ڈی ایس ایل آر عدالت

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیراعظم اور نیب کے ملزم نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی پیشی کے وقت ملزم کو پینتالیس گاڑیوں پر مشتمل پروٹوکول دیا گیا۔ شاہی سواری عدالت پہنچی تو ہٹو بچو کی صدائیں بلند ہونے لگیں یہاں تک کہ نیب کے پراسیکیوٹرز کو بھی عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملی۔ جج صاحب کی مداخلت پر نیب پراسیکیوٹرز عدالت آئے تو کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ میاں صاحب کی موجودگی میں جج صاحب شاید اچھا محسوس نہیں کر رہے تھے۔ ارشاد فرمایا کہ رش کافی ہے آپ کی حاضری لگ جائے گی آپ جا سکتے ہیں۔

اسی اثناء میں سابق وزیراعظم کا ذاتی فوٹوگرافر ڈی ایس ایل آر کے ہمراہ تنخواہ حلال کرنے لگا۔ فلیش لائٹ آن ہوئی تو جج صاحب نے غصے میں پوچھا کون ہے یہ کیمرا مین کیا اسے معلوم نہیں کہ عدالت میں کیمرے لانا منع ہے؟ عدالت کو بتایا گیا کہ موصوف شاہی فوٹوگرافر ہیں اور میاں صاحب کی عدالت حاضری پر رقم ہونے والی تاریخ کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہے ہیں تاکہ محترمہ مریم نواز صاحبہ اور ان کا میڈیا سیل اسے فیس بک اور ٹوئٹر کی زینت بنا سکے۔

پھر یوں ہوا کہ جج صاحب کے ماتھے پر پڑنے والے بل غائب ہونے لگے اور معاملہ ایسے رفع دفع ہوا جیسے عدالت میں کوئی واقعہ پیش ہی نہ آیا ہو ۔ میاں صاحب فوٹو سیشن کے بعد پنجاب ہائوس واپس روانہ ہوگئے۔ یوں یہ قصہ تو تمام ہوا لیکن قانون کے مطابق ہونے والی اس توہین عدالت کو جج صاحب نے کس مصلحت اور قانون کے تحت معاف کیا اس راز پر سے پردہ نہ جانے کب اٹھے گا۔

کچھ ہی دیر بعد جب سماعت جاری تھی اور نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث حسب معمول دھیمے لہجے میں دلائل جاری رکھے ہوئے تھے کہ ایک صحافی نے گستاخی کرتے ہوئے کہا خواجہ صاحب تھوڑا اونچا بولیے گا۔ عدالت کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ صحافی کو جھاڑ پلاتی ہوئے کہا گیا خواجہ صاحب جن سے مخاطب ہیں انہیں آواز آ رہی ہے ۔ سماعت کے بعد مقامی صحافیوں کے ذریعے عدالت نے گستاخ صحافی کو پیغام بھجوایا کہ آئندہ گستاخی ہوئی تو گرفتار کروا دیا جائے گا۔

یوں قانون کی کتابوں سے توہین عدالت کی ایک ایسی مثال سامنے آئی جو شاید پہلے کبھی نہ سنی نہ دیکھی گئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button