کیا چوہدری نثار جواب دیں گے !

انسان جب اپنے سے چھوٹوں کو خود کے لیے خطرہ سمجھنے لگتا ہے تو ان سے الجھنا شروع کردیتا ہے بے جا تنقید کرنا وطیرہ بن جاتاہے چھوٹوں کی خامیوں کو اجاگر کرکے خود کاقد بڑھانے کی کھوکھلی کوششیں کرتارہتا ہے لیکن حقیقی طورپرایسے اقدامات اونچے قد میں چھپی بونی سوچ کو آشکار کررہے ہوتے ہیں ایسا ہی کچھ چوہدری نثار کے معاملے میںدیکھنے کو مل رہا ہے،مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چوہدری نثار کھل کر بات کرنے اور حقائق کا برملا اظہار کرنے والے سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیںاس بات کے پیش نظر چند باتوں کا جواب چوہدری نثار سے لینا چاہتا ہوں تاکہ مجھے جیسے کم علم سمیت عوام کے اذہان میں ابھرنے والے سوالات کی تشفی ہوسکے۔ 1980 کی دہائی میں جب چوہدری نثار علی خان پاکستانی سیاست میں وارد ہوئے تو اس وقت مریم نواز کی عمر صرف سات سال تھی۔۔ یاد رہے کہ چوہدری نثار اور مریم نواز کی عمر میں21 سال کا فرق ہے مگر حیران کن بات ہے کہ 32سال پُرتعیش سیاسی ماحول میں زندگی گزارنے والے سابق وزیرداخلہ کو مریم نواز کیوں بُری لگنے لگیں؟
چوہدری نثار 8 مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے،دو مرتبہ آئی جے آئی کی ٹکٹ پر اور پانچ مرتبہ ن لیگ کے جھنڈے تلے فتحیاب ہوئے نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے والے چوہدری نثار کو کسی الیکشن میں مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیا چوہدری نثار بتائیں گے کہ وہ کونسی گیدڑسنگی تھی جس نے انہیں شکست سے دوچار نہیں ہونے دیا؟
چوہدری نثار مسلم لیگ ن کی سنٹرل پارلیمانی بورڈ کا حصہ تھے مگر پھر بھی راولپنڈی سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر آزاد الیکشن لڑکر جیتے۔۔۔کیا وزیراعلیٰ بننے کی خواہش نہیں تھی؟ پارٹی نے ٹکٹ نہیں دی تو پارٹی ڈسپلن کو کیوںتوڑا؟کچھ تو بتائیں!
ہر حکومتی دور میں مرضی کی وزارت اور اپوزیشن میں بطور اپوزیشن لیڈر رہنے والے چوہدری نثار نے کیوں نواز شریف سے اس وقت ببانگ دہل اختلاف نہیں کیا؟وہ نواز شریف جو ہر سیاسی معاملے میں بھرپور مشاورت کرتے تھے ایسا کیا ہوا کہ انہیں مشاورتی دائرے سے نکالاگیا؟ جناب یہ میں نہیں کہہ رہا خود آپ نے اپنی بھرپور پریس کانفرنس میں اس کا اظہار کیا تھا۔۔ یاد ہے نا۔۔
ملک ریاض کے ظلم کے خلاف آخری حد تک لڑنے والے چوہدری صاحب بتائیں کہ بطور وزیرداخلہ کیا اقدامات کیے اور کتنے لوگوں کو ریلیف دلایا گیا؟جناب والا لگے ہاتھ اس بات کی بھی درستگی کردیں کہ پرویز مشرف کو بطور آرمی چیف لگوانے کے لیے آپ نے سفارش کی تھی یا نہیں؟ اکتوبر 99 میں نواز شریف اور بظاہر قریبی دوست شہباز شریف کو اٹک قلعے کی ہوا کھانی پڑی جبکہ پرویز رشید کو تو لاتوں مکوں کے ساتھ کیا کچھ سہنا پڑا مگر آپ کو گھر میں نظر بند کیا گیا یہ بھی حُسن اتفاق ہی ہوگا؟؟
امید ہے آپ بتائیں گے کہ مشرف دور میں آپکی عمران خان سے ملاقاتیں رہیں یا نہیں؟چوہدری نثار صاحب اس کی بھی ترید یا تصدیق کردیں کہ عمران خان کیساتھ آپکی ایک نشست میں موجود تیسرے شخص نے آپ سے پوچھا تھا کہ آئندہ انتخابات میں اگر نواز شریف دوبارہ وزیراعظم بن گے تو پھر۔۔۔جس پر کیا آپکا جواب یہی تھا یہ نہیں؟
If Given another opertunity to become PM pakisatn.He will be the bigger disaster as PM pakistan.
امریکہ کی جانب سے افغانستان پر حملے میں پاکستان کی پالیسی کے ایک سوال پر کیا آپ نے یہ الفاظ ادا کیے تھے؟
Had i been in power.I wolud have mikled the americans after 9/11.
جنابِ من !ذرا اس بات کی بھی تصیح کردیں کہ عمران خان سے آپ کی، شوکت ترین اور مجیب الرحمن شامی کی دھرنے سے قبل ملاقات ہوئی تھی یا نہیں؟ کیونکہ بہت سے لوگ اس بات کا واویلا بھی کر رہے ہیں!!
کیونکہ شورش زدہ معاشروں میں افوائیں اس قدر زیادہ معتبر ہوجاتی ہیں کہ سچائی سامنے ہی نہیں آتی!! لگے ہاتھ یہ منطق بھی سمجھائیں کہ ایک طرف نواز شریف کو کرپشن کے کیس میں نااہل کیا گیا، آپ نے اس سازش کو بے نقاب کرنے کی بجائے اپنا رونا میڈیا کے سامنے رویا! کیا نااہلی میں آپکو کوئی سازش کی بُو نہیں آئی؟ کیانواز شریف اور ان کا خاندان غلط پراپیگنڈا کررہاہے؟کیا پرانے اور بااعتماد ساتھیوں کا یہی کردار ہونا چاہیے کہ جب کشتی بھنور میں ہو۔لیڈر سمندر بُرد ہورہا ہو تو اپنے گلے شکوے شروع کردیںاور پھر بھی شک نہ کیا جائے ،کیوں؟
چوہدری صاحب آپ نے ن لیگ کو جمہوری پارٹی بنانے میں جو خدمات انجام دیں کسی روز اس بارے میں بھی بیچاری کم فہم عوام کو آگاہ کردیں۔ کیونکہ اگر ن لیگ میں جمہوریت ہوتی تو آج یہ مسائل نہ ہوتے کہ پارٹی کی صدار ت کس کے پاس جانی چاہیے کون اس کا صیح حقدار ہے اور کون نہیں۔۔۔۔آج آپ کو بھی یہ بات نہ کہنی پڑتی کہ مریم تو بچیوں کی طرح ہے ان کو لیڈر کیسے مانا جاسکتاہے بینظیر اور مریم نواز کا کوئی موازنہ نہیں!! ‘بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں’ ان جملوں کو ادا کرنے کی نوبت نہ آتی۔ آپ کی باتیں ،رویے اور طرز سیاست نے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے مگر خوف کے مارے کو پوچھنے کی ہمت نہیں کرتا، سوچا یہ جرم میں ہی کرلوں۔ کیونکہ بیٹیوں جیسی مریم نواز پر بلاوجہ تنقید کرنا ظاہر کرتاہے کہ آپ کو کسی بدگمانی نے شدید طریقے سے گھیر لیا ہے جس مریم نے ابھی اقتدار کی براہ راست سیڑھی نہیں چڑھی وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان کے لیے کیوں کر مسئلہ بن گئی؟ اسی وجہ سے آپکی شخصیت اور سیاست دونوں پر سوال اُٹھنے شروع ہوگئے ہیں!!
اور آخر میں عرض کرتا چلوں کہ اگر مندرجہ بالا سوالا ت، حقائق میں کوئی بات غلط ہو تو درستگی فرمائیں تاکہ اصلاح احوال ہوسکے!!!

 

 

متعلقہ مضامین