ترین نے اپنی زمین کیوں بیچی

سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت چار دن کے وقفے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو روسٹرم پر جہانگیر ترین کے وکیل کی بجائے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کھڑے ہوگئے، نعیم بخاری نے بتایا کہ نئی متفرق درخواست کے ذریعے عمران خان کی جانب سے جمائمہ خان کو قرض کی پانچ لاکھ باسٹھ ہزار پاونڈز کی رقم ادا کرنے کی دستاویز جمع کرا دی گئی ہیں، بنی گالہ اراضی کی تعمیر کے نقشے کی رقم سابق اہلیہ نے لندن سے عمران خان کو بھیجی تھی، نقشہ مسترد ہونے پر نقشی نویس نے رقم واپس کر دی تھی،جو بعد میں سابق اہلیہ کو لندن واپس بھیج دی گئی،چیف جسٹس نے نقطہ اٹھایا یہ دستاویز پہلے پیش کر دی جاتی تو درخواست گزار کو دستاویز پر اعتراض اٹھانے کا پورا موقع میسر آتا،درخواست گزار کی جانب سے پہلے سے جمع دستاویز پر سوال اٹھائے گئے ہیں، وکیل نے کہا کے دستاویز پر اعتراض کے اصول کا اطلاق دونوں فریقین پر مساوی ہو گا ،لندن فلیٹ کی خریداری سے درخواست گزار کو کوئی تعلق نہیں تھا،ان کا ممقدمہ آف شور کمپنی کو ظاہر نہ کرنے کا ہے،جو الزام درخواست میں لگائے گئے ان کی جوابی دستاویز جمع کرا دی ہیں،چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کیا عمران خان نے 2003 سے 2007 تک نیازی سروسز کے اکاونٹ میں پڑے ایک لاکھ پاونڈز کی رقم گوشواروں میں ظاہر کیںِ نعیم بخاری نے کہا نیازی سروسز کے اکاونٹ میں پڑی رقم عمران خان کی نہیں تھی،یہ رقم لندن فلیٹ کی قانونی چارہ جوئی پر خرچ ہو گئی تھی،نیازی سرسز کمپنی اکاونٹ کا مکمل ریکارڈ نہیں مل سکا ،۔چیف جسٹس نے کہا وہ ریکارڈ مل جا تا ہے جو حق میں ہے جو حق میں نہیں وہ ریکارڈ نہیں ملتا،حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا عدالت عمران خان کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرے،عدالتی نوٹس پر جواب داخل کیا جائے گا،عدالت نے اکرم شیخ کی استدعا پر نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ،اس کے بعد جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل کا آغاز کیا ،انہوں نے کہا کہ زمین لیز پر لینے کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا،وقت کی کمنی کے سبب قانونی طریقہ کار سے جمع نہیں کرا یا جا سکا،جہانگیر ترین 1978 سے کاشت کاری کر رہے ہیں،سال سو ہزار دو میں ان کے موکل نےبیس ہزار ایکڑ زمین لیز پر حاصل کی،سال دو ہزار گیارہ تک لیز زمین بیس ہزار ایکڑ تک پہنچ گئی،جہانگیر ترین نے زرعی زمین پر گنا،آم اور کپاس کی فصل کاشت کی،انہوں نے بتایا کہ جہانگیر ترین کی اٹھارہ ہزار ایکڑ لیز زمین ایک سو پچاس کلومیٹر کے دائرہ کار میں آتی ہیں،اس موقع پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے نقطہ اٹھایا کہ اگر جہانگیر ترین کو زرعی زمین سے اتنی آمدن تھی تو انہوں نے اپنی ذاتی زمین سے دو سو ایکڑ کیوں فروخت کر دیے،وکیل سکندر بشیر مہمند نے بتایا کہ جو زمین فروخت کی وہ لودھراں میں تھی،جہانگیر ترین نے ماڈرن ایگری فارمنگ کا آغاز کیا ،چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ زمین لیز پر لینے کے معائدے رجسٹرڈ شدہ نہیں،جسٹس عمر عطاء بندیال نے سوال اٹھایا ہے کہ زمین لیز کا محکمہ مال ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، سوال یہ بھی اٹھتا ہے جن سے زمین لیز کے معائدے کیے گئے کیا وہ اصل مالک تھے یا نہیں؟ وکیل سکند بشیر نے کہا جن مالکان سے زمین لیز پر لی گئی ان کو کراس چیک کے ذریعے ادائیگیاں کی گئیں،زمین لیز پر دینے والے مالکان کے بیان حلفی بھی پیش کیے جاسکتے ہیں،زرعی زمین پر کاشت فصل سے آمدن کا بھی بنک ریکارڈ موجود ہیں،چیف جسٹس نے کہا مالکان کے بیان حلفی ہی کیوں،محکمی مال کا ریکارڈ کیوں نہ دیکھا جائے،محکمہ مال میں زرعی زمین کے اصل مالک اور کاشف فصل کا مکمل ریکارڈ رکھا جاتا ہے،محکمہ مال کا ریکارڈ دیں ہو سکتا ہے اس کی تصدیق متعلقہ محکمہ مال کے آفیسر سے کرائیں،عدا لت کو لیز زمین کی تصدیق کے لیے محکمہ مال کی دستاویز مثلا خسرہ گرداوری اور جمع بندی درکار ہیں،وکیل سکند بشیر نے کہا محکمہ مال کا ریکارڈ بھی حاصل کرکے فراہم کیا جا سکتا ہے لیکن جہاں زمین لیز پر لی گئی وہاں ایشو یہ ہے کہ مالکان محکمہ مال کے ریکارڈ میں زمین لیز کو ظاہر نہیں کرتے کیونکہ لیز پر زمین لینے چند سال بعد اس زمین پر قابض ہو جاتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا لیز معائدوں میں نہیں لکھا کہ زمین کا کھاتہ نمبر ،موضع نہیں لکھا گیا ،مطمعن کیا جائے کہ زمین لیز دینے والے مالک اصل تھے،وکیل نے کہا ان کے موکل نے لیز زمین کی ایک ارب نوے لاکھ کی ادائیگی بزریعہ چیک کی،جو ثبوت ہے کہ زمین لیز پر حاصل کی گئی تھی،چیف جسٹس نے کہا اس موقع پر کراس چیک کے زریعے ادائیگیوں کی اہمیت نہیں،عدالت محکمہ مال کا ریکارڈ دیکھنا چاہتی ہیں،۔کراس چیک کے ذریعے ادائیگیوں پر عدالتی آبزرویشنز آپ کے موکل کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے،ممکن ہے کہ کسی کا شناختی کارڈ لیکر لیز معائدے لکھا گیا ہو ،عدالت کے استفار پر وکیل جہانگیر ترین نے بتایا کہ لیز زرعی زمین سے ان کے موکل کو فی ایکڑ بائیس ہزار روپے آمدن ہوئی،جہانگیرترین خان ہر چیز کا مکمل ریکارڈ رکھتے ہیں،زرعی ٹیکس کے معاملہ پر ان کے موکل کو آرٹیکل باسٹھ ون ایف پر نا اہل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پنجاب میں زرعی آمدن کی اسسمنٹ کا طریقہ کار موجود نہیں،نظام میں غلطی کاقصوروار ان کے موکل کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ،مقدمہ کی مزید سماعت کل گیارہ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

متعلقہ مضامین