عمران خان کے وکیل پر سوالوں کی بمباری

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
سپریم کورٹ نے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد حنیف عباسی کی عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی تو عدالت میں وکلاءکی ایک بڑی تعداد موجود تھی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ ساڑے گیارہ بجے کمرہ عدالت میں پہنچا اور اگلے دو گھنٹے تک مقدمے کی سماعت میں ایسے بہت سے سوالات سامنے آئے کہ جیسے یہ پہلی پیشی ہو۔ عدالت کی سماعت کی تفصیل پڑھیں۔
عدالت عظمی میں تین رکنی بنچ کے سامنے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری پیش ہوئے تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے جائیداد خریداری اور دی گئی منی ٹریل میں ربط جوڑنے کا پوچھا۔ نعیم بخاری نے کہاکہ تمام معاملات کی وضاحت کیلئے عدالت میں دستاویزات پیش کردی ہیں۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ جمع کرائی گئی دستاویزات میں عدالتی سوالوں کے جواب موجود نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے کہ حقائق متنازع ہوں تو انکوائری ہوگی، اس مقدمے میں کل چار معاملات ہیں،بنی گالہ جائیداد، نیازی کمپنی، فارن فنڈز اور اسلام آباد کے ٹاور میں فلیٹ کامعاملہ ہے۔
درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ اپنی کرسی سے اٹھے اور کہنے لگے کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں نیازی سروسز کمپنی کا ایک اکاﺅنٹ پیش کیا جبکہ کمپنی کے دو اکاﺅنٹس تھے ایک میں رقم آتی تھی جبکہ دوسرے سے خرچ ہوتی تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم کیس کو مزید پھیلانا نہیں چاہتے، فوکس رکھنا ضروری ہے۔ دونوں فریقوں کا موقف وضاحت کے ساتھ آنا چاہیے۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری پھر بولے عدالتی ہدایت کے مطابق تمام دستاویزات اور تحریری جواب ایک ہی جگہ اکھٹا کرکے جمع کرادی ہیں۔
چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے پوچھاکہ جمائما سے رقم ملنے کی تصدیق شدہ دستاویزات کہاں ہیں، عدالت میں عمران خان کی ہردستاویز میں الگ موقف ہے۔ نعیم بخاری نے کہاکہ جزوی طورپر موقف مختلف ہوسکتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جزوی نہیں بڑی حد تک مختلف ہیں، عمران خان نے کہیں بھی اپنے جواب میں راشد خان کا ذکر نہیںکیا بلکہ نمائندوں کی بات لکھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان نے بنی گالہ جائیداد قرض کی رقم سے خریدنے کی بات کی ، قرض واپس بھی کرناہوتاہے، جواب میں فلیٹ فروخت کرکے فیملی کیلئے پراپرٹی خریدنے کا کہاہے۔ وکیل نے کہاکہ فیملی سے مراد بیوی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ آپ کی تشریح ہوسکتی ہے۔ہمیں کیسے معلوم ہوگاکہ راشد خان کے اکاﺅنٹ میں آنے والی رقم جمائما خان نے ہی بھیجی۔ نعیم بخاری نے کہاکہ عدالت میں اس کا چارٹ پیش کیاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ چارٹ آپ نے خود بنایا ہے یہ کوئی تصدیق شدہ دستاویز نہیں۔
وکیل اکرم شیخ ایک بار پھر اپنی نشست سے اٹھے اورکہاکہ دستاویزات میں صرف یہ لکھاہے کہ جے خان کے نام سے برطانوی اکاونٹ سے اس کے پاکستانی اکاﺅنٹ میں رقم منتقل ہوئی، یہ جے خان جہانگیر خان یا کوئی بھی ہوسکتاہے، پاکستان میں جے خان کے اکاﺅنٹ سے رقم راشد خان کے اکاﺅنٹ میں کیسے منتقل ہوئی؟۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بظاہراس کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا گیا ہے مگر اس کے مصدقہ ہونے پر سوال اٹھایا جا سکتاہے۔ جو کچھ عمران خان کے جواب میں لکھا گیاہے کہ اس کو ثابت بھی انہوں نے خود ہی کرناہے۔ دستاویزات کے صرف مصدقہ ہونے کا ہی معاملہ نہیں بلکہ تحریری جواب اور پیش کی گئی دستاویزات میں بھی فرق ہے۔ سولہ ہزار ڈالرز اکاﺅنٹ میں آئے مگر یہ نہیں بتایا گیاکہ کہاں سے۔ کل ایک لاکھ 26 ہزار ڈالرز ایسی رقم ہے جس کی دستاویزات میں وضاحت نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے ہم دستاویزات کو تفصیل سے نہیں دیکھ سکے تھے کہ وقت ہی نہیں ہوتاتھا اب سکون سے پڑھاہے تو وضاحت مانگ رہے ہیں تاکہ سمجھ سکیں۔ منی ٹریل کی تصدیق شدہ دستاویزات کہاں ہیں؟۔ نعیم بخاری نے کہاکہ کئی دستاویزات عدالت میں جمع کراچکے ہیں،ہم نے خود سے کوئی دستاویزنہیں بنائی، جیسے تھی پیش کی۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم کچھ نہیں کہہ رہے، یہ درخواست گزار کا اعتراض ہے، یہ دستاویزات عدالت میں سماعت کے دوران آئی ہیں، قانون شہادت کے تحت عدالتی سماعت کے نتیجے سامنے آنے والی دستاویز کو سیکنڈری شواہد مانا جاتاہے۔وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ اصل دستاویزات حاصل کرنے کی ایک بارپھر کوشش کروںگا۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ اگر نہ ملیں تو کیانتائج نکلیںگے؟۔ وکیل نے کہاکہ پھر بھی ہماری پوزیشن یہی ہوگی کہ رقم جمائما نے ہی بھیجی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ آپ کی پوزیشن ہوگی مگر قانونی پوزیشن بتائیں۔ جب ایک بارعدالت میں جمع کرایا جاتاہے تو پھر اس جواب سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ وکیل نے کہاکہ پھر ہم عمران خان نے جمائما کو جب رقم واپس کی ان دستاویزات سے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ چیف جسٹس نے سوال کیاکہ جمائما نے رقم براہ راست عمران خان کو کیوں نہیں بھیجی۔نعیم بخاری نے کہاکہ اس سوال کا جواب پہلے بھی دے چکاہوں کہ عمرا ن خان کے پاکستان میں نہ ہونے کی وجہ سے رقم راشد خان کو بھیجی گئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست گزار کی دستاویزات کے مطابق عمران خان پاکستان میں ہی تھے۔
وکیل اکرم شیخ ایک بار پھر اٹھے اور کہاکہ اس حوالے سے عمران خان کا ٹیکس گوشوارہ دیکھا جاسکتاہے جس کے مطابق وہ دوہزار دو تین میں پاکستان میں رہائش پذیرتھے، اکرم شیخ نے کہاکہ راشد خان کے جس اکاﺅنٹ میں رقم آئی و ہ اس نے خود ٹیکس گوشوارے میں ظاہر ہی نہیں کیااس کی اخبار میں ہیڈ لائن لگی ہے۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ وہ الگ معاملہ ہے اس طرف نہیں جارہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے ہیڈ لائن کو نہیں دیکھنا۔عمران خان ستانوے سے الیکشن لڑ رہے ہیں، کیا دوہزار دو کے الیکشن میں کاغذات نامزدگی میں قرض ظاہرکیاتھا؟۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ پانامہ کیس فیصلے میں عدالت قراردے چکی ہے کہ ٹیکس معاملات کو براہ راست نہیں دیکھ سکتے، یہاں سوال یہ ہے کہ عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت کیا اثاثے ظاہرکیے گئے، کیا کاغذات نامزدگی میںفلیٹ بیچنے کو ظاہر کیا گیا تھا؟۔ وکیل نعیم بخاری کہاکہ ابھی عدالت میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، دستاویزات دیکھ کر ہی بتاسکوں گا۔
چیف جسٹس نے پوچھاکہ کسی بھی تحریری جواب میں دکھادیاجائے کہ پراپرٹی جمائما خان کو تحفے میں دی گئی، جائیداد بے نامی تھی، جمائما نے ایک پیسہ نہیں دیاتو مالک کیسے ہو گئی؟۔ نعیم بخاری نے کہاکہ بیوی کو تحائف دیے نہیں جاتے بلکہ اس کے نام پر ہی خریدے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان کے جمع کرائے جواب میں اس بارے میں تضاد ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ جب دستاویز میں اس کو تحفہ نہیں لکھا گیا تو یہ بے نامی جائیداد ہی رکھی گئی۔پھرپوچھاکہ تحفہ دینے کی ڈیکلریشن کہاں ہے اور تحفہ لینے کی جمائما کی تصدیق کہاں ہے؟۔وکیل نے کہاکہ کوئی ڈیکلریشن نہیںہے، یہ میرامقدمہ ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہی تو آپ کا کیس ہے کہ عمران خان نے تحفہ دیا، باربار آپ کی بات میں مداخلت کرنے پر معذرت مگر اس کا جواب دیں۔وکیل نے کہاکہ نہیں مائی لارڈ، آپ ضرور پوچھیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ دکھادیں کہاں لکھاہے کہ یہ بے نامی جائیداد نہیں تھی، یہ بات صرف عدالت کے سامنے زبانی دلائل میں کہی گئی کہ بنی گالہ پراپرٹی جمائما کیلئے خریدی گئی۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ عمران خان نے اس جائیداد کی خریداری کیلئے 65 لاکھ روپے ادا کیے۔ وکیل نے کہا کہ جو جائیداد بیوی کے نام خریدی جائے وہ تحفہ ہی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان کی تیار کی گئی اپنی دستاویزات کہتی ہیں کہ یہ بے نامی جائیداد تھی، عمران خان نے قرض لیا واپس بھی کرنا تھامگر کاغذات نامزدگی میں ظاہرنہیںکیا۔نعیم بخاری نے کہاکہ بیوی سے قرض لے کر ظاہر کرنا ضروری نہیں، یہ بنک کا قرض نہیں تھا، میاں بیوی کے مابین قرض کبھی کبھار واپس نہیں بھی کیا جاتا۔
چیف جسٹس نے کہاکہ بیوی سے لیا گیا چار کروڑ قرض ظاہر نہ کیا جائے تو بتائیں قانون کیا کہتاہے؟ نعیم بخاری نے کہاکہ اس کی وضاحت بعد میں کروں گا۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ اگر یہی معاملہ الٹ ہوتا اور جمائما نے لندن میں عمران خان کے نام پر جائیداد لی ہوتی تو ہرچیز کا ریکارڈ موجود ہوتا کیونکہ وہ کے ٹیکس قوانین سخت ہیں، اب عدالت میں یہ وضاحت ہوجائے کہ لندن میں فلیٹ بیچنے سے کتنی رقم ملی، پاکستان کتنی رقم منتقل ہوئی اورکیس ہوئی تو آپ کا کیس آسان ہوجائے گا۔
چیف جسٹس نے کہاکہ ننانوے میں ٹیکس استثنا اسکیم سے فائدہ اٹھاتے وقت عمران خان نے فلیٹ کی قیمت بیس لاکھ بتائی تھی جبکہ بعد ازاں آٹھ کروڑ میں بیچا گیا۔ وکیل نے کہاکہ وہ قیمت خرید تھی، بیس برس بعد بیچا گیا تو قیمت بڑھ چکی تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا دستاویزات سے یہ چیز دکھائی جاسکتی ہے کہ فلیٹ بیچنے سے ملنے والی رقم میں سے جائیداد خریدنے کے بعد جو باقی بچی وہ کتنی تھی؟۔عمران خان سے ہدایات لے کر بتائیں کہ نیازی کمپنی کے کتنے اکاﺅنٹس تھے۔ وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایاکہ عمران خان کے پیش کیے گئے ریکارڈ میں بنک کا اتاپتہ موجود نہیں صرف جرسی ٹرانزیکشن لکھا ہوا ہے، عدالت میں پیش کیا جانے والا ریکارڈ مصدقہ ہونا چاہیے تاکہ آسانی رہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ اس مقدمے میں سب سے اہم دورانیہ دوہزار دو سے شروع ہوتا ہے جب عمران خان عوامی نمائندے منتخب ہوئے، اس سے قبل معاملہ کوئی سیریس نہیں۔ وکیل اکرم شیخ بولے کہ عدالت ستانوے کے کاغذات نامزدگی بھی منگوائے اور دیکھے، اس کیس میں بریج فنانسنگ کابھی معاملہ ہے جو راشد خان نے مہیا کیا اور عمران خان کے وکیل نے تسلیم کیا، یہ بھی قرض ہی ہوتاہے، عدالت کو یہ کہہ کر مطمئن نہیں کیا جا سکتاکہ ہم یہ سمجھتے تھے یا یہ سمجھتے ہیں، اب سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ پانامہ کیس فیصلہ دے چکا ہے، ہمارے سمجھنے کی کوئی حیثیت نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست میں یہ موقف ہے اور نہ ہی استدعا کی گئی ہے تو ستانوے کے عمران خان کے کاغذات نامزدگی کیسے دیکھیں؟۔ وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ یہ عوامی نمائندے کا معاملہ ہے اس لیے عدالت کو دیکھناہوگا۔ جسٹس فیصل عرب جو خاموش بیٹھے ہوئے تھے آخرمیں پوچھ بیٹھے کہ کیا الیکشن ہارنے والا بھی اثاثے چھپانے پر نااہل ہوسکتاہے؟کیا یہ نااہلی ہمیشہ کیلئے ہوگی؟۔ وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ یہ فیصلہ اب پانچ رکنی بنچ نے کرناہے جس کے سامنے نظرثانی اپیل لگی ہے۔ عدالت نے باپ بیٹے کے معاملے میں فیصلہ دیاہے تو یہ نہیں کہاجاسکتا کہ میاں بیوی کا معاملہ تھا۔ جسٹس عمرعطا بندیال جو بار بار اشاروں کنایوں میں پاناما کیس فیصلے کے ذکر سے خار کھائے بیٹھے تھے بول اٹھے کہ عدالتی فیصلہ باپ بیٹے کے درمیان معاملہ پر نہیں بلکہ ریاست اورعوامی عہدے دار کامعاملہ تھا، سپریم کورٹ کے سامنے اس فیصلے پر نظرثانی اپیلیں زیرسماعت ہیں اس لیے تبصرے سے گریزکرنا چاہیے۔پاناما فیصلہ اس طرح پڑھنا چاہیے کہ اس میں ٹیکس معاملات کو اس کے فورم پر اٹھانے کا کہا گیا ہے، دوسرا معاملہ اس میں درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا ہے، تیسرا یہ ہے کہ عوامی مفاد کے آرٹیکل کی حدود کی بحث ہے، اس کے علاوہ غیرمتنازعہ حقائق کی بات ہے، فیصلے کو ان حوالوں سے دیکھا جانا چاہیے۔
سماعت کے اختتام پر وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ ان کو مہلت دی جائے تاکہ وہ تصدیق شدہ دستاویزات کے حصول کی کوشش کرسکیں۔ عدالت نے ایک لاکھ 26 ہزار ڈالرز جمائما کی جانب سے بھیجے جانے کی تصدیقی دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کردی۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے