سلطانی مکالمہ

میں نے ایک خواب دیکھا، عجیب ہی خواب! کیا دیکھتا ہوں کہ مکالمے کی ایک میز سجی ہے اور اس پر تاریخ کے دو ممتاز فاتح بیٹھے میٹر آف نیشنل سیکیورٹی ڈسکس کر رہے ہیں۔ ایک اندلس کے ساحل پر کشتیاں جلانے والے طارق بن زیاد، دوسرے بیت المقدس فتح کرنے والے وہ سلطان صلاح الدین ایوبی جنہوں نے بیت المقدس میں انتقام نہ لے کر عیسائی دنیا کو ہمیشہ کے لئے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اور ثابت کیا کہ جب کمانڈر کی تلوار کی جگہ اس کا اخلاق بولتا ہے تو اس کے اثرات ایک ہزار سال بعد بھی اتنے ہی تر و تازہ ہوتے ہیں جتنے اپنے لمحہ ظہور میں۔ گفتگو شروع کرتے ہوئے طارق بن زیاد نے سلطان سے پوچھا
’’سلطان ! آپ نے بیت المقدس کو آزاد کرایا تھا، اتنا بڑا کارنامہ شاندار قسم کی’’ قومی سلامتی پالیسی‘‘ کے بغیر تو ممکن نہ تھا، آپ کی اس پالیسی کے خد وخال کیا تھے ؟‘‘
’’قومی سلامتی پالیسی ؟ وہ کیا ہوتی ہے ؟‘‘
’’حیرت ہے آپ قومی سلامتی پالیسی نہیں جانتے حالانکہ یہ تو آپ کے ظہور سے کچھ ہی عرصہ قبل یزید نے متعارف کرائی تھی اور اسی دمشق میں کرائی تھی جہاں بعد میں آپ بھی جلوہ افروز ہوئے !‘‘
’’میرے پیش نظر بیت المقدس کی آزادی کا مشن تھا اور اس کے لئے میں دن رات فوجی مشاغل میں مصروف رہا اس لئے سیاسی امور کی جانب زیادہ توجہ نہیں دے سکا، تم بتاؤ کیا ہوتی ہے قومی سلامتی پالیسی ؟‘‘
’’حضور ! آج کل تو یہ بہت اپڈیٹ ہوگئی ہے لیکن یزید کے دور میں یہ ون پوائنٹ ایجنڈے کے ساتھ پہلی بار سامنے آئی تھی اور وہ ون پوائنٹ یہ تھا کہ جس نہتے شہری پر شک بھی ہوجائے کہ وہ بالادستی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے تو اس کے پورے خاندان کو عبرت کی مثال بنادو !‘‘
’’یزید نے اس پر کوئی عمل بھی کیا یا صرف یہ سکیم متعارف کرائی ؟‘‘
’’ کمال ہیں ویسے آپ ! کہنے کو اتنے بڑے سلطان اور فاتح رہے ہیں لیکن جاتنے آپ کچھ بھی نہیں ! واقعہ کربلا تاریخ میں اس پالیسی کا پہلا اظہار ہی تو تھا، ایک پوری فیملی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے کر مٹادی گئی !‘‘
سلطان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور انہوں نے طارق بن زیاد کو گھورتے ہوئے کہا
’’دیکھو لڑکے ! اب تم کمال کر رہے ہو ! کیا حسین مٹ سکا ؟ کیا اس کی فیملی مٹ سکی ؟‘‘
’’اچھا تو جانتے آپ سب ہیں ویسے ہی انجان بن رہے تھے !‘‘
’’زیادہ نہیں جانتا بس تمہاری باتوں سے یاد آیا کہ میرے لشکر کے کونوں کھدروں میں سے بھی کبھی کبھار ’’لبیک یا حسین‘‘ کی آواز آتی تھی۔ اچھا تو تم بتا رہے تھے کہ آج کل یہ پالیسی بہت اپڈیٹ ہوگئی ہے، اس کی کوئی تفصیل ؟‘‘
’’مجھے زیادہ تفصیل نہیں معلوم، بس اتنا جانتا ہوں کہ اب یہ پالیسی دمشق سے راولپنڈی شفٹ ہوگئی ہے، کبھی کبھار پاکستانی سیاحوں کا کوئی گروپ فاتحہ خوانی کے لئے قبر پر آجائے تو ان کی آپس کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب اس میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں، پوری اور درست تفصیل شہاب الدین غوری کو معلوم ہوگی ان کی قبر راولپنڈی میں ہے‘‘
’’بلاؤ غوری کو !‘‘
’’سلطان معظم ! مانا کہ میں فوجی کمانڈر ہوں لیکن ہمارے وقت میں کمانڈروں کی یہ مجال کہاں تھی کہ وہ حکمرانوں کو طلب کر سکیں یا نکال سکیں ؟ آپ سلطان ہیں آپ ہی بلا سکتے ہیں‘‘
پھر میں نے خواب میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے مدعو کرنے پر سلطان شہاب الدین غوری کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا، وہ نشست سنبھال چکے تو بڑے سلطان نے چھوٹے سلطان سے پوچھا
’’یہ طارق کہہ رہا ہے کہ اب قومی سلامتی پالیسی بہت اپڈیٹ ہوگئی ہے، اس کی کوئی تفصیل ہے آپ کے پاس ؟‘‘
شہاب الدین غوری بولے
’’اصل میں واقعہ کربلا کے تیرہ سو سال بعد اس میں یہ فرق آگیا ہے کہ اب نشان عبرت سیاسی خاندانوں کو بنایا جاتا ہے، یزید نے تو عام شہری کے خاندان کو عبرت کی مثال بنانے کی کوشش کی تھی جبکہ ہماری قبروں کے باہر جو زمانہ اب گزر رہا ہے اس میں حکمران خاندانوں کو عبرت کی مثال بنایا جاتا ہے، ایک خاندان کو تو عبرت کی مثال بنا دیا گیا جبکہ دوسرے کی باری اب آئی ہے‘‘
’’ اچھا تو عام شہری کے لئے اب عام معافی ہے ؟‘‘
’’نہیں ! ان کے لئے کالے شیشوں والی بگھیاں ہیں، انہیں اس میں ڈال کر لے جاتے ہیں ، ڈرا دھمکا یا تھوڑی چھترول اور ٹنڈ کرا کر چھوڑ دیتے ہیں‘‘
’’اچھا یہ بتایئے کہ جس حکمران کے خاندان کو عبرت کی مثال بنایا جا چکا، وہ مٹ بھی چکا ؟‘‘
’’قطعا نہیں ! میرے تو کان پک گئے یہ سنتے سنتے کہ بھٹو آج بھی زندہ ہے !‘‘
سلطان صلاح الدین ایوبی کچھ دیر کے لئے گہری سوچ میں گئے اور پھر یکا یک ان کے چہرے پر حیرت کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے۔ انہوں نے بیتابی سے شہاب الدین غوری کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے ان سے پوچھا
’’قومی سلامتی پالیسی پر عملدر آمد اور اس کی حفاظت تو کوئی کل وقتی قسم کا کام لگ رہا ہے، پھر جہا د کون کر تا ہے ؟‘‘
شہاب الدین غوری کے چہرے پر طنزیہ سی مسکراہٹ آگئی، انہوں نے کہا
’’جہاد مولویوں کی عسکری تنظیمیں کرتی ہیں‘‘
طارق بن زیاد حیرت سے اچھل پڑے، بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا
’’پھر سپاہ کیا کرتی ہے ؟‘‘
غوری نے کہا
’’وہ دشمن کے بچوں کو پڑھاتی ہے ٹویٹ کرتی ہے‘‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے