غیرقانونی چوکی

مثالی پولیس کے مثالی کارنامے سامنے آ رہے ہیں۔ شہر میں پولیس کی چوکی بھی غیر قانونی طریقے سے بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پہلے پولیس نے غیرقانونی طریقے سے ایک کورین سفارتکار کے گھر سے چوری کی، پھر وہاں سے چرائی گئی شراب کی بوتلیں ایک ایسی پولیس چوکی میں چھپانے کا معاملہ سامنے آیا جس کا ریکارڈ میں وجود نہیں۔
شہر میں پولیس کی غیرقانونی سرگرمیوں کیلئے میدان کھلاہے کیونکہ اسلام آباد میں بھرتی کیے گئے زیادہ تر پولیس ملازمین بڑی بڑی سفارشوں سے آئے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ افسران نے کمائی بھی کرنا ہوتی ہے۔ معلوم ہواہے کہ شہرکے پوش سیکٹر ایف الیون میں رہائشیوں کی سہولت کیلئے کمیونٹی سنٹر قائم کیا گیاتھا مگر اسلام آباد پولیس کے چند اہلکاروں نے کچھ افسران کو ساتھ ملاکر اسے پولیس چوکی بنادیا جبکہ ریکارڈ میں ایسا کہیں موجود نہیں۔ معلوم ہواہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے کمیونٹی سنٹر کو پولیس چوکی میں تبدیل کیا گیا اور اعلی افسران نے سفارش پر ملزم اے ایس آئی آصف کو انچارج لگایا۔ملزم آصف نے سفارتکار کے گھر سے چوری شدہ شراب شالیمار پولیس چوکی میں چھپائی مگر جب چھاپہ میں یہ برآمد ہوئی تو افسرا ن کی چوکی کے قیام سے لاعلمی سامنے آئی، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایس ایس پی آپریشنز نے با اثر شخص کی سفارش پر آصف کو انچارج لگایا۔ جب سے چرائی گئی شراب مذکورہ چوکی سے برآمد ہوئی ہے،غیر قانونی چوکی کو واقعے کے بعد سے تالے لگا دئیے گئے۔ اسلام آبادپولیس میں موجود ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی دارالحکومت کے کسی بھی سیکٹر میں پولیس چوکی قائم نہیں ہے، شہریوں کی سہولت کے لئے کمیونٹی سنٹر قائم کئے گئے ہیں اور اب غیر فعال کمیونٹی سنٹرز کو پولیس اہلکار غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے اعلی افسران نے ابھی تک اس غیر قانونی چوکی کے معاملے پر لب کشائی نہیں کی کہ یہ کب اور کیسے بنی؟۔ اور کیا اس کو استعمال کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی؟۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے