اجلاس میں ختم نبوت کی گونج

قو می اسمبلی کا اجلاس حسب معمول آدھے گھنٹے کی تاخیر سے  ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی کے زیر صدارت ہوا ۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اظہار خیال کرتے ہوئے الیکشن بل 2017 کی منظوری پر بحث کی ۔ انھوں نے دو نکات کی وضاحت کی، ایک عدالت سے سزا یافتہ شخص کے پارٹی سربراہ منتخب ہونے پر اور دوسرا ختم نبوت کے معاملے پر ۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جب
هم نے سینیٹ میں انتخابی اصلاحات بل پیش کیا تو پیپلز پارٹی نے مخالفت کی، اس وقت انهیں بتایاکه یه ترمیم خود ذوالفقار علی بھٹو نے 1975ء میں داخل کی، پی پی نے اس لئے مخالفت کی که کہیں میاں نواز شریف کو کوئی فائده نه مل جائے، وه تو الله تعالی نے مدد کی اور هم سینیٹ سے بل منظور کرانے میں کامیاب هوگئے _ وفاقی وزیر نے ایوان میں وضاحت کی کہ ختم نبوت کے حوالے سے کوئی ترمیم تو دور کی بات ترمیم کا سوچ بھی نهیں سکتے ۔ جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ انتخابی اصلاحات قانون کے تحت نئے کاغذات نامزدگی فارم میں اُوتھ کی جگہ ڈکلئیر کا لفظ لکھا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پہلے کی طرح فارم میں اوتھ کا لفظ شامل کیا جائے اس لئے کہ قانونی طور پر ڈکلیئر کے لفظ پر سزا نہیں دی جا سکتی جبکہ اوتھ اور ڈکلیئر دونوں لفظوں میں بہت فرق ہے۔ ختم نبوت بہت نازک معاملہ ہے یہ ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے ۔ اگرحکومت دوبارہ اس معاملے کا جائزہ لینا چاہے تو ہم تعاون کریں گے اور اوتھ کا لفظ شامل کیا جائے، احمدیوں سے متعلق 37 بی اور سات سی شامل کی جائے۔ ختم نبوت سے متعلق معاملے سے ملک بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔حکومت اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے ۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر اکرم خان درانی نے کہا کہ صاحبزادہ طارق اللہ کی بات بہت اہم ہے، اس معاملے پر دنیا بھر سے مجھے فون آ رہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان نے بھی مکہ سے فون کیا، اس معاملے پر پارٹی کی قانونی ٹیم کا اجلاس بھی بلا یا ہے ۔یہ انتہائی نازک معاملہ ہے ۔جہاں کوئی لفظ رہ گیا ہے تو اس معاملے کا فوری حل نکالا جائے۔ ختمِ نبوت کے معاملے پر کسی بھی سمجھوتے پر تیار نہیں۔ ساری پارلیمنٹ اس معاملے پر یکسو ہے ۔

تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس مسئلے کو سلجھایا جائے نا کہ الجھایا جائے. یہ اہم اور حساس معاملہ ہے، حکومتی رکن میاں عبدالمنان نے کہا کہ اگر حلف کے لفظ کو دوبارہ شامل کرنا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ تحریک انصاف کے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے.

ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ ایک منظم مهم چلائی گئی جس سے تشویش کی لهر پورے ملک میں دوڑ گئی ۔ختم نبوت کے حوالے سے کوئی سمجھوته اس ایوان میں نهیں کیا جائے گا ۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مذموم مهم چلائی گئی ۔ کچھ سیاسی قیادتیں اور کچھ اخبارات نے ابهام پیدا کیا ۔ ڈپٹی سپیکر کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحاتی بل پر 129 اجلاس ہوئے، ان اجلاسوں میں ساری جماعتوں کے نمائندے موجود رہے۔اگر کوئی ایسا لفظ قانون میں آگیا جو مناسب نہیں تو ترمیم لائی جا سکتی ہے، اس معاملے پر ساری پارلیمنٹ ایک پیج پر ہیں _

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم این اے ثمن جعفری نے کہا کہ گزشته چند روز سے ارکان پارلیمنٹ کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات کی فہرست وائرل ہے ۔یہ اس ایوان کے معزز ممبران کی توہین ہے۔یه سچ ہے یا جھوٹ ہے اس ایوان کو حقائق سے آگاه کیا جائے۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی مراد سعید نے کہاکہ وزیر خارجہ بهارتی بیانیہ کا اقرار کر رہے ہیں. اور ان کے بیانات پر تشویش پائی جارہی ہے ۔مراد سعید نے کہا کہ وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ نوازشریف کو بھارت سے تعلقات پر سزا دی گئی، نرنندر مودی کو آپ نے گھر بلایا اس کا ہمیں علم تھا۔

نسیمہ پانیزئی اور دیگر ارکان نے بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ،پشین ،کیچ،دالبندین اور خاران میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے پر توجہ دلاو نوٹس پیش کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے اس جدید دور میں بھی لوگ انٹر نیٹ سے محروم ہیں ۔لوگ انٹرنیٹ نہ ہونے سے تعلیمی اور ملازمتوں کی سہولت ا ور اطلاعات سے محروم ہیں ۔وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ2009 میں ان علاقوں میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انٹر نیٹ سروسز بند کی گئی تھی۔اب انٹرنیٹ سروسز کی بحالی پر غور کیا جارہا ہے۔پی ٹی اے کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں ۔اب بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہوچکی ہے۔ان علاقوں میں موبائل فون بھی کام کررہے ہیں ۔

ایم کیو ایم نے مفت اور لازمی تعلیم میں ترمیم کا نجی بل پیش ایوان میں پیش کر دیا کس پر طارق فضل چوهدری نے جواب دیا کہ مفت اور لازمی تعلیم اسلام آباد کے تمام سکولز و کالجز میں نافذ هے هم سرکاری سکولوں میں بچوں کو کتابیں اور یونیفارم مفت فراهم کر رہے ہیں ۔قوت سماعت اور نظر کا طبی معائنه کی تجویز کا خیر مقدم کرتے هیں، جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے معامله متعلقه قائمه کمیٹی کو بھجوا دیا_
دوران اجلاس اعجاز جاکھرانی نے ڈپٹی سپیکر کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ
اجلاس کی حالت دیکھ لیں ایوان میں کوئی نہیں.ہم پارلیمنٹ کی مضبوطی کی بات کرتے رہے ہیں.پرائیویٹ ممبر ڈے کی وجہ سے واک آوٹ نہیں کر رہے.جمشید دستی نے شکایت کی کہ کل کے اجلاس کے بعد ن لیگ کے لوگ مجھ پر حملہ آور ہوئے جن کی تعداد 20 سے زیادہ تھی آپ ہمارا گریبان پکڑ لیں، کوئی گلہ نہیں، مگر اس طرح گلو بٹوں کو بلایا جاتا ہے،
ان لوگوں کے پاس اسلحہ بھی ہوسکتا تھا،کل کوئی دہشتگرد بھی پارلیمنٹ میں داخل ہوسکتا ہے، اگر آئندہ ہم پر حملہ ہوا تو وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا گریبان پکڑیں گے ۔ڈپٹی سپیکر نے جمشید دستی کو جواب دیا کہ سپیکر نے ماضی کے واقعے پر سخت ایکشن لیا تھا، تمام ارکان ہمارے لئے برابر ہیں، کل کے واقعے کی کسی نے رپورٹ نہیں کی۔
پیپلز پارٹی کے نوید قمر اور ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے بھی جمشید دستی کا ساتھ دیا اور مطالبہ کیا کہ سپیکر پارلیمنٹ کی چاردیواری کے اندر ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں  _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے