رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

کیوں نہ آج آپ کو اپنی کہانی سناؤں! وہ کہانی جو روایتی کہانیوں کی طرح رنگین نہیں سنگین ہے۔ اس کہانی میں کوئی اٹکتی مٹکتی ہیروئین نہیں لھذا کسی آئٹم نمبر کی امید بھی نہ رکھئے گا۔ اس میں بس ایک اکڑتا کڑکتا ہیرو ہے جو ظاہر ہے کہ میں ہی ہوں۔ یہ بنیادی طور پر میری غیرت اور حمیت کی کہانی ہے اور آپ دیکھیں گے کہ غیرت اور حمیت کے لئے میں نے کیا کیا قربانیاں دے رکھی ہیں۔ مجھے امید نہیں یقین ہے کہ اس کہانی کے اختتام پر آپ میرے احترام میں یوں باادب کھڑے ہوجائیں گے جیسے سینما میں قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہوا جاتا ہے اور آپ کا دایاں ہاتھ ضرور مجھے سلیوٹ پیش کرنے کے لئے حرکت میں آجائے گا۔ اس کہانی کا آغاز عین ان دنوں ہوا جب میں نے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی شروع کیں۔ سب خوش تھے کہ اب میں کماؤں گا جس سے ماں کی دوائیوں، بچوں کی تعلیم اور روزی روٹی کا بند و بست ہوگا۔ میں نے ہی نہیں بلکہ باقی اہل خانہ نے بھی آنکھوں میں یہ سہانے خواب سجا لئے تھے کہ وقت کے ساتھ ساتھ میں ترقی کرتا جاؤں گا جس سے ہمارا معیار زندگی بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے گا۔ انہی دنوں گلی کے دو لونڈوں سے میرا پھڈا پڑگیا۔ میری رہائش محلے کی 47 نمبر گلی میں ہے۔ ان دونوں سے پھڈا 48 نمبر گلی میں ہوا اور ہوا دونوں سے الگ الگ۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے سو ان دونوں نے میرے خلاف ہاتھ ملا لیا۔ مجھے اڑوس پڑوس والوں نے سمجھایا کہ دیکھو بات بڑھانا مت بلکہ لڑائی جھگڑے کے بغیر ان دونوں سے اپنے مسائل نمٹانے کی کوشش کرنا، لڑائی میں نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ یہی بات مجھ سے نہر کے پار والے شیخ صاحب نے بھی کہی لیکن میں ان بزدلانہ مشوروں کو خاطر میں نہیں لایا۔ یہ میری غیرت کے خلاف تھا کہ میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا۔ میں نے طے کرلیا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر رہوں گا اور ان دونوں کو رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور کردوں گا۔

ایک دن ان میں سے ایک کو میں نے گلی نمبر 65 گھیر لیا، زبردست لڑائی ہوئی ، خوب گھونسے لاتیں چلیں اور ہمارے ہاتھ میں جو آیا وہ ایک دوسرے کو دے مارا۔ اس لڑائی کے نتیجے میں مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میرے پاس لڑائی کے تگڑے قسم کے اوزار ہونے چاہئیں۔ تب تک میں اپنی کمائی سے کچھ رقم پس انداز کر چکا تھا۔ میں نے اوزاروں کی فہرست بنانی شروع کی اور وہ جمع پونجی ان کی خریداری کے لئے نکالی تو ماں نے کہا، بیٹا میرا دمے سے برا حال ہے، ساری رات کھانس کھانس کر ہلکان ہوجاتی ہوں ، ٹھیک سے سو بھی نہیں پاتی۔ تم نے تو کہا تھا کہ جب پیسے جمع ہوجائیں گے تو اچھے ڈاکٹر کے پاس چلیں گے۔ ماں کی بات سن کر بچے بھی پاس آگئے اور کہنے لگے، آپ نے تو کہا تھا کہ اچھی تعلیم کے لئے اچھا سکول بہت ضروری ہوتا ہے، جب پیسے جمع ہوجائیں گے تو تم لوگوں کو اچھی تعلیم دلواؤں گا۔ بچوں کے لئے تو میرا گھورنا ہی کافی تھا سو میری آنکھوں کا جلال دیکھتے ہی ایک کونے میں دبک گئے جبکہ ماں سے میں نے صاف صاف کہدیا کہ دیکھ ماں تو میرا دماغ نہ خراب کر، ہم جئیں گے تو غیرت کی زندگی ہی جئیں گے، بے شک ہمیں خالی پیٹ اور کھانستے کھونستے ہی کیوں نہ جینا پڑے، تیری کھانسی کے سیرپ کے لئے میں دشمن کو نہیں بخش سکتا۔ میں اسے دکھا کر رہوں گا کہ اس کا واسطہ کسی ٹچے سے نہیں بلکہ لوہے کے چنے سے پڑا ہے۔ ماں چپ کر گئی۔ لڑائی کے اوزار لینے نکلا تو ابا سے سامنا ہوگیا۔ میرے ہاتھ میں اوزاروں کی فہرست اور پیسے دیکھے تو کہنے لگے، بیٹا گھر کی مشرقی دیوار بہت کمزور ہوگئی ہے، معمولی سے دھکے سے گر سکتی ہے، اس طرف تمہارے بھائی کا کمرہ ہے اور وہ بہت ناراض ہے۔ تم یہ لڑائی جھگڑے چھوڑو اور وہ دیوار ٹھیک کرا لو ورنہ وہ دیوار گری تو گھر بھی ٹوٹ جائے گا۔ اب ذرا یہ بھائی کا ماجرا بھی سن لیجئے۔ وہ ایک نمبر کا ہڈ حرام تھا، کرتا کراتا کچھ نہ تھا بس میرے پیسوں پر اس کی نظر رہتی۔ جلتا تھا مجھ سے کہ اس کے پاس پیسے کیوں ہیں اور گھر میں صرف اس کی کیوں چلتی ہے ؟ بھئی اگر بڑا میں تھا تو گھر میں چلنی بھی میری ہی تھی۔

میں رکنے والا نہیں تھا، اوزار کا آڈر بک کر آیا، تھوڑے ہی عرصے میں کچھ اوزار آگئے اور کچھ ابھی آنے تھے کہ ایک دن دھڑام کی آواز آئی۔ میں دوڑ کر باہر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہماری مشرقی دیوار جو گلی نمبر 71 کی طرف تھی اسے گرا کر میرا وہی دشمن گھر کے اندر گھس آیا تھا۔ میں نے خوب مقابلہ کیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میرا ناراض بھائی دشمن سے مل چکا تھا۔ میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ وہ خبیث اس طرح کی حرکت بھی کر سکتا ہے۔ مانا کہ دشمن کے خلاف تیاریوں میں مشغولیت کے باعث میں بھائی کو راضی نہیں کر سکا تھا مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ بندہ ’’غدار‘‘ ہی ہوجائے۔ میں نے بھرپور مقابلہ کیا لیکن اس بار میرا دشمن خوش قسمت ثابت ہوا۔ گھر کے مشرقی حصے کو اس نے الگ کروا کر میرے بھائی کو مجھ سے کاٹ دیا۔ دشمن سے ہونے والی اس جنگ سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے بہت زیادہ اوزار درکار ہیں، دشمن پر مکمل فتح کے لئے یہ اوزار بہت ضروری تھے۔ مجھے اس لڑائی کے بعد بھی نام نہاد سمجھدارانہ مشورے دئے گئے، وہی مشورے جن کا حاصل بزدلانہ زندگی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ میں نے ان مشوروں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو اہل غیرت کا شیوہ ہوا کرتا ہے اور لڑائی کے نت نئے اوزار جمع کرنے شروع کردئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور مزے کی بات سنئے ! وہ جو میرا دوسرا خبیث دشمن تھا اسے ایک دن میں نے گلی نمبر 79 میں گھیرا اور گلی نمبر 92 تک اسے گھسیٹا لایا۔ اس میں بہت سے لوگوں نے میرا ساتھ بھی دیا کیونکہ علاقے کا ایک بڑا بدمعاش اس سے مل گیا تھا، اس کی وجہ سے مجھے بھی کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن بتا نہیں سکتا کہ مزہ کتنا آیا۔ یہ اسی مزے کا اثر تھا کہ دشمن نمبر ایک کے خلاف بھی میں نے یہی تجربہ دہرانے کی کوشش کی لیکن کمبخت ڈھیٹ بہت ثابت ہوا۔ اب پچھلے سولہ سال سے ان دونوں نے میرے خلاف سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ انہوں نے میرا نقصان بہت کر لیا ہے اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری ساری زندگی لڑائیوں اور ان کی تیاریوں میں گزر گئی، میں یکسوئی سے کمائی نہیں کر سکا، گھر میں غربت نے ڈیرے جما رکھے ہیں، بیماروں کے لئے دوائیاں نہیں ہیں، بچے اچھی تعلیم حاصل نہیں کر سکے، گھر کے اکثر لوگ جاڑے کی راتوں میں ننگے فرش پر سوتے ہیں، فاقوں کے ڈر سے قرض بھی بہت زیادہ لے رکھا ہے لیکن میں آپ کو یہ بات صاف صاف بتا دوں کہ دشمن کو میں نے چھوڑنا نہیں ہے۔ اس کی ناک رگڑوانا میں نے اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا ہے۔ ایک بار میں اس کی ناک رگڑ دوں پھر انشاء اللہ خوش حالی کے مشن کو بھی اسی لگن سے انجام دوں گا ، میرا ایمان ہے کہ میری یہ قربانیاں ایک نہ ایک دن رنگ ضرور لائیں گی، وہ شعر تو سنا ہوگا

مفت کی پیتے تھے مے اور کہتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے