ڈار ریفرنس کا کانوں سنا حال

داخلہ بند ہے، مرکزی گیٹ پر حکم نامہ موصول ہوا، پرسکون انداز میں پولیس کی بات سنی، اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک طرف کھڑا ہو گیا، جہاں نواز شریف کی عدالت پیشی پر تجزیے جاری تھے ۔ حسب توفیق تجزیے میں اپنا حصہ ڈالا، اور کلائی میں پہنی گھڑی پر نظر ڈالی، تشویش لاحق ہوئی، آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس شروع ہونے میں صرف پندرہ منٹ باقی ہیں ۔ فیصلہ ہوا پولیس سے پوچھا جائے آخر اب کیا دیر ہے، کب داخلے کی اجازت ملے گی۔ مگر کسے معلوم پولیس کے ارادے تو کچھ اور ہی تھے، وقت بھاگ رہا تھا، پولیس کے ساتھ لفظی جنگ چھڑنے کو تھی کہ پہلی جھڑپ ہوئی ۔ ریاستی مشینیری کے سامنے پہلی پسپائی مقدر ٹھہری۔ گرزتے وقت کے ساتھ جھڑپیں چلتی رہیں، اور ہر بار پسپائی صحافیوں کو برداشت کرنا پڑی، مگر اچانک ملزم اسحاق ڈار کی گاڑی اپنی جانب بڑھتی دیکھی تو امید بندھی اب تو جانے دیا ہی جائے گا، پر کسے معلوم پولیس کو اب بھی کچھ اور ہی کرنا تھا، اسحاق ڈار کو روکا گیا، انتظامیہ نے بھانپ لیا دال گلنے والی نہیں، صحافیوں کے داخلے کے خظرے کے پیش نظر اسحاق ڈار کو ججز کے گیٹ سے جوڈیشل کمپلیکس کے اندر پہنچا دیا گیا، گیٹ پر کھڑے وکلاء بپھر گئے، گیٹ پھلانگ کر اندر داخل ہونے کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ اور تو وکلاء نے دعوت نامہ بھی دیا صحافی بھائیو آپ بھی اسی راستے سے آجاو، صدیق جان اور جاوید سومرو نے ہمت کرکے وکلاء کے نقش قدم پر چلنے کی ناکام کوشش کی، اچانک پولیس اہلکار آیا کہا فیاض محمود اور اویس یوسفزئی اندر آجائیں تاکہ رجسڑار سے مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہوسکے، مگر مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی اس وقت ناکام ہوگئے جب ایک صحافی دوست نے ہمارے جانے پر اعتراض اٹھا دیا۔ کہا اگر یہ جائیں گے تو پیچھے میں بھی رہنے والا نہیں، جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا، مائیک پکڑا اور اپنے ناظرین کو وہاں کے مناظر دکھانا شروع کر دیے، اندر کیا ہو رہا تھا کسی کو کچھ خبر نہیں، صحافی کھانے کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے مگر خبر نہ ملے تو فوری بے چین ہو جاتا ہے۔ فون نکالا عدالت میں ایک سورس کو فون لگایا معلوم ہوا ملزم اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی جارہی، فوری طور پر ناظرین کو بڑی پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا، سائلین ہمارے پاس پہنچے کہ ہم ان کو اندر لے جانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اور ہماری کوشش کہ سائلین ایک ساتھ اندر جائیں تو ہم بھی گھس جائیں، مگر دونوں ہی ناکام ٹھہرے، کچھ دیر گزرا عدالتی سورس نے بتایا فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے، عدالتی سورس کے مطابق پوچھا گیا الزام ہے آپ نے 831 ملین کے اثاثے کرپشن کے پیسے سے بنائے، جواب نہ میں ملا، پھر پوچھا اپنے اوپر لگنے والے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام کو تسلیم کرتے ہیں، اسحاق ڈار نے اس پر بھی کورا جواب دیا۔ یوں عدالت نے استغاثہ کے دو گواہوں طارق جاوید اور اشتیاق علی کو چار اکتوبر کو طلب کرلیا۔ وزیر مملکت طارق فضل چوہدری باہر آئے تو انہوں نے بتایا فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ جبکہ فرد جرم عائد نہ کرنے کی اسحاق ڈار کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی ہے ۔ خبریں دے چکے تو پولیس کے ساتھ حتمی جھڑپ ہوئی۔ گیٹ کھولنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ پولیس ایک بار پھر ہمیں شکست دینے میں کامیاب رہی۔ تھکے ہارے صحافی گرین بیلٹ اور کچھ گیٹ کے پاس سایہ دیکھ کر بیٹھ گئے، کچھ نے تو گھر کی راہ لی۔ ایسے میں پولیس اہلکار بھاگا بھاگا آیا اور بڑے فخریہ انداز میں بتایا دیکھا سر میں نہ کہتا تھا آپ کو اندر بلایا جائے گا۔ آ جائیں میں آپ کو ساتھ لے کر چلتا ہوں، یوں ہم بھی چل دیے کہ رجسٹرار سے بات کریں گے، رجسٹرار کو ملے، انہوں نے معذرت کی اور کہا ہم مل کے کوئی حل نکالتے ہیں۔ یوں آج کی سماعت اس وعدے پر ختم ہوئی آئندہ میڈیا کو داخلے کی اجازت ملے گی۔ اور اگلی بار کوئی یہ نہیں کہے گا کہ داخلہ بند ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button