عدالت میں مرنے مارنے کی باتیں

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
عدالت عظمی کے کمرہ نمبر ایک میں چیف جسٹس ثاقب نثار دو ججوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور ان کے سامنے مقدمہ عدالت میں روز پیش ہونے والے سپریم کورٹ کے وکیلوں کی ہاﺅسنگ سوسائٹی کیلئے زمین حاصل کرنے کا تھا۔ سپریم کورٹ کے وکیلوں کی تنظیم کے صدر رشید اے رضوی لگ بھگ دودرجن کالے کوٹ والوں کے ساتھ عدالت میں کھڑے تھے۔ ساتھ میں ہی وہ اراضی مالکان کھڑے تھے جن کی زمین پر یہ مجوزہ سوسائٹی بننا ہے۔ درمیان میں اسلام آباد انتظامیہ کے افسران موجود تھے۔
چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے صدر وکیل رشید رضوی سے پوچھا کہ کیا پیش رفت ہے؟۔ رشید رضوی نے جواب دیاکہ جہاں کھڑے تھے وہیں موجود ہیں، ڈی جی ہاﺅسنگ نے رپورٹ دی ہے کہ سروے آف پاکستان کی ٹیم زمین کو دیکھنے گئی تو اڑھائی تین سو افراد سامنے آگئے جن کی سربراہی الیاس مہربان، میاں اسلم اور شہرکے ڈپٹی میئر کررہے تھے، ان افراد نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا، ہاتھوں میں ڈنڈ
اٹھائے ان لوگوں سے بعد میں انتظامیہ کو مذاکرات کرنا پڑے تب سڑک کھولی گئی، ان تینوں سیاسی لوگوں پر مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس طر ح تو قانون نہ رہا، کل کو کسی بھی جگہ اراضی کا حصول نہیں ہوسکے گا، اب کوئی جانی نقصان ہواتو بات عدالت اور وکیلوں پر آئے گی مگر ریاست کی رٹ بھی قائم کرنی ہے، بات قانون کے نفاذ کی ہے، دیکھنا ہوگاکہ یہ صورتحال بنی ہے یا بنائی گئی ہے، کل ڈیم، پل یاکسی اور مقصد کیلئے اراضی حاصل کرنا ہوئی تو کیا کریں گے، مالکان اسی طرح کا طریقہ کار اختیار کرکے روکیں گے؟۔
عدالت کو ڈی جی ہاﺅسنگ نے بتایا کہ علاقے میں اراضی کے حصول کیلئے عملی مشکلات درپیش ہیں، پہلے بھی عدالت کو تحریری طورپر لکھ کر دیاہے کہ رکاوٹ ہے مالکان سے رضامندی کے ذریعے ہی زمین ایکوائر کی جاسکتی ہے، طاقت سے ایسا مشکل ہوگا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار اس بات سے ناخوش ہوکر بولے کہ کیاریاست کی رٹ قائم کرنا طاقت کا استعمال ہوتاہے؟اس کا حل کیا ہے دیکھنا ہوگا۔
اسی دوران عدالت میں کھڑے زمین مالکان میں سے ایک شخص نے ہاتھ کھڑا کرکے بولنے کی اجازت چاہی تو چیف جسٹس نے پوچھاکہ آپ کون ہیں؟۔ اس شخص نے کہاکہ میرا نام لیاقت علی ہے، زمین مالک ہوں، موضع تمہ سے تعلق ہے، ہماری اراضی مفاد عامہ کیلئے حاصل نہیں کی جارہی، ہم خود گزشتہ روز وہاں احتجاج کررہے تھے، میری زمین ہے، چھ کروڑ کی زمین بیس لاکھ روپے میں کیوں دوں؟سیاست دان ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، الیاس مہربان میرے کزن ہیں، وہ ہمارے لیے احتجاج میں آئے، ان پر اعتراض درست نہیں، میاں اسلم بھی اصولی آدمی ہیں ہر جگہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، طارق فضل چودھری بھی ہمارے علاقے کا ہے یہ وکیل کیسے کہہ رہے ہیں کہ اس نے زمین حاصل کرنے پر رضامندی ظاہر کی، وہ ہمارے خلاف کیسے جاسکتاہے۔ ہم پورا علاقہ متفق ہیں کہ ان وکیلوں کو اپنی زمین نہیں دیں گے، کل کو وہاں بندے مارے جائیں گے، نئی صورتحال پیدا ہوگی، گزشتہ رو زمیں بھی مرنے ہی گیاتھا، بچوں کو وصیت کرکے احتجاج کیلئے نکلا تھا، غریب کی جھونپڑی گرا کر امیروں کے محلات تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔
چیف جسٹس نے رشید رضوی سے پوچھاکہ اس صورتحال میں کیا تجویز دیں گے؟ ان کو تو سروے پر بھی اعتراض ہے، سروے کا مقصد زمین پر قبضہ تو نہیں ہوتا۔کیا عدالت حکم کرے تو پھر بھی سروے نہیں ہونے دیں گے؟۔اس پر بات ایک اور مقامی زمین مالک سامنے آیا اور چیف جسٹس کو مخاطب کرکے بولا کہ ہم نے بھی درخواست دی ہوئی ہے، ہمارا موقف بھی سنیں، وکیلوں کیلئے زمین حاصل کی جارہی ہے اس کا کوئی سرکاری مقصد نہیں، جو بھی ہو ہم ان کو اپنی زمین پر داخل نہیں ہونے دیں گے، مرنے کیلئے بھی تیار ہیں اور مارنے کیلئے بھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت میں ایسی باتیں نہ کریں۔مقامی زمین مالک نے کہاکہ جب ہم نے زمین ہی نہیں دینی تو سروے کیسا؟۔
عدالت میں اسلام آباد انتظامیہ کی خاتون افسر نے کہاکہ زمین کی مالیت اور مالکان سے متعلق رپورٹ چیف کمشنر کو دی ہے جس میں یہ بتایا ہے پارک روڈ پر سڑک کے نزدیک زمین کی مالیت زیادہ ہے جبکہ پیچھے موضعات میں مالیت کم ہے۔ عدالت نے سروے کیلئے حفاظتی اقدامات کرنے کیلئے دیے گئے حکم پر عمل کے حوالے سے آئی جی سے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی جبکہ زمین مالکان کی درخواست پر وکیلوں کی تنظیم کو نوٹس جاری کرکے جواب جمع کرانے کیلئے کہا۔ عدالت نے علاقے کی سیٹلائٹ تصاویر بھی جمع کرانے کی ہدایت کی جس میں مجوزہ زمین پر موجود تعمیرات کی تفصیل بھی شامل ہو۔
چیف جسٹس نے کہاکہ اس معاملے میں تین قانونی سوال ہیں، ایک یہ ہے کہ زمین کاحصول قانونی ہے، دوسرا یہ کہ کیا بیچنے اور خریدنے والوں کی مرضی شامل ہے، اگر نہیں ہے تو کیا ان کو اس میں سے پلاٹ اور متبادل جگہ فراہم کی جائے گی، اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیا مارکیٹ نرخ کے مطابق قیمت دی جارہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ان میں سے کچھ کا جواب تو آگیاہے کہ زمین قابل حصول ہے مگر کوشش کریں گے کہ لوگوں کو دقت اور تکلیف نہ ہو، چھ کروڑ تو خام خیالی ہے مگر پھر بھی زمین کی قیمت کا درست تعین کیاجائے۔رشید رضوی نے کہاکہ ہم بھی ذہنی طورپر تیارہیں کہ سڑک کے قریب زمین کی مالیت زیادہ ہوگی اور پیچھے موجود زمین کم قیمت کی ہے، ہم مارکیٹ نرخ دینے کیلئے تیارہیں، لیکن یہ لوگ اصل مالکان نہیں انوسٹرز ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم بھی یہی سوچ رہے ہوں گے مگر سروے آف پاکستان کی رپورٹ دیکھنا ہوگی اور امن وامان کے مسئلے کو بھی دیکھناہے کیونکہ یہ انتظامی معاملہ ہوگا۔ رشید رضوی نے کہاکہ اگر ایک آدمی بھی ہے تو اس کو بھی ناراض نہیں کریں گے۔ مقدمے کی سماعت دس اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین