیں کہ کابینہ میں وزیر تو اور بھی بہت تھے مگر باتیں صرف ان کی باہر آیا کرتی تھیں۔ ناظرین کرام ! میں جانتا ہوں کہ آپ نے یقین نہیں کرنا لیکن میں ڈیڑھ گھنٹے کی گفتگو میں آپ کو قدم قدم پر یہ احساس دلاتا رہوں گا کہ میرے آج کے مہمان بہت کم گو شخصیت ہیں مگر یاد رکھیں ! اگر آپ نے یہ بکواس کی کہ دوسرے لیڈر تو 35 منٹ کا انٹرویو دیتے ہیں یہ "کم گو” ڈیڑھ گھنٹہ کیوں بولتا رہا تو میں آپ کا منہ توڑ دوں گا۔ ناظرین اکرام ! ہمارا آج کا یہ پروگرام بہت ہی خاص ہے۔ یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں اس سے قبل احسان اللہ احسان اور میجر عامر کے انٹرویو کئے گئے اور آپ جانتے ہیں کہ مکھن میں نے ان دونوں کو بھی وافر لگایا تھا۔ ناظرین کرام ! اس کم گو انٹرویو کے لئے ہم سے تعاون کیا ہے عسکری سیمنٹ، عسکری بینک، ڈی ایچ اے اور اوکاڑہ ملٹری فارمز والوں نے !

متعلقہ مضامین