ڈار ریفرنس میں ریکارڈ ٹمپرنگ

احتساب عدالت وہ عدالت جو کچھ روز تک اسلام آباد کے صحافیوں کے لیے نو گو ایریا بنتی جارہی تھی، مگر گزرتے وقت کے ساتھ روک ٹوک کم ہوئی تو صحافیوں کا دل بھی بھر گیا، اب سب کو اجازت ملی تو صحافی باہر بیٹھ کر انتظار کرنے لگے کہ جو دوست اندر ہیں وہ باہر آئیں اور انہیں بھی بتائیں تاکہ وہ بھی ٹکرز لکھا دیں، خیبر معاملہ اسحاق ڈار کی پیشی کا تھا، آج تو وزیر صاحب صبح صبح ہی عدالت پہنچ گئے، آتے کیوں نہ آخر عدالت نے گزشتہ پیشی پر وقت پر آنے کی تنبیہ جو کررکھی تھی، سماعت شروع ہوئی تو استغاثہ نے دوسرے گواہ کو پیش کردیا، طارق جاوید کا تعلق لاہور کے نجی بینک سے تھا، بیان میں کہا تبسم اسحاق ڈار سمیت اسحاق ڈار کی 8 کمپنیوں کے بنک اکاونٹس کھولے گئے، وکیل صفائی نے اعتراض پر اعتراض کا کارڈ کھیلا تو گواہ تھوڑا پریشان ہوگئے، خواجہ حارث نے جرح کی تو مرکزی نقطہ گواہ کو غیر متعلقہ ثابت کرنا تھا، سوالات کے جواب پر گواہ نے بتایا عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات نہ تو خود تیار کیں، نہ اس کے سامنے تیار ہوئی، حتی کہ تیار کس نے کیں یہ بھی نہیں معلوم، عدالت نے دوسرے گواہ کو طلب کیا، تو شاید عزہز نے بیان دیا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے 2015 میں 12 کروڑ روپے کی اسلامی سرمایہ کاری کی، جنوری دوہزار سترہ میں 15 کروڑ روپے کی رقم واپس لے لی، یوں انہیں تین کروڑ روپے کا منافع بھی ہوا، بیان قلمبند ہوا تو اصل امتحان شروع ہوا، ایک کے بعد دوسرا سوال، خواجہ حارث جارحانہ موڈ میں نظر آئے، ایسے میں گواہ کی دی ہوئی دستاویز انہیں تھماتے ہوئے پوچھا اس دستاویزات میں لاہور پھر اسلام آباد اور پھر لاہور کی مہر کیوں لگائی گئی ہے، گواہ نے بتایا یہ اسلام آباد میں تیار ہوئی، کاربن کاپی کراچی بھیجی گئی، کاربن کاپی سے تیار کردہ تصدیق شدہ کاپی عدالت کو فراہم کی ہے، جس پر فاضل جج بولے کیا معاملہ ہے پہلے لاہور پھر اسلام آباد اور پھر لاہور، تو خواجہ حارث بولے جج صاحب یہ تو فراڈ ہے، دستاویز میں ٹمپرنگ کی گئی ہے، یہ سننے کی دیر تھی لیگی رہنماوں کے چہرے کھل گئے، ایک خاتون وزیر تو اتنی پرجوش ہوئیں کمرہ عدالت میں موجود ایک ایک رپورٹر کو جاکر بتایا نقلی دستاویزات پھڑیاں گیاں نے (جعلی دستاویزات پکڑی گئیں)،  سخت جرح کے بعد گواہ بھی تھوڑا اکتا سا گئے، خیر وکیل صفائی نے جرح کا اختتام کرتے ہوئے کہا دستاویزات میں ٹمپرنگ کی گئی اور موجودہ گواہ کا جمع کرائی گئی دستاویزات سے تعلق بھی ثابت نہیں ہوا، عدالت نے استغاثہ کے نئے گواہ مسعود غنی کے سمن جاری کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو بھی ہدایت کی کہ 16 اکتوبر کو وہ بھی حاضری کو یقینی بنائیں، وزیرخزانہ کی چوتھی پیشی طویل ہوتے ہوتے 8 گھنٹے تک جا پہنچی، ڈاکڑ طارق فضل چوہدری پر نیند غالب ہوئی تاہم جج سمیت سب کی نظریں اور کان اچانک آخری بینچ پر لگ گئیں کیونکہ وہاں پر ایک وکیل صاحب خوب خراٹے مار کرنیند پوری کر رہے تھے، سب نے مسکرانے پر اکتفا کیا اور موصوف کی نیند میں خلل نہ ڈالا، جوں جوں سماعت طویل ہوتی گئی سونے والوں کے کلب میں اضافہ ہوتا چلا گیا، حتی کے ملزم بھی اونگھنے لگے، اور تو اور جو رپورٹرز کچھ دنوں تک احتساب عدالت میں داخلے کے لیے احتجاج تک کرتے تھے، وہ بھی نیند کے ہاتھوں شکست کھا کر واپس ہولیے، یوں اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت اختتام پذیر ہوگئی!!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے