کالا دھن اور ترین کی زرعی آمدن

عدالت عظمی میں پارلیمنٹرین میں سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے جہانگیر ترین کو نااہلی کے مقدمے میں سوالات کا سامنا ہے، نواز شریف ، عمران خان کے بعد جہانگیر ترین احتساب کی لانڈری میں کھڑے ہیں ، تیسرے روز کی عدالتی کارروائی کے آغاز میں ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کالا دھن سفید کرنے کا میزائل داغ دیا ، انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین نے ٹیکس حکام کو زرعی آمدن زیادہ بتائی، دوسری جانب الیکشن کمیشن کو انتخابی گوشواروں میں زرعی آمدن کم بتائی، کہیں ایسا تو نہیں زرعی آمدن زیادہ بتا کر کالے دھن کو سفید کیا گیا ہو ، ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے جب انتخابی گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے ان کے ساتھ ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ بھی لگایا گیا ، جہانگیر ترین نے الیکشن کمیشن کو اپنی ذاتی زرعی اراضی کی آمدن بتائی،ٹیکس حکام کو ذاتی کے ساتھ لیز زمین کی آمدن بھی بتائی، جسٹس عمر عطاء نے موقع کی مناسبت سے سوال کیا کہ جہانگیر ترین نے زرعی آمدن ڈیڑھ  ارب روپے ظاہر کی،ان کے پاس اٹھارہ ہزار ایکڑ زمین لیز پر تھی،ہمیں ان مالکان کو ادائیگیوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے جن سے زمین لیز پر لی گئی، وکیل نے کہا عدالت چاہے تو مالکان کو ادائیگیوں کا ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھ دیں گے ،چیف جسٹس نے کہا کس زرعی زمین پر کونسی فصل کاشت ہوئی، زمین کا مالک کون ہے، لیز زمین پر کاشت کاری کون کر رہا ہے،یہ تمام ریکارڈ خسرا گرداوری اور جمع بندی میں محفوظ کیا جا تا ہے ،وہ ریکارڈ دکھا دیں،اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل انور منصور کی طبعیت کمرہ عدالت میں ناساز ہوگئی،انہیں فوری پر سپریم کورٹ ڈسپنسری میں ابتدائی طبی امداد دی گئی،

سکندر بشیر مہمند نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ٹیکس حکام نے جہانگیر ترین کے گوشواروں میں زرعی آمدن میں تضاد پر گزشتہ سال نوٹس لے کر شو کاز نوٹس جاری کیا، ٹیکس حکام نے دو ہزار دس کی زرعی آمدن سے متعلق جہانگیر ترین کی وضاحت کو درست تسلیم کیا،بعد ازاں اپیلیٹ اتھارٹی نے ماتحت فورم کی فائینڈنگ کو کالعدم قرار دیکر جہانگیر ترین کو دوبارہ شوکاز نوٹس جاری کیا، جس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا،انہوں نے مزید کہا سال دو ہزار گیارہ کی زرعی آمدن کے معاملے  پر ٹیکس حکام نے جہانگیر ترین کے خلاف فیصلہ دیا ، اس وقت دونوں مقدمات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ لیول پر زیر التواء ہیں،جب تک عدالت سے جہانگیر ترین کے خلاف کوئی ڈکلریشن نہ آجائے ،ان کے خلاف نااہلی کی درخواست دائر نہیں ہو سکتی، چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے مقدمہ میں تحقیقات کرانے کا اختیار رکھتی ہیں، کسی انتخابی گوشواروں میں غلط بیانی ہے تو اس کی تحقیقات کرائی جا سکتی ہے، پنامہ مقدمہ میں بھی عدالت نے تحقیقات کرائیں، وکیل نے کہا جہانگیر ترین کا مقدمہ پنامہ سے بہت مخلتف ہے،ان کے موکل سب پارلیمنٹرین سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں،پنامہ کا مقدمہ نواز شریف کا تھا جو چھتیس سال عوامی عہدوں پر رہے،جہانگیر ترین صرف تین سال کے لیے وفاقی وزیر رہے، ان کے موکل واحد شخصیت ہے جس نے صوبائی زرعی ٹیکس اداکیا،چیف جسٹس نے کہا اگر ریکارڈ سے ثابت نہ ہو کہ زمین لیز پر لی گئی تھی تو ایسی صورت میں موقف کیا ہو گا، زمین لیز اور اسکی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ پیش کریں،جسٹس عمر عطاء بندیا ل نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین پر کالا دھن سفید کرنے کا الزام ہے، ٹیکس ادا کرنے والوں کو تحفظ ملنا چاہیے، معمولی غلطی پر ٹیکس ادا کرنے والوں کو سپریم کورٹ سزا دے گی تو داد رسی کے لیے وہ کہاں جائیں گے،ٹیکس چور ملک میں آزاد گھوم رہے ہیں،انہیں بیرون ملک سے رقوم تحفے میں بھی مل جاتی ہیں،ملک میں اکثریت ٹیکس نہیں دیتی،چیف جسٹس نے اس موقع پر فاضل جج کے ریمارکس کے جواب میں کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے،ٹیکس اور انتخابی گوشواروں میں فرق کو تسلیم کیا گیا ہے، جسٹس فیصل عرب نے بھی موقع کی مناسبت سے کہا کہ وہ جہانگیر ترین کا نام نہیں لیں گے لیکن عام طور پر ایسا ہوتا کہ زرعی آمدن زیادہ بتا کر ناجائز آمدن کو قانونی کیا جا تا ہے، جہانگیر ترین نے بھی زرعی آمدن بہت زیادہ بتائی جس سے شکوک و شہبات پیدا ہوتے ہیں، عام طور پر لوگ کالے دھن کی آمدن کو بعد ازاں کسی طریقے سے قانونی شکل دے دیتے ہیں، جہانگیر ترین بھی تین سال وفاقی وزیر رہ چکے ہیں،

مقدمہ کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے