ذرائع

رعایت اللہ فاروقی

’’سیٹھ ! تمہارے ذرائع آمدن کیا ہیں ؟‘‘

’’آپ ہیں کون بھئی اور اندر کیسے آگئے ؟‘‘

’’میں اینکر ہوں، کسی فیکٹری کا گیٹ کھلا دیکھ لوں تو کیمرے سمیت اندر گھس جاتا ہوں”

’’نکلئے یہاں سے یہ پرائیویٹ پراپرٹی ہے آپ یوں اندر نہیں آسکتے !‘‘

’’دیکھو کیمرے کو ہاتھ مت لگانا ، سب ریکارڈ ہو رہا ہے، میں ناظرین کو دکھا دوں گا کہ تم نے مجھے دھکے دئے‘‘

’’ میں نے دھکے کب دئے ؟‘‘

’’دئے نہیں ہیں لیکن دوگے تم ضرور‘‘

’’کیوں دونگا ؟‘‘

’’میرا تجربہ ہے، روز کھاتا ہوں دھکے، ایسے ہی نہیں مشہور ہوگیا‘‘

’’آپ چاہتے کیا ہیں ؟‘‘

’’میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اپنے ذرائع آمدن بتا دو بس !‘‘

’’میرے ذرائع آمدن سے آپ کا کیا لینا دینا ؟‘‘

’’لینا دینا ہے، مجھے تم سے کرپشن کی بو آرہی ہے، میرے ذرائع کا کہنا ہے کہ تم ملاوٹ کرتے ہو‘‘

’’آپ تو دو ہفتے پہلے اپنے پروگرام میں بیٹھے ڈاکٹر سے کہہ رہے تھے کہ بچپن میں دنبے نے ناک پر ٹکر دے ماری تھی جس سے آپ کی سونگھنے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے۔ اور یہ کس ذرائع نے آپ سے کہدیا کہ میں ملاوٹ کرتا ہوں، میں تو کپڑا بناتا ہوں کپڑے میں کونسی ملاوٹ ہوتی ہے ؟‘‘

’’تم بکواس بند کرو اور اپنے ذرائع آمدن بتاؤ ! اور ہاں یہ بھی بتاؤ کہ یہ گھڑی جو تم نے کلائی پر باندھ رکھی ہے یہ کتنے کی ہے ؟ وہ جو پارکنگ میں گاڑی ہے اس کی قیمت کیا ہے ؟ اور یہ جو آئی فون ہے یہ کتنے کا آیا ؟‘‘

’’گھڑی ڈیڑھ لاکھ کی ہے، گاڑی ستر لاکھ کی اور فون پچانوے ہزار کا۔ خریدنا ہے کیا ؟‘‘

’’یہ عیاشی تم کیسے کر لیتے ہو ؟ یہ سب کیسے آیا ؟‘‘

’’یہ میں بعد میں بتاؤں گا، پہلے آپ بتائے کہ آپ کا فون اور گاڑی کتنے کی ہے ؟‘‘

’’فون اسی ہزار کا ہے اور گاڑی تیس لاکھ کی ہے وہ بھی سیکنڈ ہینڈ‘‘

’’اور تنخواہ کتنی ہے آپ کی ؟‘‘

’’دس لاکھ روپے!‘‘

’’میں مہینے کے دس کروڑ کماتا ہوں، اس حساب سے تو آپ مجھ سے زیادہ عیاش نہیں ہوگئے ؟‘‘

’’تم مجھ سے سوال کیوں پوچھ رہے ہو، صحافی میں ہوں کہ تم ہو ؟ اگر تمہاری کمائی جائز ہے تو تم اس کے ذرائع کیوں نہیں بتاتے ؟‘‘

’’پھر تو آپ کی خبریں اور ٹاک شوز بھی ناجائز ہوگئے‘‘
’’وہ کیوں ؟ ؟ ؟‘‘

’’آپ اپنی خبروں اور من گھڑت دعووں کے ذرائع بتاتے ہیں ؟‘‘

’’کس نے کہا کہ میں من گھڑت دعوے کرتا ہوں ؟‘‘

’’تین روز قبل کون اپنے پروگرام میں کہہ رہا تھا کہ حد درجے قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس نہیں آئیں گے، وہ الطاف حسین کی طرح لندن کو ہیڈ کوارٹر بنائیں گے ؟‘‘

’’ذرائع بھی انسان ہوتا ہے، ایک خبر غلط ہوگئی تو کیا ہوا ؟‘‘

’’ہوتا ہوگا انسان لیکن ہے ناجائز کیونکہ آپ کے بقول جو ذرائع معلوم نہ ہوں وہ ناجائز ہوتے ہیں‘‘

’’تو تم اپنے ذرائع آمدن نہیں بتا رہے ؟‘‘

’’میں تو سرکار اور عدالت کو بتا دیتا ہوں، آپ تو ان کو بھی نہیں بتاتے !‘‘
’’صاحب جی ! آپ دونوں اتنی دیر سے لڑ رہے ہیں میں ایک بات کہوں ؟‘‘
’’آپ کون ہیں بابا جی ؟‘‘

’’یہ چوکیدار ہیں اس فیکٹری کے !‘‘

’’جی بابا جی ! بولیں، کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ؟‘‘

’’صاحب جی ! ذرائع ایک دم صاف صاف صرف طوائف کے معلوم ہوتے ہیں، باقی سب کا سب کچھ نامعلوم ہوتا ہے !‘‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button