روہنگیا سے ہمدردی مگر

برماسے مسلسل ایسی خبریں آرہی ہیں کہ وہاں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور میانمر کی فوج اور مقامی غنڈے مل کر روہنگیا کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔اسی طرح سوشل میڈیا خاص طور سے فیس بک پر ایسی ایسی ویڈیوز وائرل ہیں کہ جن کو دیکھنے کے لئے پتھر کا کلیجہ اور لوہے کا دل چاہیے۔(فیس بک سمیت سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائٹس پر نہ تو خبر کی تصدیق کا کوئی طریقہ کار موجود ہے اور نہ اس طرح کی ویڈیوز کی اصلیت جانچنے کا کوئی میکانزم)۔
سوشل میڈیا پرروہنگیا کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے بھی اس ظلم کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں تاہم ،ہم چونکہ عالم اسلام کے بزعم خود ٹھیکیدار ہیں تو پاکستان کے طول و عرض میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔مملکت خداداد کے قبائیلی علاقوں سے لے کر وفاقی درالحکومت اسلام آباد اور کراچی ،لاہور جیسے بڑے شہروں میں مذہبی جماعتیں برما کے خلاف اور روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کر رہی ہیں۔(درہ خیبر پر مظاہرہ کرتے ہوئے قبائیلی مشران نے برما کو دھمکاتے ہوئے اعلان کیا کہ روہنگیا کے خلاف فوری طور پر ظلم وستم بند کیا جائے ورنہ قبائلی جوانوں کے لشکر وہاں جہاد کی عرض سے بھیجے جائیں گے۔۔ہے نہ ہنسنے کی بات،پتہ نہیں ہمیں کب عقل آئے گی )
ملک کے طول و عرض میں جاری مظاہروں کے بعد دفتر خارجہ کو بھی جاگ آئی ہے اور بیان جاری کیا گیا ہے جس میں میانمر میں ہونے والے ظلم کی مذمت کی گئی ہے تاہم جماعت اسلامی سمیت دیگر احتجاجی قوتیں اس سے خوش نہیں اور جماعت اسلامی نے جمعے کی نماز کے بعد اسلام آباد کے ریڈزون میں داخلے کی دھمکی دیتے ہوئے برمی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔(جماعت اسلامی کی احتجاجی ریلی روکنے کے لئے ریڈ زون کو سیل کیا گیا ہے اور اس طرف جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز رکھ کر بند کیا گیا جس سے اسلام آباد کے باسیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔)
میانمر میں روہنگیا کے خلاف جاری ظلم ایک بڑی خبر سہی (اوراس حوالے سے احتجاج کرکے میڈیا کوریج بھی حاصل کی جاسکتی ہے )تاہم قبائیلی علاقے خیبرایجنسی سے ایک بہت چھوٹی سی خبر آئی ہے جو نہ دفتر خارجہ کے کانوں تک پہنچی ہے اورنہ جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سربراہوں تک اور نہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے والے اداروں تک(کیونکہ وہ تو برما میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم کا بدلہ یہاں پاکستان میں پورا کرنے میں مصروف ہیں)
خبرہے کہ خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں افغان سرحد کے قریب پکنک سپاٹ انزر ناوسے 17افراد کو اغوا ء کر لیا گیا جن کے افغانستان منتقل کئے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق 18افراد پر مشتمل دوستوں کا ایک گروپ عید کی خوشیاں منانے انزر ناو کے پکنک پوائنٹ پر گیا جہاں سے یہ لوگ کسی مسلح جتھے کے ہاتھ لگے اور ان کو اغواء کرلیا گیاجن میں سے ایک شخص بھاگنے میں کامیاب ہوا (یا کرایاگیا )اُس نے آکر پولیٹیکل انتظامیہ کو خبر دی کہ مملکت خداداد کے 17شہری اغواء ہوگئے ہیں جس کے بعد راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے ۔نہ تو دفتر خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان آیا اور نہ مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے ۔دفتر خارجہ کو تو فی الفور یہ معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھانا چاہئے تھا جبکہ فوجی حکام کوبھی اپنی ہاٹ لائن استعمال میں لانا چاہئے تھی تاہم ہر طرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔کیوں ؟؟؟کیااغواء شدگان پاکستان کے شہری نہیں ؟؟؟
پشتو کی ایک متل ہے ،پردو غمونو ۔۔۔کور تہ راشہ ۔تو میں بھی یہی استدعا کر رہا ہوں کہ بس بہت ہوگیا ۔بہت کرلی ہم نے عالم اسلام اور امت مسلمہ کی ٹھیکیداری ۔ خدارا اپنے گھر کی طرف بھی ایک نظر کیجئے۔کیا جن کے پیارے اغواء ہوئے ہیں ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہے کسی کو ؟؟
ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربیانیاں دے لیں۔80000ہزار جانیں کوئی معنی رکھتی ہیں (جان کسی کی بھی ہووہ مقدم ہے ،چاہے وہ فوجی ہو یا سویلین )لیکن دنیا پھر بھی انکاری ہے اس کی وجہ کیا ہے ؟کیا کبھی اعلی دماغوں نے مل کر سوچنے کی زخمت گوارا کی ہے؟؟
کچھ عرصہ قبل دہشت گردی میں ملوث زیادہ تر دہشت گردوں کا تعلق کسی نہ کسی دینی مدرسے سے نکل آتا تھا تاہم سانحہ صفور ا میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق ملک کے ایک اعلی تعلیمی ادارے سے نکلا (آئی بی اے کراچی کا اعلی تعلیمی ادارہ ہے )جس کے بعد ہمارے اداروں کو سوچنا چاہئے تھا کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل بھی شدت پسندی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے تدارک کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئے تھے(سانحہ صفورا ہو،مشال خان قتل ہویا چنیوٹ کے نواح میں قتل کئے گئے تبلیغی جماعت کے بزرگ،ہم بطور قوم شدت پسندی کی جانب بڑی تیزی سے گامزن ہے جسے روکنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں خصوصامذہبی جماعتوں کوکردار ادا کرنا ہوگا ، اسی طرح عسکری اداروں کو بھی یہ ذمہ داری لینی ہوگی اور یہ بات سمجھنی ہوگی کہ یہ جنگ صرف دہشت گردوں کو مار کر نہیں جیتی جاسکتی بلکہ اس سوچ ،اس نظریے کو ختم کرنا ہوگا جواس ناسور کا سرچشمہ ہے) لیکن ہم ٹھہرے عالم اسلام کے ٹھیکیدار۔ہمارے اداروں (سیاسی و مذہبی جماعتوں اور حکومتی اداروں ) کو مسلمانان عالم کے غموں سے فرصت ملے تو اپنے نوجوانوں کی جانب بھی ایک نظر کرم کرلیں۔ اگر سانحہ صفور ا میں ملوث اعلی تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ دہشت گردوں کے بعد اعلی تعلیمی اداروں میں شدت پسندی کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے گئے ہوتے تو آج انصار الشریعہ نامی دہشت گرد تنظیم منظر عام پر نہ آتی جس کے تمام اراکین یا تو پروفیسرز ہیں یا اعلی تعلیم یافتہ نوجوان۔
تو خدارا بس کیجئے ۔دنیا کو ان کے معاملات کرنے دیں ۔آپ اپنے ملک ،اپنے معاملات سدھاریں یہی آپ کی کامیابی ہوگی۔

متعلقہ مضامین