عدالتی حملے کا ماسٹر مائنڈ

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف تو حاضر نہ ہوئے اور ان کے فرمانبردار  بیٹوں نے حسب معمول موقف اپنایا کہ وہ پاکستانی قانون سے بالاتر ہیں اور فخر سے کہتے ہیں انہوں نے ملکہ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کہنے کو تو میاں بیوی ہیں لیکن دونوں کا ایک ہی وقت میں ایک ہی عدالت میں ایک ہی کیس میں الگ الگ پیش ہونا اور ایک دوسرے کو سلام تک کرنا گوارا نہ کرنا جہاں کئی سوالات کو جنم دیتا ہے وہیں بہت سے سوالات کے جواب بھی فراہم کرتا ہے۔
ماضی کے پریمی جوڑے یعنی Love Birds کی موجودگی میں وکلاء نے عدالت میں اودھم مچایا، سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔ اس سب تماشے اور ن لیگ کی جانب سے عدالت پر دوسری بار حملہ آور ہونے کے پیچھے کون تھا اس راز پر سے بھی پردہ اٹھا ہی دیتے ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ میاں صاحب کو مشورہ دیا گیا انہی مشیروں کی جانب سے جن کی نشاندہی شہباز شریف صاحب اپنی تقریر میں کر چکے ہیں، مشورہ یہ تھا کہ میاں صاحب ‘تُن کے رکھو’ اور اس پر عملدرآمد کیلئے منصوبہ بندی گزشتہ ماہ رائے ونڈ فارم میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں مکمل کر لی گئی تھی۔ منصوبے پر عمل کرتے ہوئے پہلے تو رینجرز کو احتساب عدالت سے ہٹوایا گیا کیونکہ رینجرز کی موجودگی میں ایسے ڈرامے لگانا یا انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہ تھا، رینجرز کی بے وقوفی نے بھی منصوبے کی پہلی قسط کو مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
میاں صاحب اور مریم پر فرد جرم عائد نہ ہونے پائے اس مقصد کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئیں اور گزشتہ رات پنجاب ہائوس میں کیپٹن صفدر کی زیر نگرانی وکلاء کے دو جتھے تیار کیے گئے ایک کی ڈیوٹی مریم نواز اور دوسرے کی خود کیپٹن صاحب کے ساتھ لگائی گئی۔ لیگی کارکنوں اور وکلاء کے لباس میں موجود "چند افراد” نے عدالت میں نعرے بازی کی اور میاں بیوی کی موجودگی میں اعلان کر دیا کہ آج کارروائی نہیں ہونے دی جائے گی۔ جج صاحب آئے اور حالات کشیدہ ہوتے دیکھ کر چیمبر میں چلے گئے ، یوں فرد جرم تو ٹل گئی لیکن بہت کچھ عیاں ہوگیا۔
منصوبہ جو بنا رائے ونڈ فارم میں اور عملی جامے کیلئے پنجاب ہائوس میں تیاری مکمل ہوئی، اس کے تحت طے یہ تھا کہ جج صاحب نے اگر فورس بالخصوص رینجرز کو بلایا تو دو دو ہاتھ کیے جائیں گے رینجرز کے ساتھ ساتھ خود جج صاحب کے ساتھ بھی اور سماعت ملتوی نہ کرنے یا شور کرنے والوں کو باہر نکالے جانے پر جج صاحب پر حملہ آور ہونے سمیت انہیں ننگی گالیاں نکالی جانی تھیں اور رینجرز یا جج صاحب کے ساتھ دست درازی کا جواب تو یقینی طور پر سکیورٹی اہلکاروں نے دینا ہی تھا تو اس جوابی کارروائی کو احسن اقبال ڈرامے کی دوسری اور سنگین قسط بنا کر پیش کیا جانا تھا۔ خطرناک ارادوں میں کسی کارکن کی جانب سے مریم نواز کو دھکا دینے یا سر سے چادر کھینچنا بھی شامل تھا لیکن سماعت ملتوی ہوگئی اور ایسا ہو نہ سکا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں گروپس کو بعد میں بیگم صاحبہ نے اپنی بیٹی کے سسرال بلوا کر well done میرے شیرو کہا اور خاطر تواضع بھی کی۔ 1997 میں شروع ہونے والے اس سلسلے کی دوسری قسط 2017 میں دیکھنے کو ملی تاہم یہ سلسلہ آئندہ پیشیوں پر بھی جاری رہے گا۔ ڈرامے کی آخری قسط سے پہلے یقینی طور پر اس کی پروڈکشن ٹیم "اندر ” یا پھر "باہر ” ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button