ڈار کے خلاف پہلے گواہ نے کیا کہا؟

اسحاق ڈار بنام سرکار کی آواز سے اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کا آغاز ہوا۔ عدالت موجود مگر ملزم غیر حاضر، عدالت کچھ دیر کے لیے برخاست ہوئی، ملزم اسحاق ڈار تاخیر سے پہنچا، عدالت نے آئندہ وقت پر آنے کی تنبیہ کی، اور استغاثہ نے گواہ پیش کردیا، لاہور سے تعلق رکھنے والے استغاثہ کے گواہ نجی بنک کے اکاونٹس مینجر اشتیاق علی نے قسم اٹھائی جو کہوں کا سچ کہوں گا۔۔سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔اور اپنا بیان ریکارڈ کرانا شروع کردیا، گواہ نے بتایا سولہ اگست دوہزار سترہ کو نیب کا سمن موصول ہوا، اور تمام تر ریکارڈ کے ساتھ نیب میں پیش ہونے کی ہدایت کی، 28 اگست کو نیب کے روبرو پیش ہوکر تمام ریکارڈ فراہم کردیا، گواہ نے بتایا کہ 2001 میں اسحاق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحاق ڈار جو ایچ ڈی ایس سیکورٹی کمپنی کی سی او ہیں انکے نام پر بنک اکاونٹ کھولا گیا، جس پر عدالت نے پوچھا یہ تمام دستاویزات کس نے تیار کی تھیں، تو جواب ملا آفس کے کمپیوٹر پر تیار ہوئی تھیں۔ پھر استفسار ہوا کہ ہاتھ کی لکھی دستاویزات تو نہیں جواب نفی میں ملا، اشتیاق علی نے بتایا نیب کو اکاونٹ کھلوانے کی تصدیق شدہ دستاویزات فراہم کردی تھیں، جبکہ 16 اپریل 2003 میں ایچ ڈی ایس کمپنی کے ڈائریکٹر نعیم محبوب نے کمپنی کا پتہ تبدیل کرنے کے لیے خط لکھا، اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے کہا گواہ کا بیان ریکارڈ کریں وہ ایک بار ہی بات کریں گے، تاہم وکیل دفاع خواجہ حارث نے دستاویزات کے غیرتصدیق شدہ ہونے پر اعتراض اٹھایا جس پر نیب پراسیکوٹر عمران شفیق نے جواب دیا کسٹمر اسٹیٹمنٹ کی تصدیق شدہ کاپی لگائی گئی ہے، خواجہ حارث نے اعتراض کیا کہ یہ دستاویزات تو گواہ نے تیار ہی نہیں کیں، تو نیب پراسیکوٹر بھی بولے تمام سیل شدہ دستاویزات تفتیشی افسر کے پاس موجو د ہیں، گواہ نے بیان کو آگے بڑھایا 29 اگست کو دوبارہ نیب میں پیش ہوکر اسحاق ڈار اور انکے خاندان کے بنک اکاونٹس کی تفصیلات فراہم کردی تھیں، یہ دستاویزات بنک ہیڈکوارٹر نے نیب کے حوالے کرنے کو کہا تھا،گواہ نے اپنا بیان اس بات پر ختم کیا الفلاح بنک میں اسحاق ڈار کا ذاتی اکاونٹ بھی موجود ہے، بیان ریکارڈ ہوا تو وزیرخزانہ کے وکیل اسحاق ڈار نے جرح کرنا شروع کی، پہلا سوال داغتے ہوئے پوچھا نیب کا وہ خط جو اکاونٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے لکھا گیا تھا کیا اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہے، گواہ نے جواب ہاں میں دیا، خواجہ حارث بولے وہ خط تو براہ راست آپکو لکھا ہی نہیں گیا، گواہ نے پراسیکوٹر کی جانب دیکھا تو وکیل دفاع نے ایک اور سوال کردیا کہ خطوط کی اصل کاپی موجود ہے، تو جواب ملا خطوط کی نقول موجود ہے، وکیل نے پھر کہا خط میں تو اسحاق ڈار کے نام پر بنک اکاونٹس کی تفصیلات مانگی گئی تھیں ایچ ڈی ایس کمپنی کی تو تفصیلات مانگی ہی نہیں گئیں پھر آپ نے کیوں فراہم کردی، تھوڑا گھبرائے گواہ نے جواب دیا جی آپ نے درست کہا کمپنی کی تفصیلات نہیں مانگی گئیں، وکیل نے اگلا وار کرتے ہوئے کہا خطوط کی فوٹو کاپی پر جرح کی ضرورت ہی نہیں، جس پر نیب پراسیکوٹر معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بولے یہ خطوط توملزم کے کہنے پر پیش کیے گئے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے کہا ایسی باتوں سے آپکو نقصان ہوگا، وکیل نے پھر دستاویزات گواہ کو دکھاتے ہوئے پوچھا کیا یہی دستاویزات نیب میں لیکر گئے تھے کیا یہاں بھی لیکر آئے ہیں، اپنی پٹاری دیکھیں شاید مل جائیں، تو گواہ نے جواب دیا نیب کے تفتیشی افسر کو تصدیق شدہ کاپی فراہم کی اصل دستاویز نہیں ،اصل دستاویزات عدالت کو فراہم کردوں گا، خواجہ حارث نے پوچھا کیا تصدیق شدہ کاپی اس اکاونٹ کی تفصیلات کو سکین کرکے بنائی گئی، جواب ملا میری موجودگی میں سکین کرکے تصدیق شدہ کاپی تیار کی گئی، کیا تصدیق شدہ کاپی تیار ہونے کے بعد کوئی ٹمپرنگ تو نہیں کی گئی، گواہ نے جواب میں نفی میں دیا، استغاثہ نے جب کہا تصدیق شدہ کاپی کو میں نے تصدیق نہیں کیا تو وکیل نے فاتحانہ انداز میں کندھے اوپر اٹھائے اور جج سے کہا سر نوٹ کرلیجیے، بات یہاں پہنچی تو وکیل دفاع نے اگلا وار کیا، اور گواہ نے کہا 2001 میں تیار کی گئی دستاویزات نہ تو خود تیار کیں نہ ہی وہ اس وقت موجود تھا، خواجہ حارث نے پوچھا کیا یہ درست ہے کہ جس نے یہ تصدیق کہ اس کا نام، تاریخ اور عہدہ ہی درج نہیں، تو گواہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا درست ہے، گواہ کو پھر گھما کر سکین کرنے کے معاملے پر لایا گیا تو گواہ نے بول دیا اسے یہ بھی علم نہیں کہ یہ دستاویزات سکین کس نے کیے، تو گواہ نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا اس کا بھی علم نہیں، خواجہ حارث نے کہا یہ تو کہہ رہے ہیں سب کچھ سسٹم نے تیار کیے، مگر میں بتاوں کا یہ سسٹم نے تیار کیے یا نہیں، خواجہ حارث نے اپنی جرح مکمل کی تو کہا استغاثہ کا پہلا گواہ غیر متعلقہ ہے، گواہ کا اثاثہ جات ریفرنس سے براہ راست تعلق نہیں، گواہ نے نہ تو خود ریکارڈ تیار کیا نہ ہی اس کی موجودگی میں تیار کیا گیا، بنک دستاویزات اشتیاق علی کے پاس کبھی رہی ہی نہیں، دستاویزات 2011 سے 2006 کی ہیں مگر گواہ خود 2005 میں بنک کیساتھ وابستہ ہوا، اکاونٹ 2006 میں بند ہوا نیب نے 2011 کی آخری ٹرانزیکشن اسٹیٹمنٹ لگادی ہے،

عدالت کے جج  نے وزراء کے داخلے پر پابندی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے سماعت بارہ اکتوبر تک ملتوی کردی، کہا عدالت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا، عدالت بھی چاہتی ہے میڈیا موجود ہو تاکہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ ہو، اور استغاثہ کے دوگواہوں طارق جاوید اور شاہد عزیز کو طلب کرلیا، وکیل دفاع نے پہلے گواہ کو غیر متعلقہ ثابت کرنے کی کوشش کی، تاہم حتمی فیصلہ عدالت کرے گی، کون متعلقہ۔۔کون غیر متعلقہ!

متعلقہ مضامین