متحدہ اور انصاف کا اتحاد

عبدالجبارناصر
گزشتہ روز  26ستمبر2017 کوپاکستان کی سیاست میں دو اہم واقعات پیش آئے ہیں اور دونوں کا تعلق ماضی کی ایک دوسرے کی جانی دشمن جماعتوں سے ہے۔
تحریک انصاف کے وفد نے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیوایم۔پی ) کے عارضی مرکزبہادرآباد کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ دونوں جماعتوں نے آئندہ مل چلنے اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین پیپلزپارٹی کے سید خورشید احمد شاہ کو دونوں عہدوں سے ہٹاکر مخدوم شاہ محمود قریشی کویہ عہدے دینے کا فیصلہ کیا ہے، ان جماعتوں کو کامیابی ملے گی یا نہیں اس کا اصل انحصار اب جماعت اسلامی پر ہے۔
قومی اسمبلی کے ضابطہ کار کی شق 39 الف (1) کے مطابق اس عمل کے لئے ان جماعتوں کو اپوزیشن کے اکثر ارکان کے دستخطوں سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ موجودہ اپوزیشن لیڈر کو اب اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں رہا ہے اور اس کی جگہ فلاں (نامزد رکن)کو قائد حزب اختلاف بنایا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی کو اطمنان ہوگیا تو وہ موجودہ قائد حزب اختلاف کی برطرفی اور نئے قائد حزب اختلاف کی تقرری کا اعلان کرے گا۔
اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں میں پیپلزپارٹی کے 47، تحریک انصاف کے32، ایم کیوایم پاکستان کے24،جماعت اسلامی کے 4، مسلم لیگ (ق) کے 2، عوامی نیشنل پارٹی کے 2اور دیگر 8ارکان ہیں اور یہ کل تعداد 119بنتی ہے ۔تحریک انصاف کو سید خورشید احمد شاہ کو ہٹانے کے لئے 60ارکان کی حمایت درکار ہے،جبکہ تحریک انصاف اور ایم کیوایم پاکستان کے ارکان کی تعداد تو 56بنتی ہے مگرسوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں جماعتیں اپنے ہی تمام 56ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہونگیں ؟ کیونکہ اطلاع ہے کہ دونوں جماعتوں کے 8سے9ارکان پہلے ہی باغی ہوچکے ہیں وہ کسی صورت ان کی حمایت نہیں کریں گے ۔ اس طرح ان کی تعداد کم ہوکر 47سے 49تک رہ جاتی ہے ۔ مسلم لیگ (ق) کے 2اور دیگر 5ارکان کی حمایت مل بھی جائے تو یہ تعداد 54سے56بنتی ہے ۔ دوسری جانب سید خورشید احمد شاہ کو پیپلزپارٹی کے47، عوامی نیشنل پارٹی کے 2اور دیگر6سے 7ارکان کی حمایت حاصل ہے اور یہ تعداد 55سے 56بنتی ہے۔
اس سارے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت جماعت اسلامی کے 4ارکان کو حاصل ہوگی ، جس گروپ کو جماعت اسلامی کی حمایت ملے گی وہ کامیاب ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی لا تعلق رہے گی اورسید خورشید احمد شاہ کے خلاف کسی مہم میں شریک نہیں ہوگی ،بلکہ امکان ہے کہ سید خورشید احمد شاہ کے ساتھ کھڑی ہوگی (مخدوم شاہ محمود قریشی کا دعویٰ کے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو اعتماد میں لیا گیا ہے)اور اگر دونوں جماعتوں کے چند باغی ارکان نے بھی سید خورشید شاہ کی حمایت کی تو دونوں جماعتوں کا کھیل تمام ہوگا۔
در اصل اس کھیل کا مقصد نیب کے نئے چیئرمین اور نگراں وزیر اعظم کی تقرری سے پیپلزپارٹی کو الگ کرناہے ، جس انداز میں یہ کھیل شروع کیاگیاہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اصل’’ کسی اور کا ہے‘‘اور اگر یہ دونوں جماعتیں اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی مزید قریب ہونگی۔
دوسرا اہم واقعہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے آئندہ مل جلکر چلنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور امکان ہے کہ متوقع عام انتخابات میں سندھ کی حدتک یہ دونوں جماعتیں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کی کوشش کریں گی۔
خلاصہ
ہماری نظر میں گزشتہ چار سال میں پہلی بار تحریک انصاف نے عقل مندی کا مظاہرہ کیا ہے اور اگر دونوں جماعتوں نے آئندہ مل جل کر  چلنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ مثبت قدم ہوگا اور اس کا فائدہ دونوں کو ہی ملے گا۔اسی طرح قائدحزب اختلاف اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین عہدوں کے لئے ان کے پاس مطلوبہ تعداد ہے تو یہ عہدے ان کے نامزد ممبران کا حق ہیں۔دونوں جماعتیں ماضی میں سیاسی نابالغی، جارحیت اور محاذ آرائی کی حد کو بھی کراس کرچکی ہیں، انہیں اب سیاسی مفاہمت کا خیال آیا ہے یا ’’کسی نے توجہ دلائی ہے‘‘تو یہ اچھا اور قابل تحسین اقدام ہے۔

متعلقہ مضامین