ن لیگ کو یہ مشورہ کس نے دیا

ن لیگ کا بیس سالہ سفر، پایا کم، کھویا زیادہ، مگر سیکھا کچھ نہیں، 1997 سے 2017 کی کہانی، بدلہ کچھ بھی نہیں، قیادت نواز شریف سے مریم نواز کو منتقل ہو رہی ہے، مگر پالیسی وہی نوے کی دہائی کی، احتساب عدالت میں کیا نہیں ہوا، کون سا نعرہ نہیں لگا، سب کچھ تو ہوا، سپریم کورٹ کے پانامہ فیصلے پر ایک فیصلہ تاریخ دے گی، ٹھیک اسی طرح وکلاء کی احتساب عدالت میں ہلڑبازی کے مقدمے کا فیصلہ بھی وقت نے محفوظ کرلیا، جو ہرروز، ہر وقت، جہاں جہاں لیگی قیادت جائے گی، فیصلہ سنایا جائے گا،خیر ہوا کچھ یوں کہ معمول کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس پہنچا تو ماحول ذرا مختلف تھا، مکمل تلاشی کے بعد کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ملی، دیکھا دائیں ہاتھ پر لگے بینچ پر ن لیگ کے حامی وکلاء براجمان تھے، پولیس اہلکار نے باہر جانے کو درخواست کی مگر قانون کے رکھوالوں نے یکسر مسترد کردی، وقت گزرا کیپٹن صفدر عدالت پہنچے، نشست پر بیٹھے شخص سے پوچھا آئی ایس آئی کے ہو یا پھر تعلق ایم آئی سے ہے، وکلاء نے اس شخص کو اٹھا دیا۔ ایسے میں لیگی رہنما انجم عقیل سمیت کچھ جوشیلے وکلاء کمرہ عدالت کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوئے تو آواز گونجی ’’کارروائی کا بائیکاٹ ہوگا، کاروائی نہیں چلنے دی جائے گی‘‘ ۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے کمرہ عدالت کا پارہ چڑھنے لگا، آوازیں بلند ہونے لگیں،بھاری بھرکم دلائل کے بجائے بلند آوازیں گونجنے لگیں، شور شرابا جاری تھا، وکلاء بائیکاٹ کرانے پر تلے تھے ۔پولیس افسران پر اندارج مقدمہ کے مطالبات ، نعرے اور ہلڑ بازی ۔۔مریم نواز کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں تو وکلاء کا دوسرا ریلا بھی اندر تھا ۔۔ جج نشست پرآ کر براجمان ہوئے تو لگا کہ شاید اب حالات سنبھل جائیں گے لیکن لیگی وکلا کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ایڈووکیٹ جہانگیر جدون جج سے مخاطب ہوئے ’’ہم پر ڈنڈے برسائے گئے‘‘ خاتون وکیل نے کہا ’’میرے کپڑے پھاڑے گئے‘‘ فرید ایڈووکیٹ چلائے ’’میرا تو سر ہی پھوڑ دیا گیا ایسا تو کبھی مشرف مارشل لاء میں بھی نہ ہوا تھا‘‘ احتساب عدالت کے جج بات سن رہے تھے ۔ اچانک مسلم لیگ ن لائرونگ پنچاب کے صدر صدیق اعوان آگے بڑھے اور نیب پراسیکوٹر سردار مظفر کو ڈائس سے ہٹانے کی کوشش کی ۔ جب وہ نہ ہٹے تو دھکے دینا شروع کردیے، حالات بگڑنے لگے تو جج صاحب نے چیمبر جانے میں ہی عافیت سمجھی ۔۔ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ بھی کمرہ عدالت سے محفوظ جگہ پہنچادیا گیا۔۔ وکلاء نے آواز لگائی سماعت ملتوی ہوگئی ہے، سب چلو، تاہم مریم نواز اور کیپٹن صفدر اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ جب سماعت ملتوی ہونے کا حتمی اعلان ہوا تو وہ بھی اٹھ کر چل دیے مگر اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئے۔ آخر یہ سب کیونکر ہوا، کس کے کہنے پر ہوا، کیا فرد جرم موخر کرانے کی منصوبہ بندی تھی؟ ساری ہلڑ بازی کا ن لیگ کو فائدہ ہوا یا ایک بار پھر تاریخ کے کٹہرے میں آن کھڑی ہوئی۔، اگر مقصد صرف فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو سبوتاژ کرنا تھا تو ن لیگ کو کامیابی مبارک۔ مگر یہ مبینہ منصوبہ کامیاب کس نے ہونے دیا، پولیس کو وکلاء نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ دکھایا تھا تو پھر انہوں نے داخلے کی اجازت کیوں نہ دی۔ اگر اجازت دے دیتے تو مار کٹائی کی نوبت نہ آتی، اور یہ جواز نہ ہوتا تو بائیکاٹ کا مطالبہ بھی سامنے نہ آتا، اس لیے تحقیقات کی ضرورت ہے کہ مبینہ منصوبے کو کامیاب بنانے والے کون ہیں، پلان کی کامیابی کا سفر مارکٹائی سے آگے بڑھا ، بات ہاتھا پائی تک آئی، پولیس کو کالے کوٹ کے سامنے پسپائی اختیار کرنا پڑی،اور یوں فرد جرم کی کارروائی روکنے کا مبینہ منصوبہ کامیاب لیکن ن لیگ جیت کر بھی ہار گئی۔ تاریخ کا بھی یہی سبق ہے۔ ماضی کے جھرنکوں سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے ایسے ہتھکنڈوں سے جیتنے والے وقت کے ہاتھوں ہار گئے ۔ ن لیگ بھی بظاہر آج کامیاب رہی، فرد جرم کی بلا وقتی طور پر ٹل گئی، مگر کیسی کامیابی ابھی تو سپریم کورٹ حملے کے داغ نہیں دھلے تھے کہ اک نئی کالک کا جھومر ماتھے پر سجا لیا جو اب پورے سیاسی سفر میں مریم نواز کا آسیب کی طرح پیچھا کرتا رہے گا۔ جانے ن لیگ کو یہ مشورہ کس نے دیا تھا!!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے