ایک ملک دو بیانیے

ٓآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کے ڈومور کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے دنیا کو پیغام دیا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانیاں دی ہیں اس سے زیادہ کسی ملک نے نہیں دیں اور اب پاکستان کو نہیں بلکہ دنیا کو ڈو مور کا کرنا ہوگا، تاہم وفاقی وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کے دورہ امریکہ کے دوران سامنے آنے والے بیان میں گھر کو صاف کرنے کے سابقہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے نہ صرف حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کے لیے بوجھ قرار دیا دیا گیا ہے بلکہ دنیا کے ڈو مور کے مطالبے سے بھی اتفاق کیا گیا ہے، خواجہ آصف سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں موجود شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے وقت ملنا چاہیے، سیاسی و عسکری قیادت کے بیانات کے بعد ملک میں دو بیانیے سامنے آگئے ہیں کون سا درست ہے کون سا غلط یہ وقت ثابت کرے گا۔
خواجہ آصف کے بیان سے پاکستانی قوم متفق ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن اس بیان کے بعد مختلف فورمز اور عوامی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ایسا ملک جس نے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لاکھوں افراد کی قربانیاں دیں ، ملک میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سوات آپریشن، آپریشن ضرب عضب، آپر یشن ردالفساد شروع کیا اس کے باوجود بھی دنیا دہشت گردوں کی محفوظ پنا ہ گاہ ہونے کا الزام لگا رہی ہے اس کے وزیرخارجہ کو امریکہ میں کھڑے ہو کر ایسا بیان دینا چاہیے تھا یا نہیں؟ وزیرخارجہ کے اس بیا ن سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا ہے؟ کیا خواجہ آصف کا یہ بیان مودی سرکار اور امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے موقف کی تائید نہیں ہے؟ خواجہ آصف کو ایسا بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا یہ بیان نواز شریف کی نااہلی کے بعد ملکی اداروں کے بارے میں ان کے دل میں پیدا ہونے والی نفرت کا شاخسانہ ہے؟ کیا یہ بیان امریکہ اور بھارت کو نواز شریف کو نااہلی اور نیب ریفرنسز سے نکالنے کے لیے مداخلت کرنے کے لیے تو نہیں دیا گیا؟ حافظ سعید بوجھ لاہور الیکشن کے نتائج کے بعد ہی کیوں ہوئے؟ کیا مسلم لیگ (ن ) آئندہ انتخابات میں حافظ سعید کو پنجاب میں اپنے لیے خطر ہ سمجھ رہی ہے؟ کیا نواز شریف کے حق میں لابنگ کے لیے ہندوستان کو خوش کرنے کے لیے حافظ سعید کو بوجھ قرار دیا جا رہا؟ کیا مسلم لیگ (ن) قومی اداروں کی مخالفت میں اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ملکی سلامتی کو ہی چیلنج کرنا شروع کردیا ہے؟ کیا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دیں وہ کافی نہیں ہیں؟ کیا آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردلفساد سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع نہیں ہوئی؟ ایسے کئی سوالات اور بھی ہیں جو مجھ سمیت کروڑوں پاکستانیوں کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں کیوں کہ خواجہ آصف کے بیان میں مخصوص انداز میں ان عناصر کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ہندوستان کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں، خواجہ آصف کا یہ بیان پڑھ کرمیرا تو دل کر رہا ہے اگر ان سے کہیں ملاقات ہو تو انہیں ہندوستان کا وزیرخارجہ بننے کی مبارکباد دی جائے ۔
خارجہ امور کے ماہرین خواجہ آصف کے اس بیان کو انتہائی نامناسب قرار دے رہے ہیں جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خواجہ آصف نے یہ بیان امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے لیے دیا ہے کیوںکہ کسی بھی وزیر خارجہ کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ دنیا کے طاقتور ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادے سے اپنے تعلقات استوار کرے تاکہ مستقبل میں اپنے ملک میں سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے اور یہی وجہ ہے کہ مبینہ کرپشن پر عدالت عظمیٰ سے نااہل ہونے والے نواز شریف نے چار سالوں تک وزارت خارجہ اپنے پاس رکھی اور قومی مفادات سے زیادہ ذاتی تعلقات استوار کرنا انکی بھی ترجیح رہی ہے؟ جبکہ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ خواجہ آصف نے یہ بیان ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ قومی سلامتی کے اداروں کی مخالف میں اپنے رہنماء کی نااہلی کی خفت مٹانے کے لیے دیا ہے، ایک رائے یہ بھی ہے کہ ملک میں چار سال سے وزیر خارجہ نہ ہونے کا ملک کو اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا خواجہ آصف کے اس بیان کے بعد ہو ا ہے کیوں کہ یہ ایک سنگین بیان ہے جو ایک آزاد ریاست کے وزیر خارجہ کی جانب سے تھا اور ریاستی بیانیے کا درجہ بھی رکھتا ہے کیوں کہ اس سے ملتے جلتے بیان خواجہ آصف اس سے قبل بھی دے چکے ہیں جسیے ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت کا بیان ہے اور لندن میں بیٹھ کر ہی اپنے آپ کو وزیراعطم تسلیم کرنے سے انکار کر کے نواز شریف کو اصل وزیراعظم سمجھنے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرداخلہ احسن اقبال، خرم دستگیر، خواجہ سعد رفیق بھی انکی تائید کر چکے ہیں کہ اپنے گھر کو صاف کرنے سے متعلق خواجہ آصف کا بیان درست ہے، وزیراعظم اور وزارء کی تائید کے بعد وزیر خارجہ کا یہ بیان قومی بیانیہ ہی بن گیا ہے، تاہم سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان شروع دن سے اس بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں اور انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے ان جیسے لوگوں کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کسی دشمن اور بیرونی سازش کی ضرورت نہیں ہے جبکہ عمران خان سمیت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے خواجہ آصف کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس بیان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

جہاں تک وزیرخارجہ کی اپنے گھر کو صاف کرنے کی بات ہے تو ان کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنا چاہیے، گھر سب کا گھر ہوتا ہے اس میں خرابی کوئی بھی برادشت نہیں کرتا، اگر گھر میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو جائے یا کوئی بچہ خرابی و گندگی کا موجب بن رہا ہو تو اس کو گھر میں افہام و تفہم یا زور زبردستی سے حل کیا جاتا ہے، گھر میں موجود خرابی کے لیے محلے کی مسجد کے سپیکر پر اعلان کر کے دشمن کو آگاہ نہیں کیا جاتا کہ وہ موقع کا فائدہ اٹھا سکے، پاکستان کی ریاست ملک میں دہشت گردی کی ذمہ دار بھارت کو قرا ر دے رہی ہے اور جناب اپنے ملک میں ہی خرابیوں کا ڈھنڈورا پیٹ کر دشمن کو مزید کھلم کھلا کارروائی کا موقع فراہم کر رہے ہیں خواجہ آصف کے اس بیانیے کے بعد کون ساملک یہ مانے گا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش میں بھارت ملوث ہے، خواجہ صاحب گھر کی صفائی ضرور کریں اپنے گھر کا گند لوگوں کو دکھانے سے آپ کو کوئی شاباش نہیں دے گا بلکہ گند کا ذمہ دار آپ ہی کو قرار دیا جائے گا ۔

ملک میں سیاست اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کی جانب سے خواجہ آصف کے اس بیان کو قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ڈان لیکس سے بڑی سازش قرا ر دیا جا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایسا بیان دینے کا مقصد صرف یہی ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن امریکی موقف کی حامی ہے، حکومتی وزراء ایسے بیان دے کر قومی سلامتی کے اداروں پر دباﺅ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ نیب ریفرنسز میں ڈیل کرنے میں کوئی ادارہ رکاوٹ نہ بنے اور کلین چٹ لے کر دوبارہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اقتدار تک پہنچا جا سکے، خواجہ آصف کی باقی ساری باتیں ہضم ہو سکتی ہیں کیوں کہ ان کو ادارروں پر نواز شریف کو نااہلی سے نابچانے کا غصہ ہو گا لیکن حافظ سعید جس کو امریکہ ہندوستان کی ایما پر دہشت گرد قرار دے رہا ہے وہ آج اتنے عرصے بعد پاکستان پر بوجھ کیسے ہو گئے ہیں، کیوں کہ حافظ سعید کے بارے میں تو ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے ہیرو ہیں اور کشمیری قوم انہیں اپنا محسن سمجھتی ہے، جبکہ کشمیر کی سرحدوں پر پاکستانی فوج سے آگے بڑھ کر ملک کے دفاع کے لیے کردار ادا کرنے کے ساتھ ملک میں غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی انکا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، ہم نے تو ہر جگہ حافظ سعید کے لوگوں کو پایا ۔ ملک میں چاہے زلزلہ، سیلاب ہو یا ملک میں کہیں بھی کوئی آفت آئے وہ سب سے آگے نظر آئے ۔ آج اچانک حافظ سعید ملک پر بوجھ کیسے ہوگئے، کیا حافظ سعید کے بوجھ ہونے کی وجہ لاہور میں آزاد امیدوار کو ملنے والے ووٹ ہیں؟ مسلم لیگ (ن) ملی مسلم لیگ کو آئندہ انتخابات میں پنجاب میں اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگی ہے؟ کیا حافظ سعید کا قصور یہ ہے کہ اسلام اور دفاع پاکستان کی بات کرتے ہیں؟ کیوں کہ حافظ سعید سے مودی کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے