نیب عدالت کا خصوصی اختیار

خصوصی اختیارات کے ذریعے نواز شریف کے گرد گھیرا تنگ!!!
کسے خبر تھی کل کی دختر اول، آج بطور ملزم کٹہرے میں کھڑی ہوں گی، مریم نواز لیگی رہنماوں کے ہمراہ عدالت پہنچیں، چہرے پر مسکراہٹ اور اطمینان، سلام کیا اور بیٹھ گئیں، ساری نظریں مریم نواز پر تھیں، کمرہ عدالت میں موجود صحافی بھی دیکھ رہے تھے کہ شاید کوئی ایسی بات کر دے جس سے ان کی خبر بن جائے، مگر ڈیڑھ گھنٹے کی سماعت میں ایسا موقع نہ ملا، کیس کی کارروائی کا آغاز ہوا، عدالت نے مریم نواز کی حاضری لگائی، نیب نے بتایا کیپٹن صفدر کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم دوملزمان تاحال قانون کے شکنجے سے باہر ہیں، جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے گرفتار کیا اچھی بات ہے قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، نیب پراسیکوٹر نے اعتراض کیا آج تو نواز شریف بھی نہیں آئے، وکیل دفاع خواجہ حارث نے غیر حاضری کا خوب دفاع کیا اور سماعت پندرہ روز کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست دائر کردی، موقف اپنایا بیگم کلثوم نواز بیمار ہیں، سابق وزیراعظم کو اچانک لندن جانا پڑا، آج حاضری سے استثنی کی درخواست بھی منظور کی جائے، جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے ملزم کو جانے سے پہلے عالت کو بتانا چاہیے تھا، نیب نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا عدم حاضری پر ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، جبکہ کیپٹن صفدر کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے، کیونکہ گرفتاری کے بعد ڈویژن بنچ  ہی ضمانت پر رہا کرسکتا ہے، تاہم عدالت نے نیب کی استدعا مسترد کردی، اور ملزمان کو ہدایت کی آئندہ عدالت کو آگاہ کرکے بیرون ملک جائیں، یوں کیپٹن صفدر کو رہائی نصیب ہوئی، کمرہ عدالت میں موجود لیگی رہنما مریم نواز کے اردگرد کھڑے رہے، دوران سماعت وقفہ ہوا تو کسی نے محترمہ کو چیونگم کا تحفہ دیا تو کوئی کمرہ عدالت کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے سیلفی لیتا رہا، مگر مریم نواز جب بھی محو گفتگو ہوئیں تو صرف پرویز رشید یا آصف کرمانی کے ساتھ ہوئیں،ایک بار پھر سماعت کا آغاز ہوا، آواز لگائی گئی، جج کمرہ عدالت میں واپس آئے، سب کھڑے ہوگئے، عدالت نے پوچھا کہ اب نواز شریف کب پیش ہونگے،  خواجہ حارث نے بتایا پندرہ دن کا وقت دیا جائے، عدالت نے قرار دیا اتنا وقت نہیں دیا جاسکتا، آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کی جائے گی، جج نے بتایا نیب قانون کی شق سترہ سی خصوصی اختیارات دیتی ہے، تحریری وجہ لکھ کر کوئی حکم دیا جا سکتا ہے، اس لیے عدالت سترہ سی کے تحت ملزم نواز شریف کی عدم موجودگی میں بھی فرد جرم عائد کردے گی، نیب نے کہا فرد جرم میں تاخیر کے لیے حربے استعمال کیے جارہے ہیں، جج محمد بشیر وکیل دفاع سے مخاطب ہوئے اور کہا یہ کیا مسئلہ  ہے ایک ملزم آتا ہے دوسرا باہر چلا جاتا ہے، اس مسئلے  کا آخر حل کیا ہے، وکیل صفائی نے کہا مجبوری کے تحت باہر جانا پڑا، ایک موقع اور دیں پھر بھی یہ معاملہ ہو تو عدالت فیصلہ کرے، جج نے کہا آئندہ سماعت پر آ گئے تو ٹھیک ورنہ عدم حاضری پر ملزم کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کردی جائے گی، عدالت نے قرار دیا ملزمان حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف ضابطہ فوجداری کی شق ستاسی کی کارروائی شروع کردی گئی ہے، اور تفتیشی افسران کے بیانات قلمبند کیے جس کے بعد اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا باضاطبہ آغاز ہوگیا۔۔۔ اور دونوں کا ٹرائل الگ کرنے کا فیصلہ سنا دیا، مریم نواز کمرہ عدالت سے باہر آئیں تو ایک بار پھر پورے احتساب کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور چل دیں، وہاں پر موجود دیگر ساتھیوں سے بات ہوئی تو زیادہ تر متفق پائے گئے آج نیب کا دن تھا، غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ اس پلان کو تباہ کردے گا جو نواز شریف کے مخالفین کے مطابق مبینہ طور پر ٹرائل کو لٹکانے کی کوشش لگ رہا تھا _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button