عدالتی پیشی یا سیلفی مقابلہ

وہی راستہ، وہی وقت، مگر منظر دن اور رات کی طرح یکسر مختلف، جی الیون پہنچنے پر پولیس نے بتایا راستہ بدل لیجیے، سیدھی احتساب عدالت کو جانے والی شاہراہ بند ہے، گھوم پھر کر پہنچنے میں کامیاب ہوا تو بتایا گیا احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں۔ ہمت کی تکرار کی۔  پرچی پر نام لکھے گئے۔ پولیس افسران نے منظوری دی یوں آدھا کام ہوگیا۔ سول کپڑوں میں ملبوس اہلکار کے پیچھے چلنے کو کہا گیا۔ کبھی ادھر جا کبھی ادھر جا مگر راستہ ہے کہ ملنے کا نام نہیں لے رہا، بالآخر اسی اہلکار کی رہنمائی میں خاردارتاریں پھلانگنے کا فیصلہ کیا گیا، وہی خار دار تاریں جنہیں بعدازاں لاڈلے وزیر بھی پھلانگ پھلانگ کر آتے پائے گئے۔ خدا خدا کرے احتساب عدالت کے دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ٹھہرے، مگر عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ مرکزی دروازے پر بتایا گیا آپکو تو داخلے کی اجازت ہی نہیں، یہ ایک فقرہ تیر کی طرح سیدھا دل پر لگا، صحافیوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوا۔ بحث جاری تھی کہ اچانک ساتھ کھڑے احتساب عدالت کے ایک افسر پر نظر پڑی، میرا غصہ اس وقت جھٹ سے اتر گیا جب اسکو کہتے سنا بھائی صاحب ہماری عدالت میں نواز شریف نے پیش ہونا ہے مجھے تو جانے دیا جائے۔ جواب ملا آپ انتظار کریں آپکو بتاتے ہیں۔ یوں وہ افسر بھی ہماری طرح لائن میں لگ کر اگلے حکم کا انتظار کرنے لگا، اس وقت جان میں جان آئی جب کہا گیا سب کو داخلے کی اجازت ہے۔ جیسے ہی جوڈیشل کمپلیکس کے مرکزی دروازے پر پہنچے تو اسپیشل برانچ کو انٹرویو دینے کا مرحلہ شروع ہوا۔ بتایا صحافی ہوں کیس کور کرنا ہے۔ ہدایت ملی موبائل رکھ دیں اور آپکو بتاتے ہیں کہ اجازت ہے یا نہیں۔ خیر بحث جاری تھی مگر میں احتساب عدالت کے دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ وہاں پر موجود نائب کورٹ سے حسب معمول خیریت دریافت کی، اور ان سے آخری ہدایت لی کہ کمرہ عدالت میں بالکل آخر میں کھڑے ہونا ہے۔ سر جھکایا اور کمرہ عدالت میں داخل ہوگیا۔ جج صاحب کی نشست خالی تھی، عدالتی عملہ بھی نہیں پہنچا تھا۔ مگر لیگی وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اور سیلفیوں کا دور چل رہا تھا۔ ساتھ کھڑے وکیل صاحب نے کہا سر آپ میڈیا سے ہیں تو آپکے ساتھ سیلفی لے لوں، میں نے کہا عدالت ہے یہاں موبائل کیمرہ استعمال کرنا منع ہے۔ جواب ملا چھوڑیے سر میں بھی وکیل ہوں ۔ اور جب میں نے اس کے موبائل پر دیکھا تو میرے ساتھ سیلفی لی جاچکی تھی۔ کچھ وقت گزرا نواز شریف بنام سرکار کی آواز لگی۔ نعروں کی گونج میں سابق حاکم وقت بطور ملزم کمرہ عدالت میں داخل ہوا۔ کمرہ عدالت میں شیر آیا شیر آیا کا نعرہ گونجا، جج کمرہ عدالت میں آئے اور سماعت کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ مطمئن اور پرسکون انداز میں کھڑے نواز شریف ساری کارروائی دیکھتے رہے۔ ایسے میں انکے اپنے کیمرہ مین نے ڈی ایس ایل آر نکالا اور ایسے تصویر لی کہ سابق وزیراعظم اور جج دونوں نظر آسکیں۔ گویا وہ عدالت نہیں بلکہ جلسہ گاہ میں کھڑے ہوں۔ جج صاحب نے فوری کہا یہ کون ہے۔ اور یوں کیمرہ مین نیچے چھپ گیا۔ مگر اچانک ایک چیخ گونجی اور ہم نے ٹکر دیا کمرہ عدالت سے ایک شخص کو زبردستی سیکورٹی اہلکار باہر نکال کرلے گئے۔ حیران و پریشان یہ آخر ہوا کیا۔ سب کے ذہن میں آیا کہ میاں صاحب کو کسی نے کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ رش اتنا کچھ سنائی نہ دے مگر شور شرابے میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث استثنیٰ کی درخواست پر اپنے دھیمے لہجے میں دلائل جاری رکھے ہوئے تھے کہ انوکھے لاڈلے صحافی نے بلند آواز میں فرمائش کی ذرا اونچا بولیے۔ جس پر جج صاحب نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا وہ مجھ سے مخاطب ہیں آپ سے نہیں۔ اور مجھے سب سمجھ آرہی ہے۔ اب آپ بولے تو یہاں نہیں باہر ہوں گے ۔ خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز بیمار ہیں بار بار لندن آنا جانا ہوگا۔ ویسے بھی سابق وزیراعظم کو سیکورٹی خدشات ہیں۔ عدالت آنا مشکل ہوگا۔ حاضری سے استثنی دیا جائے۔۔ عدالت نے رش دیکھتے ہوئے نواز شریف کی حاضری لگائی اور حکم دیا آپ چلے جائیں، اگلی پیشی سے متعلق وکیل کو بتا دیا جائے گا اور ریفرنسز کی نقول نواز شریف کو فراہم کردی گئیں، اور سماعت میں وقفہ ہوگیا۔ باہر نکلے تو دوست صحافی عامر عباسی پر نظر پڑی جو نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہوا تھا ۔ شور مچایا کہ نواز شریف کے سیکورٹی پروٹوکول نے کسی شخص کو نہیں بلکہ ہمارے دوست صحافی کو مارا ہے۔ جس کے بعد نواز شریف کا سیکورٹی پروٹوکول اور میڈیا نمائندگان دست وگریبان ہوچکے تھے۔ وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی، نواز شریف کے وکیل نے انکی اہلیہ کی سرجری اور سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر حاضری سے استثنی کی درخواست پر دلائل جاری رکھے۔ نیب پراسیکوٹر نے مخالفت کی اور موقف اپنایا اس کا مقصد فرد جرم کی کارروائی کو روکنا ہے۔ عدالت نے دلائل سنے اور عدم حاضری پر حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ اور حکم دیا کہ دو اکتوبر تک ملزمان پیش ہوں اور شخصی ضمانت کے ساتھ دس دس لاکھ روپے کے ضمانی مچلکے بھی جمع کرائیں اور کہا استثنی کی درخواست پر آئندہ سماعت پر فیصلہ کیا جائے گا، کمرہ عدالت سے باہر نکلا تو دفتر سے فون آیا نواز شریف پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے دو اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے، آپ نے ابھی تک خبر نہیں دی۔ میں نے کہا کون چلا رہا ۔جواب ملا پی ٹی وی تک سب چلا رہے ۔ پھر بتایا کہ جب تک ملزمان کی حاضری مکمل نہیں ہوتی نواز شریف پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی۔ تاہم اپنی تنہائی کو دیکھ کر تھوڑی پریشانی ضرور ہوئی کیونکہ دانیال عزیز بھی کہہ رہے تھے دو اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے نواز شریف کو طلب کرلیا گیا ہے۔ انہیں بتایا ایسا کیونکہ ممکن ہوسکتا ہے۔  کیا بچوں کےوارنٹ جاری نہیں ہوئے۔ اگر ہوئے ہیں تو پھر اگلی سماعت پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی۔ مگر پھر بھی دل کو چین نہ آیا معتبر عدالتی سورس سے پوچھا اس نے بتایا بے فکر رہو، جو دیا درست دیا۔ نواز شریف آئے چلے گئے۔ نعرے گونجے، سیکورٹی ہٹا لی گئی۔ وکلاء چلے گئے۔ میڈیا نمائندگان بھی چل دیے۔ اور پھر سے انہی راستوں سے بلا خوف و خظر چل دیا جو صبح تک نو گو ایریا بن چکے تھے!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button