نئے دور کا آغاز

کسی وفا شعار زوجہ کی طرح سالہا سال صرف امریکہ سے چپکی سعودی مملکت بالآخر بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں آشنا کے ساتھ نظر آ رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی اس دنیا میں جو صرف نکاح پر قناعت کر جائے وہ خسارے میں رہتا ہے۔ یہاں نکاح کے ساتھ کھلے ڈلے اور ڈھکے چھپے معاشقے لازم ہیں ورنہ بھاری نقصان اٹھانا پڑ جاتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ امریکہ نے اپنی اس وفا شعار زوجہ کو عیاشی کے ایسے راستے پر ڈالا کہ اس کا تیل بھی لوٹتا رہا اور آمدنی کا جو حصہ اس زوجہ کو ملتا وہ بھی امریکی بینکوں کو میں رکھوا لیتا تاکہ امریکی معیشت کو روشنیاں جگمگاتی رہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکہ نے اپنی اس وفا شعار زوجہ کی اولاد کو بھی عیاشی کے ایسے راستے پر ڈالا کہ لاس ویگاس کے جوا خانے انہی کے دم سے آباد رہے۔ ستر سال تک رج کر عیش و عشرت کرنے والی اس زوجہ کا حال اب یہ ہے کہ سینے پر دو ہتڑ مار مار کر کہتی ہے ’’ہائے میں لٹ گئی !‘‘ یہ حال اس کا اس لئے ہوا ہے کہ تیل کی قیمتیں اب اس کے کنٹرول میں نہیں رہیں، تیل ختم بھی ہوتا جا رہا ہے اور اس ملک کی تیل کے بعد آب زمزم اور کھجور کے سوا کوئی پیداوار نہیں۔ صنعت کس چڑیا کا نام ہے اور اس کا ریاست کی معیشت میں کیا کردار ہوتا ہے ؟ یہ کبھی اس وفا شعار زوجہ نے سوچا نہیں۔ زراعت کیا ہوتی ہے اور ممالک کے لئے اس کی اہمیت کیا ہوتی ہے ؟ یہ سوچنے کا تکلف بھی اس زوجہ نے کبھی گوارا نہیں کیا۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کا قومی ترقی میں کیا کردار ہوتا ہے ؟ اس جانب بھی اس وفا شعار زوجہ نے کبھی توجہ نہیں دی۔ اس کے نزدیک خدا کے بعد سب سے بڑا مشکل کشا ’’ریال‘‘ تھا۔ سو جب یہ مشکل کشا وافر مقدار میں میسر تو صنعت، زراعت اور تعلیم کی کیا ضرورت ؟ ریال پر ایمان و یقین کا یہ حال رہا کہ سعودی عرب کی پینتیس فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے ۔ یہ سب کے سب وہ ملازمین ہیں جو اس وفا شعار بیگم کی اولاد نے ڈرائیونگ، کوکنگ اور نہ جانے کن کن مقاصد کے لئے رکھے ہیں۔ لیکن عیش و عشرت تا بکے ؟ معیشت کو جھٹکا لگا ہے تو یہ عیاش زوجہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ہے اور لگی ہے تدارک کرنے۔ اگر وقت پر کھلا ڈلا نہ بھی سہی ایک آدھ ڈھکا چھپا معاشقہ ہی کر رکھا ہوتا تو کئی نسلیں تو ضائع نہ ہوتیں مگر خیر دیر آید درست آید۔
جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو سعودی کنگ شاہ سلمان ماسکو کے چار روزہ تاریخی دورے پر ہیں۔ یہ دورہ اس وقت تو محض اس لئے تاریخی ہے کہ کنگ سلمان سے قبل کسی سعودی بادشاہ کو ماسکو کے دورے کی توفیق نہیں ہوئی۔ چونکہ تاریخ میں پہلی بار کوئی سعودی بادشاہ روس میں ہیں سو یہ اس کی تاریخی اہمیت ہے۔ کیا وہ اس دورے کو ’’تاریخ ساز‘‘ بھی بنا سکیں گے ؟ اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہنا ابھی ممکن نہیں لیکن عالم امکان میں اچھی امیدیں بہر حال موجود ہیں۔ ان امیدوں میں اہم کردار اس بات کا ہے کہ کنگ سلمان پہلے سعودی کنگ ہیں جو روز اول سے کچھ وژنری نظر آ رہے ہیں۔ مثلا وہ پہلے کنگ ہیں جنہوں نے شاہی خاندان کے پاس اختیارات کا ارتکاز ختم کیا ہے۔ وزارت خارجہ جیسی اہم پوسٹ شاہی خاندان سے باہر دینا غیر معمولی اقدام تھا۔ ان کا دوسرا اہم ترین قدم الحمدللہ، سبحان اللہ اور ماشاء اللہ ٹائپ بوڑھے شہزادوں کو کھڈے لائن لگا کر نئی نسل کو آگے لانا ہے۔ انہوں نے جہاں یمن اور قطر جیسے بلنڈرز کئے وہیں ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے حالیہ چند ماہ میں بہت ہی اہم پیش رفت کرکے بھی سب کو حیران کیا ہے۔ اس ضمن میں جہاں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی اور مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کو سعودی دورے پر مدعو کرنا بے حد اہمیت رکھتا ہے وہیں تاریخ میں پہلی بار ایرانی عازمین حج کو ان کی مذہبی رسومات کی اجازت دینا غیر معمولی قدم تھا جس پر ایران نے مثبت ردعمل بھی دیا۔
اسی پس منظر میں اگر کنگ سلمان کے دورہ ماسکو کو دیکھا جائے تو جہاں ان کی آؤٹ آف دی بکس دیکھنے کی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے وہیں وہ ایک لچکدار سعودی بادشاہ کے طور پر بھی نظر آتے ہیں اور یہ وہ خاصیت ہے جو ان کے کسی بھی پیش رو میں نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس دورے کی بے پناہ اہمیت ہے کیونکہ جہاں ایک طرف یہ تیل کی قیمتوں میں استحکام کی جانب بڑی پیش رفت کا امکان رکھتا ہے وہیں مشرق وسطیٰ میں یہ روس کو بڑی انٹری فراہم کرے گا۔ روس کے عرب دنیا سے تعلقات ہمیشہ محدود نوعیت کے رہے ہیں۔ شیعہ ممالک سے اس کے تعلقات سرد جنگ کے دور میں بھی رہے لیکن مغربی بلاک سے وابستہ ممالک سے یہ تعلقات دشمنی پر مبنی رہے اور اس دشمنی کا اندازہ اس افغان جنگ سے لگایا جا سکتا ہے جس کا نصف خرچہ سعودی عرب نے ہی اٹھایا تھا اور جس کے نتیجے میں سوویت یونین بکھر کر رہ گیا۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی مشرق وسطیٰ پالیسی نے اس خطے کو سنگین خطرات سے دوچار کیا جس کے نتیجے میں لیبیا اور شام پر قیامت گزرگئی جبکہ حاصل امریکہ کو صرف یہ ہوا کہ وفا شعار زوجہ بھی بدک گئی۔ آج امریکہ میں ایک مسخرا کرسی صدارت پر بیٹھا ٹویٹر کے کرتب دکھا رہا ہے تو یہی روس کے لئے سعودی مدد سے مشرق وسطیٰ میں قدم جمانے کا موزوں ترین موقع ہے۔ اس دورے کی تجارتی و صنعتی اہمیت بھی ہے جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کنگ سلمان اپنے ساتھ سعودی سرمایہ کاروں کا بہت بڑا ڈیلی گیشن بھی لے کر گئے ہیں جبکہ وہ سعودی فوج کے لئے ٹینکوں، لڑاکا ہیلی کاپٹروں اور سب سے اہم ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری کا ایجنڈا بھی رکھتے ہیں۔ لیکن اس دورے کی سب سے زیادہ اہمیت اسی حوالے سے ہے کہ اگر روس نے موقع ضائع نہ کیا اور کنگ سلمان بھی آگے چل کر غیر متزلزل ہی رہے تو یہ دورہ مستقبل کے لئے ایک نئے مشرق وسطیٰ کے امکانات رکھتا ہے۔ ایک ایسا مشرق وسطیٰ جہاں ایران اور سعودی عرب دشمن نہیں دوست ممالک کے طور پر نظر آسکتے ہیں۔ اس دورے کو پاکستان اور ترکی کے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بڑی توانا امید پیدا ہوتی ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی بیک وقت روس کے ساتھ قائم ہونے والی یہ قربت اس خطے میں نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے !

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے