جمہوریت کے طوطے

سول ملٹری تعلقات کی بحث فضولیات کی تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ ریاست کے خود ساختہ نمائندے اپنی نافرمانی اور باغیانہ طرز عمل کو اب قانون اور آئین کا لبادہ بھی پہنانا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف خود کو عوام کا نمائندہ کہنے والی حکومت اپنی جمہوریت کا وضو ٹوٹنے یا برقرار ہونے کی تصدیق کے لئے فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنسوں کا انتظار اور پھر ان کی مثبت تشریح کرنے میں جتی رہتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ہر پریس کانفرنس کے بعد کچھ سیاسی ٹاوٹ فوجی ترجمان کی خاموشی کو حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایک فرمانبردار "فرزند” کی مانند یہ سیاستدان نما ٹاوٹ اپنے سیاسی آقاوں کے بوٹوں کی چمک و چال کے علاوہ انکے ہاتھوں، کانوں اور نظروں کی جنبش پر مسلسل عقیدت کی نگاہ رکھتے ہیں۔ مگر اقتدار بے اختیار کے حامل اکابرین کی جانب سے بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ جنرل صاحب نے اعلان کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ مارشل لاء کی بات بھی نہیں کرنی چاہیے۔
ریٹائرڈ جرنیل تجزیہ کار بن کر یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ عسکری قیادت پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی جتنی حامی ہے اتنی حامی تو سیاسی قیادت بھی نہیں۔ انکی طرف سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر سویلین بالادستی کی مثالیں لائی جاتی ہیں جیسا کہ آئین و قوانین میں جو ترامیم پارلیمنٹ نے کی انکو فوج نے نہیں روکا، سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع میں تاخیر پر رینجرز نے انتظار کیا اور دوسرے بڑے مالیاتی فیصلے وغیرہ۔ سویلین بالادستی ثابت کرنے کیلئے ایسے دفاعی تجزیوں پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے مگر دماغ کہتا ہے کہ "یس سر۔۔۔یس سر” کہہ کر ان تجزیوں کی کڑوی گولی نگلنے میں ہی عافیت ہے۔ ایسے تجزیہ کاروں کی زبان سمجھنا ہم جیسوں کی تو مجبوری ہے اور اگر یہ خاموش رہیں تو ان کی خاموشی کی زبان بھی سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہمار ا قومی فریضہ ہے۔
اس خاموشی کی زبان کا ایڈوانس کورس نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ملک کے دانشوروں، صحافیوں، بیوروکریٹوں، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو ان سے فیس لے کر باقاعدگی سے پڑھایا جاتا ہے۔ یہ ایسے تربیتی کورسوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم فوجی ترجمان کی خاموشی کی زبان سمجھنے کے قابل ہوئے ہیں اور شاید جتنی مو¿ثر فوجی ترجمان کی خاموشی کی زبان ہے اتنی مو¿ثر انکی ایک گھنٹے سے زائد کی آوازوں والی پریس کانفرنس بھی نہیں ہوتی۔اب دیکھیں نہ ہماری ائیر فورس اور پاک بحریہ میں تو کور کمانڈر پہلے ہی نہیں ہوتے اب لے دے کہ پاک فوج کے کور کمانڈر جب سات گھنٹے کا خصوصی اجلاس کریں اور اسکے بارے میں نہ تو ملک کے وزیر دفاع اور نہ ہی "سویلین بالادستی” کے نشان وزیراعظم کو کچھ بتایا جائے تو پھر قصور خاموش رہنے والوں کا نہیں، خاموشی کی زبان نہ سمجھنے والوں کا ہی ٹھہرتا ہے۔
اب اگر ملک کا وزیراعظم ، وزیردفاع،پارلیمنٹ اور عدلیہ میں سے کوئی خاموشی کی زبان نہیں سمجھتا تو اس میں فوجی ترجمان کا کیا قصور ،یہ اور بات ہے کہ فوج جیسے ادارے میں محاذِجنگ پر "Loud and Clear” یعنی "بلند آواز اور واضح”احکامات دینا لازمی ہوتے ہیں۔مگر شاید عسکری محاذ اور سیاسی محاذ میں یہی فرق ہوتا ہے۔ویسے بھی ہم سفارتی محاذ پر کئی بار یہ جملہ دہرا چکے ہیں کہ "ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے”۔ اورجب کچھ لوگ اور ادارے خاموشی سے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہوتے ہیں تو انہیں بات کرنے کی کیا ضرورت ہے۔تو جناب بات ہو رہی ہے اس منافقت اور بزدلی کی جسکا مظاہرہ ہماری قیادت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپانے کیلئے بڑی ڈھٹائی سے کر رہی ہے۔ یہ سفید جھوٹ ہے کہ ملک میں سویلین بالادستی ہے۔یہ سفید جھوٹ ہے کہ دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں ہمارے تمام ادارے ایک دوسرے سے مکمل رابطے میں ہیں۔
حقیقت بڑی تلخ ہے جسکو چھپانے سے تکلیف تو کم ہو سکتی ہے مگر مرض کا علاج نہیں۔ سویلین بالادستی ہوتی تو جنرل مشرف لندن میں محو رقص نہ ہوتا اور نہ ہی ایبٹ آباد ،حامد میر اور حیات اللہ خان کمیشن رپورٹیں حکومتی الماریوں میں دھول چاٹ رہی ہوتیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج تک جو ایک اور سفید جھوٹ قوم سے بولا گیا وہ جنرل مشرف جیسے فوجی آمروں کو تنہا کرنے واسطے یہ بیانیہ تھا کہ اسکے اقدامات فرد واحد کے اقدامات تھے۔ 1988 میں اسی بیانیے کے ساتھ مصلحت کا دوپٹہ اوڑھے بینظیر بھٹو کی حکومت نے جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت ادا کیا جس کے بعد تاریخ گواہ ہے کہ 1990 کے انتخابات میں اس شخص نے جنرل ریٹائرڈ اسد درانی سے مل کر آئی جے آئی بنائی اور انتہائی بے شرمی سے اس کا اقرار بھی کیا۔ کب تک ہم ایسے قومی مجرموں کو ان کے اداروں سے علیحدہ کر کے اس حقیقت سے نظریں چراتے رہیں گے کہ ان فوجی آمروں کی نظریاتی اساس و باقیات ہمارے قومی سلامتی کے اداروں میں اندر تک سرایت کر چکی ہیں۔ ہماری قیادت کی اس تلخ حقیقت سے نظریں چرانے کی پالیسی نے آج ہمیں اس حال میں پہنچا دیا ہے۔اگر جنرل ضیا الحق ایک فرد واحد ملزم ہوتے تو ان کے جنرل بیگ جیسے وارث اگلے دس سال کے نام نہاد جمہوری عمل کے ساتھ وہ کھلواڑ نہ کرتے جس کا تماشہ ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔
1990 کے سازشوں کے تانے بانے آج بھی ٹوٹے نہیں۔ لفظ نظریے کی توہین،نظریہ ضرورت آج بھی کارفرما ہے۔ پہلے فوجی گملوں میں قیادت کی پرورش کی جاتی ہے جو آج بھی جاری ہے اور پھر ان ہی پودوں کو اکھاڑ باہر کیا جاتا ہے۔ آصف زرداری اور نواز شریف کی تصاویر کی آڑ میں آئین ،جمہوریت اور جواب طلبی کے اس نظام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں فوجی آمروں کی باقیات کو جواب دہ بنایا جا سکتا۔ ایک گھناو¿نی سازش کے تحت آئین میں درج لفظ ” حکومت”پر لفظ "ریاست” کو ترجیح دےکر ایک خود ساختہ متوازی نظام کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔ بیان آئین اور اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا دیا جا رہا ہے اور ترویج ریاست نامی پر اسرار قوت کی آئین اور اور پارلیمنٹ پر بالادستی کے بیانیے کی کی جا رہی ہے۔ ہماری سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ جب تک قومی سلامتی کے اداروں میں ان ماورائے آئین رجحانات کی بیخ کنی کیلئے جرات مندانہ اور ٹھوس اقدامات نہیں کریگی اس وقت تک ہمارا حال اس فلاسفر شکاری سے مختلف نہیں ہو گا جس نے جنگل کے طوطوں کو ماحول کی رونق سمجھتے ہوئے غیرقانونی شکاریوں سے بچنے کیلئے تربیت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ درجنوں طوطوں کو پکڑ کر کئی ہفتے ایک ہی سبق پڑھایا گیا جو یہ تھا کہ۔۔۔”ہم شکاری کی پھرکی پر نہیں بیٹھیں گے اور اگر بیٹھ بھی گئے تو پھر سے اڑ جائیں گے”۔ (پھرکی شکاری کا پرانہ آلہ تھا جس پر بیٹھتے ہی پھرکی گھومتی اور طوطا گھبرا کر اسے مضبوطی سے دبوچ لیتا اور الٹا لٹکنے کے بعد ڈر کے مارے اسے چھوڑتا ہی نہ تھا)۔
اب جناب کافی ہفتے کا سبق رٹانے کے بعد شکاری نے اپنے تربیت یافتہ طوطوں کو جنگل میں آزاد کر دیا۔ کچھ دنوں بعد اس کو جنگل سے اس کے تربیت یافتہ طوطوں کی وہی سبق دہراتے آوازیں آنا شروع ہوئیں وہ بہت خوش ہوا اور آوازوں کی جانب چل پڑا۔ ایک جگہ پہنچ دیکھا کہ اس کے طوطے شکاری کی پھرکیوں پر الٹا لٹکے اسکا سبق دہرا رہے تھے۔۔۔”ہم شکاری کی پھرکیوں پر نہیں بیٹھیں گے اور بیٹھیں گے تو پھر سے اڑ جائیں گے”۔شکاری نے اپنا سر پکڑ لیا۔ ہمارا آئین اور قانون بھی فلاسفر کا وہ سبق ہے جو ہم بطور قوم ” شکاری” کی پھرکی پر الٹا لٹکے دہراتے رہتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اقتدار بے اختیار کی پھرکی سے اپنے پنجے آزاد کر لیں۔ یقین مانیں کہ طوطے کبھی کمر کے بل نہیں گرتے۔ اب کی بار کا الیکشن مینڈیٹ اس سوال کے ساتھ ہونا چاہیے کہ حکومت عوام کی ہو گی یا خفیہ ہاتھوں کی جنہوں نے قومی اداروں سیاسی قیادت کو بلیک میل کرنے اور انہیں یرغمال بنانے کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
آج کل کے دور میں مارشل لاءکا اعلان نہیں کیا جاتا ، حالیہ واقعات کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مارشل لاءآ نہیں رہا مارشل لاء آ چکا ہے۔ اب اس کو صرف کسی جونیجو، شوکت عزیز یا معین قریشی کی تلاش ہے۔ ایسے میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ آج کا نواز شریف اور اس کا خاندان ماضی کا بھٹو اور اس کا خاندان ہے اور آج کا عمران خان ماضی کا نواز شریف بننے کیلئے تیار۔ باقی سب باتیں اور بیانات الٹے لٹکے طوطوں کے سبق سے مختلف نہیں۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو اور ہمیں سچ بولنے ، سننے اور اس پر عمل کرنے کی ہمت و جرات عطا فرمائے۔ آمین۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button