جعلی دستاویزات کی سزا

صحافی کو اتوار کی چھٹی والے دن کرنے کو خاص نہ ہو تو میز کی درازوں میں پڑی دستاویزات کو دوبارہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے، یہی کچھ میں نے عمران خان نااہلی کیس میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے ساتھ کیا۔ عام دنوں میں کام کے بوجھ اور ٹی وی رپورٹنگ کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے کسی بھی اہم دستاویزات کو ٹکرز کے علاو ہ کسی اور نظر سے دیکھنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔
عمران خان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کے دو صفحات کو دیکھ کر پناما کیس کی ایک سماعت میرے ذہن کے پردے پر تازہ ہوگئی۔ جولائی کا مہینہ، کمرہ عدالت نمبر دو، جسٹس اعجاز افضل خان کی سر براہی میں بیٹھے تین رکنی خصوصی عمل درآمد بینچ اور ان کے سامنے دلائل دے رہے تھے سابق وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ، جے آئی ٹی رپورٹ پر سلمان اکرم راجہ کا موقف تھا کہ حسین نواز آف شور کمپنیوں کا اصل مالک ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مریم نواز کے آف شور کمپنیوں کا بینیفشل مالک ہونے سے متعلق ورجن آئی لینڈ کی سرکارسے معلومات حاصل نہیں، وہ کہہ رہے تھے کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے لیے کیلبری سیاہی کے استعمال بارے بھی تحقیقاتی ٹیم کی فائنڈنگ قابل قبول نہیں،وہ اپنے موکل حسین نواز کے دفاع میں دلائل جاری رکھے ہوئے تھے کہ اچانک جسٹس عظمت سعید سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہیں، کہتے ہیں سلمان اکرم راجہ مریم اور حسین نواز کے درمیان لکھی ٹرسٹ ڈیڈز نکالو،وکیل دفاع وہ ٹرسٹ ڈیڈ نکال لیتے ہیں تو جسٹس عظمت سعید کہتے ہیں ان دونوںکی ٹرسٹ ڈیڈ کا آخری دستخطی صفحات بظاہرٹمپرڈ اورجعلی ہیں،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بھی دونوں صفحات پر گڑ بڑ کی تصدیق فرانزک لیب سے کرائی،مسٹر سلمان اکرم راجہ ،آپ کے موکل نے یہ کیا کر دیا، جسٹس عظمت سعید پھر ریمارکس میں کہتے ہیں سلمان اکرم مجھے ایسے دستاویز ات آپ کے موکل کی جانب سے دینے پر دکھ ہوا،پتہ ہے عدالت کو جعلی دستاویز دینے پر کتنی سزا ہو سکتی ہے،عدالت میں بیٹھے ایک وکیل عدالت کے استفسار پر بتاتے ہیں کہ جعلی دستاویز پر ملزم کو سات سال سزا اور جرمانہ کیا جا تاہے۔
سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ عدالتی کاروائی کے یہ مناظر ے ذہن میں تازہ کیوں ہو گئے،آخر ان دونوں دستاویز کا اس خاص دن کی کارروائی سے کیا تعلق تھا ،ویسے میں بتا دیتا ہوں کہ میرے سامنے پڑے دونوں صفحات کا پنامہ کیس سے دور دور تک تعلق نہیں تھا، یہ دونوں کاغذ کے صفحے ایک نئی مبینہ جعلی سازی کی نشاندہی کی طرف اشارہ ضرور کر رہے تھے،دونوں صفحات جعلی ہیں یا نہیں اس حقیقت بارے خدا جانتا ہے یا پھر ان دستاویز کی ملکیت کا دعوی کرنے والا، لیکن یہ صفحے بظاہر بتا رہے تھے کہ ان میں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے،پنامہ کیس کی طرح یہ دستاویز بھی ایک مقدمہ میں بڑی مقبول شخصیت نے اپنے دفاع میں پیش کی تھی،وہ شخصیت عمران خان ہیں،جن کے خلاف نا اہلی کا مقدمہ پنامہ کی طرح سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،پنامہ لیکس میں عدالت شریف فیملی سے بار بار منی ٹریل،بنک ٹرانزیکشنز اور رسیدوں کا تقاضا کرتی رہی،عدالتی استفسارات پر کبھی قطری خطوط پیش ہوئے ،کبھی حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ،گو کہ ان دستاویز کی قانونی حیثیت پر عدالت عظمی نے کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا،بہرحال یہ دونوں دستاویزکے مصدقہ ہونے پر میڈیا،عدالت اور دیگر فورم پرسوالات ضرور اٹھائے گئے۔
خیر بات دوسری جانب نکل گئی،شریف فیملی کا معاملہ احتساب عدالت جا چکا ہے،وہ جانیں اور احتساب عدالت۔ بات ہو رہی تھی عمران خان کی جانب سے عدالت عظمی میں پیش کی گئی دو الگ الگ دستاویز کی،ان دو دستاویز ات میں ایک کے ذریعے عمران خان نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ انہوں نے لندن فلیٹ کی فروخت کے بعد اپنے اکاونٹنٹ کے اکاونٹ میں اڑتیس ہزار پاونڈز کی رقم منتقل کرنے کے لیے گیارہ اپریل 2003 کو ایک خط لکھا،یہ خط برطانیہ میں نجی بنک کے مینیجر کو لکھا جہاں ان کا اکاونٹ تھا،دوسری دستاویز میں عمران خان نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اٹھارہ اپریل 2003 کو انہوں نے نجی بنک برطانیہ کو خط کے ذریعے جمائمہ خان کے اکاونٹ میں پانچ لاکھ باسٹھ ہزارپاﺅنڈز کی رقم منتقل کرنے کی ہدایت دی۔ ان دونوں خطوط کا بریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بظاہر یہ لگتا ہے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے دونوں خطوط پر دستخط ایک دوسرے سے مماثلت نہیں رکھتے،دونوں دستخط بظاہر اتنے مختلف ہیں کہ ان کا فرانزک آڈٹ کرانے کی بھی بظاہرضرورت نہیں پڑے گی،مزید غور کیا جائے تو دونوں خطوط کے عنوان میں درج اکاونٹ نمبرز بھی مختلف ہیں،ایک خط پر اکاونٹ نمبر 8882550 ہے تو دوسرے خط پر اکاونٹ نمبر 882550 درج ہے،ایک خط پر پی او باکس نمبر 52 اور دوسرے پر 82 درج ہے،جب کہ دلچسپ بات یہ ہے دونوں خطوط کے لیے عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا لیٹر ہیڈ استعمال کیا ،جس سے یہ تاثر بھی لیا جا رہا ہے کہ عمران خان کینسر ہسپتال کی ڈونیشنز کا غلط استعمال کر رہے ہیں ،یہ دونوں خطوط جس روز عدالت میں چیف جسٹس ثاقبنثار کی سر براہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کیے گئے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا ہمیں خطوط نہیں بنک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ چاہیے،اس موقع پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت میں نشاندہی کی دونوں خطوط بظاہر خود ساختہ اور جعلی ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں دستاویزات پر عمران خان کے دستخط آپس میں ملتے نہیں ہے،وہ کہہ رہے تھے ایسے لگتا ہے ایک کاغذ پر دستخطزمین پر اور دوسرے کاغذ ہر دستخطمریخ پر کیے گئے،وہ مزید غلطیوں کی نشاندہی کرنا چاہتے تھے لیکن چیف جسٹس نے کہا اگر بنک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ آجائے تو یہ دونوں دستاویزات غیر متعلقہ ہوجائیں گے،پنامہ کیس بینچ کے معزز جج صاحبان کی طرح چیف جسٹس نے یہ نہیں کہا کہ مبینہ دستاویز پیش کرنے پر انہیں کوئی دلی دکھ ہوا،نہ ہی انہوں نے یہ استفسار کیا کہ مبینہ جعلی اور خود ساختہ دستاویز پیش کرنے پر قانون کتنی سزا تجویز کرتا ہے؟۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے