عمران کے بیانات میں واضح تضاد

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آگیا۔ کپتان کے دونوں بیانات میں واضح فرق کی نشاندہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے دوران کی ۔ چیف جسٹس بولے عمران خان نے اپنے پہلے تحریری جواب میں کہا بنی گالہ جائیداد کی خریداری کیلئے 65 لاکھ روپے اپنی جیب سے ادا کیے، اب کہا جا رہا ہے 65 لاکھ روپے کی رقم جمائمہ نے تحفے میں دی۔ تاریخ 26 ستمبر کو دن ساڑھے گیارہ بجے جب چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے پر سماعت کا آغاز کیا تو عتیقہ اوڈھو اپنا مقدمہ چھوڑ کر عمران خان نااہلی کیس سننے کیلئے کمرہ عدالت نمبر ایک میں موجو د تھیں۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کے آغاز میں کہا درخواست گزار کی طرف سے صرف 2 دستاویزات کے علاوہ تمام دستاویزات غیر مصدقہ ہیں، دستاویزات کے مصدقہ ہونے کا قانون دونوں فریقین پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، 13 جون 2002 کو عمران خان نے الیکشن سے قبل انکم ٹیکس میں جمائمہ خان سے لئے قرض کو ظاہر کیا، عمران خان نے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں عوامی عہدہ رکھنے سے قبل تفصیلات ظاہر کیں، 23 جنوری 2003 کو بنی گالہ جائیداد کی تمام رقم ادا کر دی گئی، اگر دستاویزات سے ثابت نہ ہوا تو یہ تاثر جائے گا کہ عمران خان نے بنی گالہ جائیداد بے نامی خریدی۔ نعیم بخاری نے ایک مرتبہ پھر یہ تسلیم کیا کہ ہم ایک لاکھ پاونڈ کی رقم کا سراغ لگانے میں ناکام رہے ۔ عمران خان کے وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا 23 جنوری کو جب بنی گالہ جائیداد کی تمام رقم ادا کی گئی اسوقت پوری تصویر میں عمران خان نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے کہا سوال یہ ہے کہ بنی گالہ جائیداد کی مالک جمائمہ خان تھی یا جائیداد بے نامی تھی۔ نعیم بخاری نے کہا عمران خان نے بیان حلفی میں بنی گالہ جائیداد جمائمہ کیلئے لینے کا کہا، 14 اپریل 2003 کو لندن فلیٹ فروخت ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا ہمیں نیازی سروسز لمیٹڈ کے اُس وقت کے اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کریں جس سے جمائمہ کو رقم منتقل ہوئی، ہم پانچ لاکھ 62 ہزار پاؤنڈ کی تفصیلات دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے نعیم بخاری نے ایک اکاؤنٹنٹ پیش کیا جس نے 2001 سے 2004 تک اکاؤنٹ کی تفصیلات بتائیں ۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا ہمارا سوال اب بھی وہیں ہے 18 اپریل 2003 کی وہ دستاویز کہاں ہے جس میں عمران خان نے جمائمہ کو فلیٹ کی فروخت کے بعد رقم منتقل کرنے کی ہدایت دی، اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں، اگر عمران خان نے جمائمہ کو رقم بذریعہ چیک دی تو اُس کی کوئی نقل ہوگی یا بنک اسٹیٹمنٹ میں رقم منتقل ہونے یا جمائمہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہونے کا ذکر ضرور ہوگا، کیا عمران خان نے جمائمہ کو رقم نقدی دی۔ اس پر عمران خان کے اکاؤنٹنٹ نے یہ اقرار کیا کہ ہمارے پاس نیازی سروسز لمیٹڈ کے بنک اکاؤنٹ کی اسٹیٹمنٹ نہیں ہے، رقم عمران خان کی ہدایت پر منتقل ہوئی ۔ چیف جسٹس نے کہا عمران خان نے جو رقم جمائمہ سے لی اور پھر واپس کی اُس کا کوئی ثبوت دینا ہوگا ۔ نعیم بخاری نے عمران خان کی طرف سے رقم جمائمہ خان کو منتقل کرنے کیلئے بنک کو دی گئی ہدایات اور بذریعہ ای میل بنک جواب پر بات کی تو چیف جسٹس نے کہا آپ سپریم کورٹ میں وہ دستاویز فراہم کر رہے ہیں جو 2017 میں ایک ای میل کی صورت میں ہے، دستاویز کی تصدیق بھی ہونی چاہیے ۔ نعیم بخاری نے کہا ہمیں جمائمہ خان سے ہدایات لینے کیلئے وقت فراہم کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ بنی گالہ جائیداد کی خریداری کے بعد بھی تقریبا ایک لاکھ 32 ہزار پاؤنڈ کی رقم نیازی سروسز لمیٹڈ کے اکاؤنٹ میں موجود تھی، آپ کا موقف ہے کہ بنک والے یہ رقم نکلوانے نہیں دے رہے تھے کیونکہ یہ رقم قانونی چارہ جوئی کیلئے استعمال ہونی تھی، ان تمام باتوں کے باجود یہ رقم عمران خان کا اثاثہ تھا، اور اثاثوں کو الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیا گیا اس کے نتائج کیا نکلیں گے ہم جائزہ لیں گے، سچ تک پہنچنے کیلئے مقدمہ سن رہے ہیں ۔ نعیم بخاری نے کہا ہمیں تھوڑا وقت فراہم کیا جائے، جمائمہ خان سے بھی ہدایات لینی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کیا عمران خان کا کوئی ذاتی اکاؤنٹ بھی تھا اس بارے بھی عدالت کو آگاہ کریں، درخواست گذار نے لندن فلیٹ کے منی ٹریل کا ذکر نہیں کیا یہ سب ہم اپنی طرف سے کر رہے ہیں، درخواست گذار کا کیس تو صرف یہ تھا کہ عمران خان نے نیازی سروسز لمیٹڈ کو اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا، ہم نے آخری سماعت پر بھی یہی دستاویزات مانگیں لیکن شاید آپ کسی وجہ سے بھول گئے ہیں ۔ بعد ازاں عدالت نے نعیم بخاری کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28 ستمبر تک ملتوی کردی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے